بارگاہِ الہی میں دست نبوت جس کے لیے پھیلے- شہباز نعمانی ندوی

 

اب بہت ہوا، یہ روز روز کا قصہ میں آج تمام ہی کئے دیتا ہوں، اس نے بڑے جلال اور غیض و غضب کے لہجہ میں کہا، لیکن آخر تمہارا ارادہ کیاہے۔کیا کروگے؟مجلس میں موجود ایک بوڑھے نے تعجب خیز نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ تبھی ایک کرخدار آوازمیں جواب آیا:” آج میں اس کو قتل کردونگا، اسکا سر تن سے جدا کرکے اپنے معبودوں کے قدموں میں لاکر رکھدونگا، اپنے خداؤں کی ہتک اور شان میں کھلنے والی زبان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ساکت وخاموش کردوں گا، جس سر کو نخوت وخودداری نے ہمارے معبودوں کے آگےکبھی جھکنے نہ دیا اس کا نذرانہ اپنے معبودوں کے حضور پیش کرونگا ۔ اور اس پیشانی کو جو ہمارے دیوتاؤں کے سامنے کبھی سجدہ ریز نہیں ہوئی آج ان کے سامنے ذلیل کردونگا” یہ کہتے کہتےاس کی آواز کافی تیز اور بلند ہوچکی تھی ، مگر وہ جوشِ انتقام میں بغیر کسی التفات کے کہتا اور بولتا جارہا تھا :”آج میں اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اپنے دیوتاؤں کا تقرب حاصل کرونگا”۔

یہ ارادہ کتنا بھیانک تھا اور یہ الفاظ کس قدر سنگین اور خطرناک ؟ مگر نہ معلوم کیوں ان الفاظ کو سن کر محفل میں موجود ہر شخص کے لبوں پر مسکراہٹ اور خوشی رقص کررہی تھی؟فرحت و مسرت خوشی و شادمانی آنکھوں سے صاف چھلک رہی تھی،۔اس جوان کے الفاظ نے مجلس میں ایک گرمی اور جوش سا پیدا کردیا تھا، مگر ہر زبان خاموش تھی ۔یکا یک سکوت کو توڑتی ہوئی ایک آواز ابھری، کسی کہنے والے نے کہا :”آج اس کو معلوم ہوگا، ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے، اور انکی تحقیقر و تذلیل کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔اس نےہمارے خداؤں کی شان میں بہت گستانہ کلمات کہے ہیں، آج وہ ان سب کا انجام بھگت لے گا”۔یہی سب باتیں ہورہی تھیں کہ اتنے میں وہ لمبا قد و قامت ،گھنی ڈارھی والا با رعب شخص مجلس سے اٹھ کر، اپنی تلوار نیام سے سونت کر، دل میں نفرت و عداوت کی آگ کو لئے ،قتل کے ارادہ سے منزل مقصود کی اور چل دیا۔”کہاں جارہے ہو؟ راستے میں کسی موڑ پر ایک شخص نے روک کر معلوم کیا، آج میں اس شخص کو قتل کرنے جارہا ہوں، جو ایک نیا دین لیکر، ہمیں ہمارے آبائی دین سے پھیرنے کے لیے آیا ہے، اور ہمیں لات و منات کی پرستش اور پوجا سے ہٹاکر ہماری پیشانی ایک معبود کے سامنے جھکوانا چاہتا ہے، اور ہمیں بد دین بنانا چاہتا ہے۔یہ سن کر "کاش تم پہلے اپنے گھر کی خبر گیری کرلیتے!” سوال کرنے والے شخص نے کہا:”تمہاری بہن اور اس کا شوہر، لات و منات کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی قبول کرچکے ہیں، اور وہ ابن عبد اللہ کے لائے ہوئے دین کو مان کر، اس کی اطاعت و فرماںبرداری کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر، اپنے آبائی دین سے پھر چکے ہیں۔” یہ سن کر نوجوان کے سینہ میں نفرت و عداوت کی آگ مزید بھڑک اٹھی، اور سینہ میں ایک جؤالا سا پھٹ پڑا، آنکھیں جوش انتقام کے خون سےسرخ ہوگئیں، بنا کچھ کہے اس نے بہن کے گھر کا رخ کیا، دروازے پر پہنچ کر دستک دی، بہن نے دروازہ کھولا، بھائ کے ہاتھ میں بے نیام ننگی تلوار دیکھ کر اس کے اوپر خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہو گئی،اور وہ اس دلیر و شجاع بھائی کو سامنے چند لمحات کے لئے بے جان مورت بنی آنکھیں پھاڑ کر بدحواسی کے عالم میں ٹکٹکی لگائے دیکھتی رہی،اس کے علاوہ غضب اور قہر کے سامنے کر بھی کیا سکتی تھی؟ بھائ بہن کی طرف بڑھا، اور عقاب کے مانند اس پر جھپٹ پڑا،اور اتنی بے رحمی سے مارا، کہ بہن کا پورا جسم زخموں سے چور اورپیشانی خون آلود ہوگئ، لیکن بہن صبر و استقامت کا سراپا پیکر اور مجسمہ بنی رہی، بھائی کی اس بے رحمی پر ڈبڈبی آنکھوں سے آنسوؤں کے چند قطرے چھلکاتے ہوئے کہا:”تم میرے جسم کے ہزار ٹکڑے کر دو، مجھے موت کا جام اور کڑوا گھونٹ پلادو ،اور اپنے اندر انتقام کی بھڑکتی آگ کو جس طرح چاہو بجھا لو، لیکن مجھے ایک اللہ کی عبادت و بندگی سے نہیں روک سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ابن عبد اللہ کے لائے ہوئے دین کو مجھ سے نہیں چھین سکتے”زارو قطار روتے ہوئے آنسوؤں کی جھڑی اور قطرے زمین پر اور کچھ دامن پر گر رہے تھے ، آخر روتے روتے یہاں تک کہہ دیا:”میں اسی پر جینے اورمرنے کی قسم کھا چکی ہوں، اور اس کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے کا عزم و ارادہ کر چکی ہوں،لیکن میں اسے چھوڑ نہیں سکتی”۔زخموں سے چور بہن کے یہ درد بھرے کلمات سن کر جو نئے دین سے وارفتگی اور فریبتگی کی حد تک عشق و محبت کی عکاسی کررہے تھے اور بھائی کے دل پر اپنےایک ایک حرف کانقش چھوڑ گئے۔ خون آلود بہن کے یہ الفاظ سن کر عمر جیسا پتھر بھی موم ہوگیا، اور بہن کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا ہوا حیرت و تعجب میں وہ یہی سوچ رہا تھا کہ آخر یہ کونسا دین ہے؟ کیساپیغام ہے جس سے انسان خون کے آخری قطرہ تک بے وفائی نہیں کرسکتا، جسے قبول کرنے کے بعد انسان سر کٹانے کو راضی ہوجاتا ہے لیکن سر جھکانے کے لئے تیار نہیں ہوتا ، اور اس پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کو بھی اپنی سعادت وسرخروئی ہی تصور کرتا ہے” ۔ذہن میں گردش کرنے والے ان خیالات و تصورات نے اور دل میں پیدا ہونےوالے بہت سے سوالات نے عمر کو بے چین و مضطرب کردیا تھا۔ بالآخر حسرت و ندا مت کو چھپاتے ہوئے قدرے انفعال کے ساتھ بہن سے گویا ہوا:”ذرہ مجھے وہ پیغام دو”۔

” نہیں، اس کو پاک اور مطہر لوگ ہی چھوتے ہیں”بہن نے جواب دیا :”تم پہلے جاکر غسل کرو”، "ٹھیک ہے”۔یہ کہہ کر وہ غسل کرنے چل دیا، لیکن اس کو کیا معلوم تھا، آج وہ پانی سے بدن کا میل اور جسم کی گندگی صاف کرنے نہیں، بلکہ اسلام کے نور سے کفر و شرک کی غلاظت دور کرنے جارہا ہے، وہ غسل کرکے باہر آیا، تو دل کی دنیا بدل چکی تھی، سینہ میں کفر و شرک کے جو جراثیم برسوں سے پل رہے تھے، آج وہ دم ٹوڑ چکے تھے، اب اسکا دل آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہو چکا تھا، بہن نے اسکی طرف ایک تختی بڑھادی اور پڑھنے کو کہا، جوں ہی اس نے پڑھنا شروع کیا، آنکھوں نے اپنے بند ٹوڑ دئیے، اور بحر بے کراں کے مانند بے اختیار اشک بہ پڑے، روتے روتے سسکیاں بندہ گئیں، آخر ذرا ضبط کا دامن تھام کر سوال کیا:” اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کہاں ہیں؟بہن نے بتایا، تو ملاقات کی حسرت و تمنا دل میں لئے شوق کے پروں سے پرواز کرتا ہوا، بے چینی و بے قراری کی کیفیت میں دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم پر جا پہنچا، دروازے پر دستک دی، کون ہے اندر سے سوال ہوا، عمر ہوں، اس نام کا سننا تھا صحابہ دم بخود ہوگئے :”یہ کیوں آیا ہے، اس کا ارادہ کیا ہے؟”۔”کہیں یہ کچھ غلط ارادہ اور نیت لیکر تو نہیں آیا؟. چند اہل عزیمت و حزیمت افراد نے کہا ۔اگر غلط ارادے سے آیا ہے تو اسکی گردن اسی کی تلوار سے تن سے جدا کردی جائے گی، ،اندر آنے دو، زبان نبوت سے حکم ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سن کر سب خاموش ہوگئےاور تعمیل کیلئے ایک صحابی دروازہ کی طرف بڑھے۔دروازہ کھولا گیا۔ اب عمر کی آنکھوں کے سامنے، نور نبوت تھا، جس کے قتل کا منصوبہ لے کرمجلس سے نکلے تھے، اب اسی کو دل دے بیٹھے تھے ،اسی کے سامنے غلامانہ جبینِ نیاز خم کئے ہوئے دست بستہ کھڑے تھے ،آخر کار عمر نے کلمہ پڑھا، تمام صحابہ عمر کے اسلام پر جھوم گئے، اور فضا میں پہلی بار نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدا اس قوت کے ساتھ گونجی کہ لات ومنات کے پرستار تھرّا اور کاںپ اٹھے ۔

یہ وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے جنکے لیے دست نبوت بارگاہ الہی میں فریاد لے کر اٹھے تھے ، اور زبان رسالت مآب نے جن کو مانگا تھا، اور جنکے بارے میں بعد میں”لوکان نبی بعدی لکان عمر” جیسے الفاظ زبان وحی ترجمان سے جاری ہوئے تھے ، اللہ نے اپنے رسول کی دعا کو شرف قبولیت سے نواز کر حضرت عمر کو اپنے محبوب کی جھولی میں ڈال دیا، اور ان کو اسلام کی سربلندی و سرفرازی کا ذریعہ بنا دیا، وہ خانہ بوشان ِ عرب جسے مکہ کی وادی میں آونٹ چرانے اور بدوی زندگی گزارنے کے علاوہ کوئی سلیقہ نہ تھا، ان کے ذریعے سے قیصر و کسری کی حکومت پر لگام کس دی اور ان کےذریعہ دنیا کی جہاں بانی و جہاں گیری کا کام لیا گیا، اور انکے ہاتھ پر اسلامی فتوحات کا وہ عظیم الشان باب کھلا، کہ جس سے اسلام کا پیغام پوری دنیا میں عام ہوا اور گوشہ گوشہ میں پھیل گیا، اسلام کا یہ عظیم فاتح اور ہیرو، تاریخ جسکے کارناموں پر رقصاں ہے، اور جس کے نام پر فخر و ناز کر کے جھوم اٹھتی ہے اور سر اونچا کرلیتی ہے، اس گیتی میں اسے عمرفاروق کے نام سے جانا گیا۔بالآخر وہ جام شہادت نوش فرماکر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے، ازلی زندگی سے حیات جاںودانی کی طرف یہ کہتا ہوا رخصت ہوا، حق تو یہ ہے کی حق ادا نہ ہوا، ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے محبوب کے پہلو میں سکون و راحت اطمینان و طمانیت کی نیند سو گیا. رضی اللہ عنہ وأرضاه