اب کوئی دوسرا کمال خان نہیں ہوگا! ـ رویش کمار

انھوں نے نہ صرف صحافت کی نمائندگی نہیں کی، صحافت کے اندر موجود جذبات اور زبان کی نمائندگی نہیں کی بلکہ اپنی رپورٹ کے ذریعے اپنے شہر لکھنؤ اور اپنے ملک ہندوستان کی نمائندگی بھی کی۔ کمال کامطلب پرانا لکھنؤ بھی تھا جس لکھنؤ کو مذہب کے نام پر چلی نفرت کی آندھی نے بدل دیا۔ وہاں کے حکمراں کی زبان بدل گئی۔ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ کسی کوٹھوک دینے یا گولی مار دینے کی زبان بولنے لگے۔ اس دورمیں بھی کمال خان اس امام باڑے کی طرح جمے رہے ، جس کے بغیر لکھنؤ کی سرزمین کاچہرہ ادھورا ہو جاتاہے ۔
کمال خان کو اس لکھنؤ سے الگ کرکے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کمال خان جیسا صحافی صرف کام سے پہچانا گیا، لیکن آج کے لکھنؤ میں ان کی شناخت مذہب سے جوڑی گئی۔ حکومت کے اندر بیٹھے کمزور ارادوں کے لوگ ان سے دوری بنائے رکھتے تھے۔کمال نے اس بات کی تکلیف کو لکھنؤ کے ادب کی طرح سنبھال لیا ۔ دکھایا کم اور ظاہر بھی کم کیا ۔ سوباتوں کے درمیان ایک لائن میں کہہ دیتے تھے کہ آپ توجانتے ہیں۔ میں پوچھوں گا توکہیں گے کہ مسلمان ہے۔ ایک صحافی کو اس کے مذہب کی شناخت میں دھکیلنے کی کوششوں کے درمیان وہ صحافی خود کو عوام کی طرف دھکیلتا رہا۔ ان کی ہر رپورٹ اس بات کی گواہ ہے۔

یہ کمال خان کاحاصل ہے کہ آج انہیں یاد کرتے ہوئے عام ناظرین بھی ان کے کام کو یاد کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں یاد رکھنا کتنا رسمی ہو جاتا ہے لیکن لوگ جس طرح کمال خان کے کام کو یاد کر رہے ہیں، ان کے الگ الگ پیس ٹو کیمرہ اور رپورٹ کے لنک شیئر کررہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمال خان نے اپنے شائقین کو بھی کتنا کچھ دیاہے۔ میں ٹوئٹر پر دیکھ رہا تھا۔ ان کی بےشمار رپورٹ کےحصے شیئرہو رہے تھے۔ یہی کمال خان کاہوناہے۔ یہی ان کے تئیں سچا خراج عقیدت ہےجو لوگ ان کے کام کو شیئر کرنے کے ساتھ دے رہے ہیں۔

اس کام کو کرتے ہوئے ایک کمال خان کو دیکھا اور سنا ہے۔ جسے جاننا بھی ضروری ہےتاکہ معلوم ہو کہ کمال خان احمد فراز اورحبیب جالب کے شعرسنا کر نہیں بن جاتا ہے۔ دومنٹ کی رپورٹ لکھنے کے لیے بھی وہ دن بھر سوچا کرتے تھے۔ دن بھر پڑھا کرتے تھے اور لکھاکرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنےوالے جانتے تھے کہ کمال بھائی ایسے ہی کام کرتےہیں۔ یہ کتنی اچھی بات ہے کہ کوئی اپنے کام کو اتنی دلچسپی اور لگن سے کرے۔ اگر ہم ایودھیا پر ان کی سیکڑوں رپورٹس کو ایک جگہ ایک ساتھ رکھیں تو پتہ چلے گا کہ کمال خان کی پوری اتر پردیش میں الگ ایودھیا تھی۔ اس ایودھیا کے بارے میں فخر کے نام پر نفرت کی آگ میں بھڑکائے ہوئے ایک پریشان ملک سے وہ کتنی آسانی سے بات کر سکتا تھا۔ وہ اپنے اندر ابلتی نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کرتا تھا۔ وہ ڈوب کر تلسی کی رامائن پڑھتا تھا اور گیتا بھی۔ ایسے صحافی نہیں تھے جنہوں نے کہیں سے ایک دو لائنیں چرا کر اپنی رپورٹ کو جان بخشی۔ وہ جانتے تھے کہ یوپی کا سماج مذہب میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاست اس کی بے گناہی کو ایک گرم طوفان میں بدل دیتی ہے۔ اس معاشرے سے بات کرنے کے لیے کمال نے بہت سی مذہبی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا ہوگا، اسی لیے جب کمال خان بولتے تھے تو سننے والا بھی رک جاتا تھا۔ سنتا تھا۔

کیونکہ کمال خان ان کی نظروں سے گزر کر ان کے ذہن میں اتر جاتا تھا اور اپنے ضمیر کو ہلکے پھلکے ہاتھوں سے جھنجھوڑ کر یاد دلاتا تھا کہ اگر ہر چیز کا مطلب محبت اور بھائی چارہ نہیں تو اور کیا ہے۔ اور یہی بات یوپی کے مذہب اور مٹی کے بزرگوں نے بتائی ہے۔ جس اتھارٹی پر کمال خان رام اور کرشن سے متعلق تنازعات کی رپورٹنگ کر سکتے تھے، شاید ہی کوئی ایسا شائستگی سے کر سکے کیونکہ اس کے پاس معلومات تھیں۔ جس کے لیے وہ بہت مطالعہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بنارس جاتے تھے تو بہت سی کتابیں خریدتے تھے۔ گوگل کے پہلے کے زمانے میں جب کمال خان رپورٹنگ کے لیے باہر جاتے تھے تو اس مسئلے سے متعلق کتابیں لے جاتے تھے۔

وہ سخت بھی تھے کیونکہ وہ نظم و ضبط کے پابند تھے۔اس لئے نہ کہہ دیتے تھے۔ وہ ہر بات میں ہاں کہنے والے رپورٹر نہیں ہے۔ کمال خان کا ہاں کہہ دینے کامطلب تھا کہ نیوز روم میں کسی نے راحت کی سانس لی ہے۔ وہ ناجائز یا ضد سے نہ نہیں کہتے تھے بلکہ کسی اسٹوری کو نہ کہنے کے پیچھے کی وجہ کو تفصیل سے سمجھتے تھے ۔ ایسا کرتے ہوئے کمال خان اپنے آس پاس کے لوگوں کو اس اصول کی یاد دلاتے تھے جسے ہر کسی کو یا د رکھنا چاہئے۔ چاہے وہ ایڈیٹرہو یا نیا رپورٹر ۔ رپورٹر اپنی دلیل سے جتنی نہ کہتا ہے، اپنے ادارہ کا اتنا ہی بھلا کرتا ہے کیونکہ ایساکرتےوقت وہ اپنے ادارے کو بھی غلط اورکمزوررپورٹ کرنےسے بچا لیتاہے۔

اب کوئی دوسرا کمال خان نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ ملک اس عمل کو دہرانے کی اخلاقی طاقت کھو چکا ہے جس کے ذریعے ایک کمال خان بنتاہے۔ اس کی مٹی میں اتنے کمزور لوگ ہیں کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں کمال خان پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ورنہ کمال خان کی جس زبان پر ہر دوسرے چینل کی تعریف کی جاتی ہے، ان چینلز میں کوئی نہ کوئی کمال خان ضرور ہوتا۔ کمال خان این ڈی ٹی وی کے چاند تھے، جن کی باتوں میں ستاروں کی چمک تھی، چاندنی کا سکون تھا۔