دی ونگس فاؤنڈیشن معاشرے کو تعلیم یافتہ و بیدار بنانے میں سرگرمِ عمل:خالد مبشر

فاؤنڈیشن کے تین سال مکمل ہونے پر احتسابی نشست کا انعقاد، مختلف امور پر تبادلہ خیال
نئی دہلی:تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ لازمی بنیادی تعلیمی ایکٹ کے باوجود ہمارے ملک میں بہت سے بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ بہتر تعلیم حاصل کیے بغیر زندگی کے میدانوں میں کامیاب ہونا مشکل ہے ۔دی ونگس فاؤ نڈیشن دہلی کے تین سال مکمل ہونے پر آج یہاں ڈائنا نامک انسٹی ٹیوٹ ، بٹلہ ہاؤس میں منعقدہ پروگرام میںفاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر انوار الحق نے مذکورہ باتیں کہیں۔ فاؤنڈیشن کے اغراض ومقاصد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے بچوں کی تعلیم وتربیت ہمارا مشن ہے۔ کیوں کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار بہت خوب نہیں۔ انھوں نے گذشتہ تین برسوں کی کارگزاری پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے فاؤنڈیشن نے درجنوں ایسے بچوں کی تربیت کی جو انگریزی اور اردو میں ٹھیک سے ایک جملہ بھی پیش نہیں کرسکتے تھے ، مگر آج وہ انگریزی میں اچھی طرح مافی الضمیرکی ادائے گی کرپارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ملک گیر سطح پر ایسی ایسی تربیت گاہیں قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں بنیادی تعلیم سے محروم بچوں کو تعلیم فراہم کیا جاسکے۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ دی ونگس فاؤنڈیشن نے بے سروسامانی کے عالم میں بچوں کی جو تربیت کی وہ بے مثال ہے ۔ انھوںنے تجویز پیش کی کہ منظم طریقے سے قوم کے نونہالوں کو نو اُدے ودھیالیہ کے داخلہ امتحان کے لیے تیار کرنا چاہیے ، تاکہ غریب بچوں کو بہترین تعلیم اداروں میں مفت تعلیم مل سکے ۔ دی ونگس فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر جاوید حسن نے بتایا کہ فی الحال ملک کی تین ریاستوں میں فاؤنڈیشن کے تحت تعلیمی مراکز چل رہے ہیں۔ وہاں بچوں کی تعلیم وتربیت کا بہترین نظم کیا جارہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ماہرین تعلیم سے بات چیت ہورہی ہے اور ہم ایک بہترین نصاب تیار کررہے ہیں۔ ڈاکٹر منظرامام نے کہا کہ دی ونگس فاؤنڈیشن جس طریقے سے کام کررہا ہے، اسی طریقے سے متعدد فاؤنڈیشنوں کو بھی کام کرنا چاہیے ، تاکہ ہمارا معاشرہ تعلیم بیدار ہوسکے۔ ڈاکٹر نعمان قیصر نے کہا کہ تعلیم یافتہ افراد پر فرض ہے کہ وہ ملک کے غیر تعلیم یافتہ طبقوں تک تعلیم پہنچائیں ۔ کیوں کہ تعلیم میں ہی ملک وقوم کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے ۔ ان کے علاوہ علی عباس لداخی، قاری مسعود،سہیل غازی، حسنین اشرف، افتخار شیخ نے وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس پروگرام میں ڈاکٹر خان رضوان نجم الدین رحمانی، سارہ خیری، شبانہ ناز، شفق کمال ، محمد نفیس کے علاوہ کثیر تعداد میں سامعین اور تعلیم دوست افراد موجود تھے۔