Home تجزیہ ہم میں اور اہل فلسطین میں فرق – عمر فراہی

ہم میں اور اہل فلسطین میں فرق – عمر فراہی

by قندیل

 

غیروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اکثریت بھی روٹی کپڑا مکان تجارت اور ذاتی مسائل میں اتنا الجھ چکی ہے کہ اب اسے قوم و ملت کے تصور سے کوئی سروکار نہیں رہا ۔بہت ہوا تو کچھ وقت کی نماز پڑھ کر ہم اپنے مالک پر اتنا احسان ضرور کر لیتے ہیں کہ مسلمانوں کی فہرست میں ہمارا نام درج رہے ۔
یہی لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی یہ فلسطین کا کیا معاملہ ہے ۔آخر کیوں حماس نے اسرائیل پر پیش قدمی کر کے فلسطینیوں کو مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔کیا انہیں اسکول کالج اسپتال اور فیکٹری قائم کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔سب کچھ تو اچھے سے چل رہا تھا چلنے دینا تھا ۔میں نے کہا بھائی انگریزوں کے دور میں بھی سب کچھ اچھے سے چل رہا تھا انگریزوں نے ہندوستانیوں کی پارلیمنٹ بھی بنا دی تھی جہاں ہمارے لوگ منتخب ہوکر آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کر رہے تھے ۔آج پورے بھارت میں اچھے سے اچھا اسپتال فیکٹری بینک ،یونیورسٹی اور ریلوے لائن اور ملک کو چلانے کے لئے آئین انہیں کی بدولت تو ہے ۔انہوں نے ہندوستانیوں کو برطانیہ میں بھی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تھی ۔یہ نہرو گاندھی پٹیل ، محمد علی جناح اور اقبال وغیرہ سب وہیں کے تو پڑھے تھے اور انہیں سہولیات کی بنیاد پر سرسید نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ انگریزوں کی حکومت کو تسلیم کرکے پرامن زندگی بسر کریں ۔اس کے باوجود جو باشعور اور پڑھے لکھے تھے بلکہ یوں کہیں کہ ان کی اکثریت برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے فارغ تھی انہوں نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چھیڑ دی ۔کیا ضرورت تھی شباس چندر بوس کو آزاد ہند فوج بنائے کی اور کیوں گاندھی نے ستیہ گرہ اور انگریزوں بھارت چھوڑو کی تحریک چلائی ۔کیا ہم انگریزوں کے دور میں آج سے بہتر نہیں تھے ؟
سوال یہ ہے کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرکے ہم نے کتنی ترقی کر لی ۔ہم آزادی نہ حاصل کرتے تو ملک تقسیم بھی نہیں ہوتا ۔جب ملک کو انگریزوں کے نقش قدم پر ڈیموکریسی اور انتخابات کے ذریعے ہی چلانا تھا تو ہمیں پورے برطانیہ اور ہندوستان کو ملا کر ووٹ دینے کا اختیار مانگنا تھا ۔یہ اختیار اگر مل جاتا تو عوام اپنی پسند کا حکمراں خود منتخب کر لیتی ۔کیا فرق پڑتا اگر ہمارے ملک کا صدر اور وزیراعظم کوئی انگریز ہوتا یا کبھی مسلمان اور ہندو بھی ہوتا ۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج برطانیہ کا وزیر اعظم ایک ہند نثراد ہندو ہے مگر اہل برطانیہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔جب سب کچھ ویسا ہی چلنا تھا بلکہ چرچل نے سب پہلے سے بدتر ہونے کی پیشن گوئی بھی کردی تھی اس کے باوجود آزادی کی تحریک چلائی گئی اؤر اس وقت کسی نے اس کی مخالفت کرتے ہوۓ نہیں کہا کہ جب سب کچھ ویسا ہی رہنا ہے اور ممکن ہے اور بدتر ہو جاۓ تو ہمیں آزادی نہیں حاصل کرنی چاہیے !

مسئلہ سہولیات کا نہیں سوچ اور عقیدے کا ہے ۔ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ فلسطینی مسلمان اور ہم بھارتی مسلمانوں کی سوچ میں کیا فرق ہے ۔میں نے کہا زمین آسمان کا ۔انہوں نے کہا وضاحت کریں گے ۔میں نے کہا وہ ویسا نہیں سوچنا چاہتے جیسے اسرائیلی انہیں سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ ہماری اپنی کوئی سوچ نہیں ہے ۔برادران وطن نے مغرب کی سوچ ہر معاملے میں مغرب سے مستعار ہے اور ہم بھی وہی سوچنے پر مجبور ہیں جیسے کہ وطن عزیز کے لوگوں کی سوچ ہے ۔ انہوں نے اپنے اتحاد کو زندہ رکھا اور ہم نے آپس کے تفرقے کو ۔پھر میں نے کہا ہم 1947سے اس بحث میں الجھے ہوۓ ہیں کہ اقتدار مطلوب نہیں موعود ہے جبکہ ان کی بحث کا موضوع حق کی جدوجہد کے لئے ہے کیوں کہ حق مغلوب ہو جائے تو قومیں بے غیرت ہو جاتی ہیں ۔یقین نہ آۓ تو اپنی بے غیرتی اور فلسطینیوں کی غیرت کا مشاہدہ کر لیں ۔انہوں نے کہا پھر وہ اتنے مشکل حالات سے کیوں گزر رہے ہیں ؟ میں نے کہا انہیں اگر مشکل کا سامنا ہے تو وہ اسے برداشت بھی کر رہے ہیں ۔کیا وہ ان مشکل حالات سے بیزار ہو کر ارتداد کا شکار ہو رہے ہیں ؟ بلکہ دنیا ان کے عزم اور استقلال کو دیکھ کر اسلامی تعلیمات کی طرف راغب ہے اور لوگ اسلام بھی قبول کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس آپ پر اتنی مشکلات نہیں ہیں پھر بھی آپ کے یہاں تیزی کے ساتھ ارتداد کا سلسلہ جاری ہے ۔ہماری اکثریت جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اسے نماز پڑھنا چاہئے جبکہ فلسطینی مسلمان ہر روز پانچ وقت کی نماز کے علاوہ روز شہیدوں کی نماز جنازہ بھی پڑھتے ہیں ۔یہی فرق ہے ان میں اور ہم میں کہ ہماری گلیوں محلوں اور مسجدوں میں فتنہ ارتداد کی بحث ہوتی ہے ان کے یہاں ان کے بچے فخر کرتے ہیں کہ وہ شہید کے بیٹے یا شہید کی بیٹیاں ہیں ۔یقین نہ آۓ تو فلسطینی مسلمانوں کے بچوں کی تصویریں دیکھ لیں ۔حالیہ غزہ کی جنگ میں اسرائیلی بمباری سے شدید زخمی ایک بچے کو اس کا بڑا بھائی جو کہ خود بھی دس سال کا ہے اسے کلمہ شہادت پڑھ کر سنا رہا ہے اور وہ بچہ ہونٹ ہلا کر پڑھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے ۔یہ دس سال اور سات سال کے بچے کا یقین ہے جسے اپنی موت پر شکوہ نہیں اور ہمارے نوخیز دانشور جو اٹھائیس تیس سال کے اعلی تعلیم یافتہ ہیں ابھی بھی اس بات پر الجھے ہوۓ ہیں کہ اردگان کچھ نہیں کر رہا ہے یا پلاسٹک کا امیر ہے ۔یہ الزام تو فلسطینیوں کو ترکی کے صدر پر لگانا چاہئے مگر وہ ہر حالت میں ان کے شکر گزار ہیں ۔

ہمارا عالم ندوی قاسمی اور سلفی کے خوبصورت لاحقے کے ساتھ ان پر یہ کہہ کر تنقید کر رہا ہے کہ فلسطینی اگر اللہ کی نصرت سے محروم ہیں تو اس کی وجہ ان کی مغرب زدگی ہے ۔ ان کی عورتیں اپنا چہرہ نہیں ڈھکتیں اور ان کے مردوں کی داڑھیاں بہت چھوٹی ہوتی ہیں یا ہوتی ہی نہیں ۔انہیں کون بتائے کہ مولانا آپ سے پختہ یقین اور ایمان فلسطینیوں کے اس دس بارہ سال کے بچوں کا ہے جن کے چہروں پر ابھی ریکھ بھی نہیں آئی ہے ۔ان میں اور ہم میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اس نے وقت کے فرعون کی غلامی قبول نہیں کی ہے ۔ان کی نسلیں پچھلے ساٹھ سالوں سے اسرائیلی فو جیوں کے ٹینکوں اور بندوقوں کے سامنے مزاحمت کرتے کرتے کرتے بے خوف ہو چکی ہیں ۔وہ کسی موسی اور مہدی کے انتظار میں نہیں ہیں ۔ان کا ہر نوجوان مہدی ہے ۔جبکہ ہماری حالت وہی ہے جو کبھی فرعون کی غلامی میں بنی اسرائیل کی تھی ۔وہ مدتوں تک فرعون کی غلامی میں رہ کر اقتدار اور حکمرانی کی تمیز سے نابلد ہو چکی تھی ۔ہم خود پر غور کریں تو ہمیں اندازہ ہو جاۓ گا کہ ہم پیدائشی مسلمان ایمان اور یقین کے کس مرحلے میں ہیں ۔ہم صحیح سے اللہ کے مطلوبہ ایمان کا تقاضا بھی ادا کر رہے ہیں یا نہیں !
کم سے کم بھارت کے موجودہ فحش اور بدعنوانی کے ماحول میں ہم اپنے معاملات تو درست ہی کر سکتےہیں تاکہ دیگر قوموں سے بہتر دکھائی دیں لیکن ہم نے اپنے کردار سے اپنے دین کو بھی مشتبہ بنا دیا ہے ۔

You may also like