چار‌ بھائی بہنوں کے سول سروسز امتحان پاس کرنے کی کہانی اور ہمارے کرنے کا کام ۔ اظہارالحق بستوی

استاذ، مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ

اگر عزم جوان ہو، حوصلوں میں اڑان ہو، قوت ارادی میں فولاد جیسی پختگی ہو، شوق میں وارفتگی ہو، بچپن سے ہی ہمت و حوصلہ بڑھایا گیا ہو، والدین اپنی حالتِ عسر و یسر سے قطع نظر بچوں کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ہمت رکھتے ہوں اوربچوں میں بھی کچھ کر گزرنے کاجذبہ و ولولہ ہو تو ایسی صورت میں وہ تاریخ رقم ہوتی ہے جو انہونی سی معلوم ہوتی ہے مگر رقم ہو جاتی ہے ؛ بل کہ دوسروں کو مہمیز کرنے والی اور ان میں ہمت وحوصلہ کا دریا موج زن کرنے والی ہوتی ہے۔
اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس میں

آج کے ماحول میں جب کہ مسلمانان ہند کے احوال دگر گوں ہیں، ان کے شعائر پر حملے ہورہے ہیں، انھیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے مشورے اور منصوبے ہر سطح پر بن رہے ہیں؛ مگر وہ ہیں کہ خوابِ خرگوش میں مست ہیں،اپنے اور اپنی نسلوں کے مستقبل سے بے پرواہ ہیں۔ دینی احوال قابل رحم حد تک تو خراب ہیں ہی دنیوی احوال بھی ناگفتہ بہ ہیں۔ نہ انھیں دنیا سے مطلب رہ گیا ہے اور نہ دین سے۔

دنیوی تعلیم میں بھی بچوں اور بچیوں کی پڑھائی کا تناسب کچھ خاص نہیں ہے اور اگر کچھ پڑھائی ہو بھی رہی ہے تو اس میں معیارکا شدید فقدان ہے۔ اور اگر کہیں کچھ معیار ہے تو بلند وِژن اور سوچ اور رہنمائی نہ کے درجے میں ہے۔ چناں چہ دس دس ضلعوں میں کوئی ایک مسلمان بھی سول سروسز کے امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کرپاتا۔ بڑی بڑی مسلم آبادیوں میں ایک بھی قاعدے کا مسلم ڈاکٹر نہیں رہتا۔ لاکھوں مسلمانوں کی آبادی والی جگہوں میں ایک بھی اچھی مسلم لیڈی ڈاکٹر نہیں ہوتی جس سے باعزت مسلمان اپنی بیویوں، بہنوں اور ماؤں کا علاج کرا سکیں بطور خاص حمل و ولادت کے باب میں۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کے پاس پڑھانے کے لیے پیسے کی کمی ہے بل کہ اصل بات یہ ہے کہ آج ہم مسلمانوں میں کچھ کرگزرنے کا حوصلہ، یا کوئی بڑا خواب دیکھنے کے جذبے کا فقدان ہے۔ ان حالات میں مندرجہ ذیل خبر سے ہم کو سبق لینے کی ضرورت ہے اور منصوبہ بندی کی بھی!

معروف انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس، اسی طرح دیگر اخباروں میں 28/جولائی 2022 کی شائع شدہ خبر کے مطابق پرتاپ گڑھ کے قصبہ لال گنج کے رہنے والے انل مشرا کے دونوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں یعنی چاروں بچوں نے صرف تین سال کے وقفے میں یو پی ایس سی ( یونین پبلک سروس کمیشن یعنی سول سروسز) کے امتحان میں کامیابی حاصل کرلی جن میں سے تین آئی اے ایس افسر ہیں اور ایک لڑکی آئی پی ایس افسر ہے۔ انل مشرا ایک گرامی بینک میں مینیجر ہیں مگر انھوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا۔

بڑا بھائی یوگیش ایک سوفٹ ویر کمپنی نوئیڈا میں ملازم تھا۔ 2013 میں آئی اے ایس بننے سے پہلے ایک بار وہ دہلی میں سِوِل کی تیاری کر رہی اپنی دونوں بہنوں کے پاس رکشا بندھن کے موقع پر راکھی بندھوانے گیا ۔اسی اثنا میں یوپی ایس سی کا نتیجہ بھی آیا تھا جس کو وہ دونوں پاس نہیں کر سکی تھیں۔ اس نے ان کا حوصلہ بڑھایااور مزید محنت کرنے کو کہا۔ ساتھ ہی اس نے خود بھی پُر عزم ہوتے ہوئے کہا کہ : اب وہ خود سب سےپہلے سول کا امتحان پاس کرکے دکھائے گا تاکہ چھوٹے بھائی بہنوں کو اس سے حوصلہ ملے۔ چناں چہ 2013 میں اس نے سول کا امتحان اپنی پہلی ہی کوشش میں پاس کرلیا اور آئی اے ایس افسر بن گیا اور اپنے بھائی بہنوں کے لیےعزم وحوصلہ کی مثال بھی۔پھر اس کی بہن مادھوی نے بھی اگلے سال آئی اے ایس اور رکشھا نے آئی پی ایس کا امتحان پاس کرلیا۔ پھر اگلے سال یعنی 2016 میں چھوٹے بھائی لوکیش نے بھی آئی اے ایس کا امتحان پاس کرلیا۔

انل مشرا کی یہ کہانی ہم مسلمانوں کو جگانے اور جھنجھوڑنے والی ہے۔ ایک چھوٹے سے قصبے کے رہنے والے ایک مقامی بینک کے مینیجر نے کس طرح اپنے بچوں کی تعلیم پر فوکس کیا اور اپنے بچوں کو کامیابی تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اگر انسان ہمت کرلے اور تضییع اوقات سے بچے اور اپنی اولاد کو بچائے تو تاریخ رقم کرسکتاہے۔ انل مشرا فخر وخوشی سے اپنا سینا چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ: مجھے بطور باپ اور کیا چاہیے؟ میرے بچوں نے میرا سر فخر سے اونچا کردیا ہے۔

مسلم والدین کو انل مشرا سے سبق لینا چاہیے اور ابتدا ہی سے بچوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے اور ان کی ذہن سازی کرتے ہوئے اچھے اسکولوں/ تعلیم گاہوں میں تعلیم دلانے کی فکر کرنی چاہیے اور موبائل کی لعنت سے دور کرکے انھیں ایک اچھے مستقبل کی طرف بڑھانے کی فکر کرنی چاہیے۔

بھارت کے مسلمانوں کو اس وقت تعلیم ، اقتصاداور دعوت : ان تین میدانوں میں ہر سطح کی سب سے زیادہ محنت و منصوبہ بندی کی فکر کرنی چاہیے۔ دینی تعلیم تو مثل روح وجان ہے اس کی مکتب اور مدارس کی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کو مزید موثر اور مفید بنانا اور بناتے رہنا چاہیے جس کی ماشاء اللہ ہر جگہ کوشش ہو رہی ہے۔ اس کے دائرہ کار کوبھی وسعت دینے کی بہت ضرورت ہے کیوں کہ روز بروز مدارس کے تئیں بہت سی جگہوں پر لوگوں کی طرف سے بے حسی کا مشاہدہ سامنے آرہا ہے۔ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کے مختلف میدان بطور خاص میڈیکل اور سول سروسز کا میدان بھی ہم سب کی خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ سول سروسز ملک چلانے والے (ایڈمنسٹریشن دیکھنے والے) ممبران کوپیداکرتا ہے جو کہ ملک کی سب سے اہم پوسٹ سمجھی جاتی ہے جس میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کی موجودگی سے ملک و ملت کو بہت فائدہ ہوگا اور اگر فائدہ زیادہ نہ بھی ہو تو ملت اسلامیہ کو نقصان ان شاء اللہ نہیں ہوگا۔اس لیے مسلمانوں کو ملک کی اس سب سے اہم آفس کو حاصل کرنے کے لیے ذہین وفطین اور پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھنے والوں کو تیار کرنے اور صحیح خطوط پر محنت کرانے کی شدید ضرورت ہے۔

مدارس کے فضلاء میں سے بھی اچھے خاصوں کو مطالعے کابہترین ذوق ہوتاہے ۔ اگر وہ بھی بی اے کرنے کے بعد اور مناسب انگریزی زبان سیکھنے کے بعد اس میدان میں کوشش کریں تو ان شاء اللہ خاصی کامیابی ملے گی۔ مدارس کے فضلاء میں ماشاء اللہ صلاحیت کا انبار ہوتاہے اگر ان کی تھوڑی سی رہنمائی ہو جائے اور ذوق مطالعہ والے ذرا سا اس طرف توجہ کرلیں تو ان شاء اللہ یہ مرحلہ ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ فضلاء کی کثیر تعداد اس وقت ماڈرن تعلیم کی طرف تو جاتی ہی ہے مگر اس باب میں بھی ان کی تھوڑی توجہ ہو جائے تو ان شاءاللہ بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔

اس سلسلے میں بنیادی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ گوگل وٹیوب یا یوپی ایس سی کی ویب سائٹ کا سہارا لے سکتے ہیں کہ کس طرح پلاننگ اور تیاری کی جائے۔

ع بلند عزم فلک پر کمند رکھتے ہیں

ان شاء اللہ یہ راقم بھی اس سلسلے میں معلومات جمع کر کے ایک مختصر تحریر لکھنے کی کوشش کرے گا۔