تاریخ کے واقعات ماضی کی داستان ہی نہیں،عبرت آموز اسباق بھی ہیں ـ مسعود جاوید

تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ ذاتی شوق کی بنا پر ہو یا نصاب تعلیم کے لازمی یا اختیاری مضمون کی حیثیت سے، بلاشبہ ماضی کے خوشگوار واقعات اور تکلیف دہ حادثات سے ہمیں واقف کراتا ہے۔
تاریخ میں موجود اجداد و اسلاف کی سنہرے حروف میں لکھی جانے والی حصولیابیاں اور کارنامے پڑھ کر اور سن کر ہمیں بجا طور پر فخر کا احساس ہوتا ہے لیکن اس کا ایک مفید پہلو یہ بھی ہے کہ ان غلطیوں لغزشوں اور وقتی مفادات کے حق میں لیے گئت فیصلوں اور ان کے برے انجام سے سبق لیتے ہوئے ان غلطیوں کو دہرانے سے احتراز کرتے ہیں۔
کسی قوم ، برادری، قبیلہ کو نیست و نابود کرنے، اس پر ظلم و بربریت کا پہاڑ توڑنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ قوم ختم نہیں ہوتی؛ بلکہ اپنی بچی کھچی تعداد اور اثاثہ کو سمیٹ کر راکھ میں بچی بجھتی چنگاری کے سہارے نئے سرے سے زندگی گزارنے کے وسائل پر محنت کرتی ہے۔
جاپان جنگ عظیم دوم کے بعد کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا تھا، امریکہ اور حلیف طاقتیں جاپان کو عسکریت پسندی اور توسیعی سرگرمیوں کی سزا دے رہی تھیں، مگر امریکہ، برطانیہ، روس اور چین مل کر بھی جاپانیوں کی قوت ارادی سلب نہیں کر پائے۔ انہوں نے کھنڈرات اور ملبوں میں بچی ہوئی چنگاریوں سے اپنے اندر محنت کی آگ سلگائی اور باقی ماندہ مادی وسائل اور ذہنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروے کار لانے کے لئے اپنی ڈکشنری سے Leisure Period وقفہ استراحت مسخ کر دیا۔ اور عدیم النظیر سرعت سے اپنی معیشت کو پہلے سے بہتر بنا لیا۔
پچھلے چھ سالوں سے بالخصوص شہریت ترمیم بل اور قانون کے خلاف مزاحمتی جلسوں کے اسٹیج سے ایک بات بار بار دہرائی گئی کہ ہٹلر کے نقش قدم پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہٹلر نے جنگ عظیم دوم ١٩٤١ سے ١٩٤٥ کے دوران جرمنی اور جرمنی کے تحت یورپین ممالک میں یہودیوں کی نسل کشی کی، ٦٠ لاکھ یہودیوں یعنی یورپ میں موجود دو تہائی یہودیوں کو منظم طور پر قتل کیا گیا۔ ہولوکاسٹ اور گیس چیمبرز اسی نسل کشی میں استعمال ہوئے تھے اور بطور استعارہ آج بھی نسل کشی کے موقع پر استعمال ہوتے ہیں۔ جو یہاں سے بھاگ نکل کر دوسرے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے اور پھر بڑی طاقتوں کی مدد سے فلسطین میں بسائے گئت اور رفتہ رفتہ فلسطینیوں کی زمین غصب کرتے رہے اور ملک اسرائیل بنا لیا۔ ان یہودی پناہ گزینوں نے ہٹلر کی بربریت کی اتنی تشہیر کی کہ پوری دنیا کی ہمدردیاں اپنی جھولی میں ڈال لیں۔ یہودی نسل کشی ہولوکاسٹ اور گیس چیمبرز کی صحیح تعداد یا ریسرچ کے نام پر کوئی سوال اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ اگر کسی نے اس کے خلاف کچھ لکھنے یا بولنے کی جرأت کی تو پوری دنیا خاص طور پر امریکہ و یورپ میں وہ سزا کا مستحق ہوگا۔ مظلوموں کے ساتھ ہمدردی قابل ستائش ہے، امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف پھبتی کسنے کی سزا مقرر ہے، ان کو ابے اوے ، نیگرو ،کالیا کہنا آپ کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے لئے کافی ہے۔ جس طرح ہمارے یہاں دلت اتیاچار قانون کے تحت دلتوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدتمیزی قابل مواخذہ جرم ہے اور لوگ جیل کی ہوا کھاتے رہے ہیں۔ کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہتک آمیز باتیں کرنے والوں کے خلاف بھی کبھی کوئی قانون بنے گا ؟
آمدن بر سر مطلب یہ کہ ہٹلر کے حوالے سے ہمارے مقررین بات کرتے ہیں، صحافی حضرات لکھتے ہیں، لیکن ہمیں اس کی ترغیب نہیں دیتے کہ ایسی سختی اور بے سروسامانی کے باوجود یہودیوں نے ساری توانائی تعلیم اور ریسرچ پر مرکوز کی اور اس قابل ہوگئے کہ نہ صرف اسلحہ سازی بلکہ مختلف میدانوں میں خود کفیل ہی نہیں ترقی پذیر ممالک کو جدید ترین اسلحے اور جنگی لوازمات ایکسپورٹ کرنے لگے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنی ترقی کر لی کہ دوسرے ممالک ان سے حاصل کرتے ہیں۔
جب ہم ہر میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں، ہمارا وجود داؤ پر ہے، تو کیا ضروری ہے کہ راکھ بن جانے کے بعد ہی چنگاری کو بجھنے سے بچانے کی کوشش کریں۔ تاریخ سے سبق لیتے ہوئے ہم ابھی سے ہی اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کے اہل بنانے کے لئے بہار اور مہاراشٹر میں رحمانی ٣٠، جنوبی ہند میں شاہین اور الامین کے طرز پر رہائشی کوچنگ سنٹرز کا جال بچھا دیں۔ نئی نسل کی ترجیحات روایتی گریجویشن پوسٹ گریجویشن ادب جغرافیہ اور تاریخ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی نہ ہو، ان کا مطمح نظر اسپیس ریسرچ،ISRO، عبدالکلام اور بھابھا ہو،جدید ترین پروفیشنل کورسز ہوں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*