خواب – خلیل جبران

ترجمہ نایاب حسن

جب رات تاریک ہوگئی اور چاروں طرف نیند کی چادر پھیل گئی،تو میں بستر سے اٹھا اور اپنے دل میں یہ سوچتا ہوا سمندر کی طرف چل پڑا کہ سمندر تو سوتا نہیں ہے،اس کی بیداری میں بے خواب روحوں کے لیے سامانِ تسلی ہے۔

سمندر کنارے پہنچا تو دیکھا کہ پہاڑ کی چوٹیوں سے دھند اتر رہی تھی اور گردو و پیش کا تمام ماحول دھند آلود تھا،گویا کسی خوب صورت بچی کو بھورے رنگ کی نقاب اُوڑھا دی گئی ہو۔ میں ٹھہر کر اس کی موجوں کو دیکھنے اور ان کی آواز سننے لگا،ان کے پس پردہ مخفی سرمدی طاقتوں پر غور کرتا رہا،وہ طاقتیں جو آندھیوں کے ساتھ دوڑتی ہیں،جو آتش فشانوں کے ساتھ پھوٹ پڑتی ہیں،جو پھولوں کے کھلنے سے مسکرانے لگتی ہیں،جو نہروں کی روانی کے ساتھ گنگنانے لگتی ہیں۔

کچھ دیر بعد جب میں نے دوسری طرف توجہ کی،تو قریب کی چٹان پر مجھے تین سایے بیٹھے نظر آئے،دھند کی چادر نے انھیں ڈھانپ رکھا تھا،وہ نظر تو آرہے تھے،مگر پوری طرح نہیں۔آہستہ قدموں کے ساتھ میں ان کی طرف بڑھا؛بلکہ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے وجود میں کوئی ایسی کشش ہے،جو مجھے ان کی طرف کھینچ رہی ہے۔

جب میں ان سے چند قدم دور رہ گیا،تو رک گیا اور انھیں غور سے دیکھنے لگا۔ مجھے یوں لگا کہ اس جگہ میں کوئی جادو ہے جو میرے حواس پر چھا رہاہے،میری روح کو بیدار کر رہاہے۔

تبھی ان سایوں میں سے ایک کھڑا ہوا،مجھے اس کی آواز سمندر کی گہرائیوں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی،اس نے کہا:

زندگی بغیر محبت کے ایسی ہے،جیسے درخت بغیر پھول اور پھل کے،محبت بغیر خوب صورتی کے ایسی ہے جیسے پھول بغیر خوشبو کے اور پھل بغیر بیج کے۔ زندگی،محبت اور خوب صورتی تینوں ایک ہی وجودِ مطلق کے لازمی اجزا ہیں،ان میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے،نہ انھیں الگ کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ سایہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔

دوسرا سایہ کھڑا ہوا۔ اس کی آواز شیریں پانی کے بہاؤ جیسی تھی،اس نے کہا:

زندگی بغیر بغاوت کے ایسی ہے جیسے کہ موسم بغیر بہار کے اور بغاوت بغیر حق کے ایسی ہے جیسے بے آب وگیاہ صحرا میں موسمِ بہار۔ زندگی، بغاوت اور حق یہ تینوں ایک ہی وجود کے مختلف لازمی اجزا ہیں،نہ ان میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے اور نہ انھیں الگ کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد تیسرا سایہ کھڑا ہوا۔ اس کی آواز میں آسمانی بجلی جیسی کڑک تھی۔اس نے کہا:

زندگی بغیر آزادی کے ایسی ہے جیسے جسم بغیر روح کے اور آزادی بغیر فکر کے پراگندہ روح کے مانند ہے۔ زندگی،آزادی اور فکر یہ تینوں ایک ہی ازلی وجود کے اجزا ہیں،جو نہ ختم ہوتے ہیں،نہ ان میں اضمحلال پیدا ہوتا ہے۔

اس کے بعد یہ تینوں سایے ایک ساتھ کھڑے ہوئے اور تینوں نے بھاری بھرکم آواز میں ایک ساتھ کہا:

محبت،بغاوت اور آزادی کے نتائج مَظاہرِ خداوندی ہیں اور اس کی ذات ہی دنیاے دانش کا ضمیر،اس کا مرجع ہے۔

اس کے بعد ایک مخصوص قسم کا سکوت طاری ہوگیا،ایسا سکوت جس میں کچھ نادیدہ پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور غیر مرئی اجسام کی حرکت کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور جو باتیں میں نے سنی تھیں ان کی بازگشت کو محسوس کرنے لگا۔ پھر جب میں نے آنکھیں کھولیں،تو میری نگاہوں کے سامنے دھند کی چادروں میں لپٹے سمندر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ایک چٹان کے پاس بیٹھ گیا،وہیں جہاں وہ تینوں سایے بیٹھے نظر آئے تھے،مگر وہاں تو محض خوشبووں کا ایک سلسلہ تھا جو آسمان کی طرف محوِ پرواز تھا۔

 

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*