Home نقدوتبصرہ طب نبوی : تجزیہ اور تفہیم – محمد رضی الاسلام ندوی

طب نبوی : تجزیہ اور تفہیم – محمد رضی الاسلام ندوی

by قندیل

طب نبوی پر لکھنے کی عرصہ سے خواہش تھی – کچھ مضامین لکھے اور کچھ سوالات کے جوابات دیے ، لیکن باقاعدہ مطالعہ کا موقع ملا نہ تفصیل سے لکھنے کا – حال میں محمدیہ طبیہ کالج مالیگاؤں (مہاراشٹر) میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس 11 – 12 دسمبر 2023 کی وجہ سے یہ موقع مل گیا – کانفرنس کے آرگنائزرس نے خواہش کی کہ میں اس کے ابتدائی اجلاس میں شرکت کروں اور موضوع کے دینی اور فنّی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کروں – میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تفصیل سے اس موضوع کا مطالعہ کیا اور حاصلِ مطالعہ کو ایک مضمون کی صورت میں تحریر کیا ، جو سہ ماہی تحقیقات اسلامی علی گڑھ ،جنوری – مارچ 2024 میں طبع ہوا ہے –

میرا خیال ہے کہ طب نبوی کا مطالعہ عموماً صحیح تناظر میں نہیں کیا گیا ہے – چوں کہ اس کا تعلق پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ذاتِ گرامی سے ہے ، اس لیے عقیدت غالب رہی ہے اور بہت زیادہ غلو سے کام لیا گیا ہے – میں نے اپنے مقالے میں درج ذیل نکات پر بحث کی ہے :

(1) ابتدا میں صحت و مرض اور علاج معالجہ سے متعلق رسول اکرم ﷺ کے ارشادات دوسرے ارشادات کی طرح جمع کیے گئے اور کتابوں میں نقل کئے گئے – تیسری چوتھی صدی ہجری کے بعد طب نبوی پر مستقبل کتابیں لکھی جانے لگیں –

(2) یہ وہ زمانہ تھا جب دیگر تہذیبوں اور ممالک میں رائج طبی معلومات کا عربی زبان میں ترجمہ ہوچکا تھا اور مسلم اطباء نے بھی اس فن میں اہم خدمات انجام دی تھیں ، چنانچہ طب نبوی پر کتابیں اسی نہج (Pattern) پر لکھی جانے لگیں اور اس میں دست یاب طبی کتب کے حوالے دیے جانے لگے –

(3) علماء میں یہ بحث زور دار طریقے سے ہوئی کہ طب نبوی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ابن قیم جیسے محدثین نے اسے از قبیلِ وحی قرار دیا تو ابن خلدون ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور دیگر نے اسے انسانی تجربات پر مبنی قرار دیا – جائزہ سے دوسری بات معقول معلوم ہوتی ہے –

(4) طب نبوی میں مذکور بعض طریق ہائے علاج ، مثلاً حجامہ وغیرہ کو ‘سنّت’ کہا جاتا ہے ، جب کہ یہ درست نہیں ہے – ‘سنّت’ ایک شرعی اصطلاح ہے – اس پر عمل کرنا باعثِ اجر و ثواب ہوتا ہے – علماء نے کسی نبوی طریقۂ علاج کو اختیار کرنے کو صرف مباح قرار دیا ہے – اسے مستحب یا مسنون کہنا درست نہیں –

(5) نبی ﷺ کا امتیاز یہ ہے کہ آپ نے امراض کا ازالہ جھاڑ پھونک ، ٹونا ٹوٹکا سے کروانے کے بجائے علاج کروانے اور دوا استعمال کرنے پر زور دیا – آپ نے بیمار ہونے پر خود دوائیں لیں، اپنے اصحاب کے لیے دوائیں تجویز کیں اور ماہر اطبا سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا –

(6) اللہ کے رسول ﷺ نے صحت کی حفاظت پر بہت زور دیا ، اس کی تدابیر بتائیں ، طہارت و نظافت کی تاکید کی ، گھروں اور ان کے اطراف کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھنے کا حکم دیا – یہ چیز بھی طب نبوی کے امتیازات میں سے ہے –

(7) نبی ﷺ نے فرمایا :” ہر مرض کا علاج ممکن ہے – “ اس ارشاد نے مریضوں کو مایوسی سے نکالا اور اطبا کو بھی نئے اور پیچیدہ امراض کا علاج دریافت کرنے پر آمادہ کیا – یہ ارشادِ نبوی طبی دنیا میں ایک انتہائی اہم ، قیمتی اور رہ نما اصول کی حیثیت رکھتا ہے – اس نے طب میں ایک انقلاب برپا کردیا –

(8) طب نبوی کا مطالعہ صحیح تناظر میں کیا جانا چاہیے – اس سلسلے زبان و بیان ، اسلوب اور پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے – مثلاً اگر ‘حبّۃ سودا (کلونجی) کے بارے میں حدیث میں مذکور ہے کہ وہ ہر مرض کی دوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ذریعے دنیا کے ہر مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت مفید اور مؤثر دوا ہے –

(9) اللہ کے رسول کی بتائی ہوئی بعض دوائیں مخصوص افراد یا مخصوص ماحول کے لیے ہوسکتی ہیں – یہ بات علامہ ابن قیم اور دیگر محدثین نے صراحت سے کہی ہے – اس لیے انہیں عمومی رخ دینے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے –

(10) طب نبوی میں مذکور دواؤں کی خاصیات بتانے میں بلند بانگ دعوے کرنے سے بچنا چاہیے ، بلکہ سائنسی بنیادوں پر تحقیق و تفتیش کے بعد ہی علمی طور پر انہیں پیش کرنا چاہیے –

برادر عزیز محمد اسعد فلاحی کا شکریہ کہ انھوں نے تحقیقات اسلامی میں شائع شدہ اس مضمون میں ٹائٹل شامل کرکے اسے کتابچہ کی شکل دے دی –

You may also like