دیار حافظ شکاری پور میں سہ روزہ جشن ادب اطفال کی تیاریاں زوروں پر

شکاری پور، شیموگہ:شکاری پور میں اردو زبان و ادب کا منفرد جشن سہ روزہ جشن ادب اطفال کی تیاریاں عروج پر ہیں، اس موقع پر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، دہلی این سی ای آر ٹی سے وابستہ ڈاکٹر امیر حمزہ،جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے متحرک اسکالر ڈاکٹر غلام نبی کمار، قندیل آن لائن کے ایڈیٹر عبدالباری قاسمی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے متحرک اسکالر تجمل حسین راحت کی آمد سے علمی اور ادبی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، اس موقع پر کالج کے طلبا اور طالبات کے ساتھ ان مہمانوں کا تعارفی پروگرام ہوا، اس موقع پر مہمانوں نے طلبا، اساتذہ اور ذمہ داران کی انتھک کوششوں اور محنتوں کو سراہا، نیز مہمانوں نے زندگی میں آگے بڑھنے کے عزم و جنون پر انہیں چند کلمات سے نوازا، اس موقع پر سہ روزہ جشن اور سیمینار کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر امیر حمزہ نے کہا کہ ادب اطفال صرف ورقوں میں نہیں بلکہ یہاں کے متحرک اجسام کی زندگی میں بھرپور دیکھنے کو ملتا ہے، دنیا کا کوئی دوسرا ایسا ادارہ نہیں جہاں بچوں کے ادب سے ایسا پرجوش اور والہانہ عشق دیکھنے کو ملتا ہے، ڈاکٹر غلام نبی کمار نے کہا کہ حافظ کرناٹکی نے ادب اطفال میں عدیم المثال کارنامے انجام دیے ہیں جس کی نظیر وقت حاضر اور مستقبل قریب میں دیکھنے کو نہیں ملتی، عبدالباری قاسمی نے کہا کہ دیار حافظ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حافظ کرناٹکی حافظ صرف ایک ادب اطفال تخلیق کرنے والے شاعرو ادیب کا نام نہیں ہے بلکہ عملی طور پر بھی انہوں نے ادب اطفال کو بچوں کی زندگی کا حصہ بنایا ہے، تجمل حسین راحت نے کہا کہ جو رنگا رنگی حافظ کرناٹکی کے کلام میں ملتا ہے وہی ان کی عملی زندگی میں علمی میدان میں دیکھنے کو ملتا ہے.