ستر فیصد سے زیادہ  گوشت خوروں کے ملک کو سبزی خور نہیں بنایا جاسکتا!-شتاپا پال

ترجمہ:نایاب حسن

 

اگر آپ گوشت چھوڑنے کے لیے صحت سے متعلق وجوہات کا حوالہ دیتے ہیں، تو یہ قابل فہم ہے۔ اگر آپ گوشت سے دوری کی وجہ گلوبل وارمنگ کو بتاتے ہیں، تو میں تعریف کروں گی۔ جانوروں کے قتل سے بچنے کو بتاتے ہیں، تو میں ہمدردی ظاہر کروں گی؛ لیکن لوگوں کو گوشت سے دور رکھنے کے لیے مذہب کا حوالہ دینا محض ایک تفریقی اور واضح طور پر مضحکہ خیزعمل ہے، مگر جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (SDMC) کے میئر مکیش سوریان یہی کرنا چاہتے ہیں۔ ایس ڈی ایم سی کمشنر کو لکھے خط میں انھوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں تمام گوشت کی دکانیں نوراتری کے دوران بند رہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی حکم منظور نہیں کیا گیا اور اب  تنازعہ عام ہونے کے بعد  اس کا بہت زیادہ امکان بھی نظر نہیں آتا؛ لیکن اس سوچ پر بھی گرفت ہونی چاہیے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی ہدایات آئین کی طرف سے ہمیں دی گئی تمام آزادیوں اور حقوق پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان پابندیوں سے لوگوں کی تجارت، پیشے اور روزی روٹی کو بھی خطرہ ہے۔ جن مقدمات میں عدالتوں نے مخصوص ایام میں گوشت ذبح کرنے یا فروخت کرنے کا حکم دیا ہے، وہاں معاوضے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ اسی طرح اگر ایس ڈی ایم سی میئر گوشت کی دکانیں بند کرنا چاہتے ہیں، تو وہ دکان داروں اور مزدوروں کے کاروبار اور اجرت کے نقصان کی تلافی بھی کریں۔ ہم کیا کھاتے ہیں یا نہیں، ہمارا  ذاتی معاملہ رہنا چاہیے؛ لیکن اس ملک میں وقتاً فوقتاً کھانا بھی سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

 

 

 

بعض اوقات ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہمیں کون سا گوشت کھانا چاہیے اور اب یہ کہ بالکل بھی نہیں کھانا ہے۔ گروگرام میں منگل کو گوشت فروخت نہیں ہوتا ہے، احمد آباد میں سڑک کے کنارے سٹالوں پر نان ویجیٹیرین کھانا نہیں بیچا جا سکتا، جب کہ راج کوٹ اور وڑودرہ  میں کھانے بیچنے والوں کو نان ویجیٹیرین کھانا ڈھانک کر رکھنا پڑتا ہے۔ کیا گوشت کھانا ایک مجرمانہ عمل ہے؟ SDMC میئر کے خط میں کہا گیا ہے کہ گوشت کو کھلے عام فروخت ہوتے دیکھ کر لوگ ذہنی انتشار کے شکار ہوں گےاوراس سے ان کے "مذہبی عقائد اور جذبات کو ٹھیس پہنچے گی‘‘۔ کیا ہمارا ایمان (اور یہ بھی ہمارا ذاتی معاملہ ہے) اتنا مضبوط نہیں ہونا چاہیے کہ گوشت کی طرف ہماری توجہ ہی نہ جائے؟ ان لوگوں کے لیے جو نوراتری پر عمل کرتے ہیں یا کوئی بھی ایسا مذہبی عمل جو گوشت اور شراب سے روکتا ہے، اس کی انجام دہی کے دوران  گوشت اور شراب کی دکانوں سے دور رہنا اور ان کے استعمال سے رکنا کافی ہونا چاہیے۔ اس طرح کی پابندیاں عائد کرنا اس صورت حال کی بھی ترجمانی کرتا ہے  کہ ہمارا ملک اب ہر مذہب و نظریے کے ماننے والوں کے لیے یکساں  نہیں رہا۔ ہم ملک کے دارالحکومت میں ایسے آمرانہ فیصلوں کی اجازت نہیں دے سکتے، جہاں کبھی ایسا رواج نہیں رہا۔ کسی بھی انتظامیہ کو آئین کے ذریعے دی گئی آزادیوں کو چھیننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا افراد کے حقوق کے بارے میں بھی زیادہ باشعور اور باخبر ہے، ہندوستان کی ایک غالب  طاقت کے طور پر کمزور  اور رجعت پسندانہ شبیہ  پیش کی جارہی ہے۔ گوشت پر پابندی یا اسے چھپانے کے مطالبات اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ ہندوستان زیادہ تر گوشت کھانے والوں کا ملک ہے۔

 

 

 

ہمارے ملک کے زیادہ تر لوگ سبزی خور نہیں ہیں؛بلکہ اگر غذائی عادات کی بات کی جائے تو مؤخر الذکر قسم کے لوگ اقلیت میں ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ہندوستان میں 78 فیصد مرد اور 70 فیصد خواتین نان ویجیٹیرین  ہیں، یعنی وہ انڈا، مچھلی یا گوشت کھاتے ہیں۔ اگرچہ ہندوستان کا زیادہ تر حصہ کسی نہ کسی قسم کا نان ویجیٹیرین کھانا کھاتا ہے، مگر  مشرقی اور جنوبی ریاستیں اس کے استعمال میں میں سب سے آگے ہیں۔ 97 فیصد سے زیادہ نان ویج کھانے والوں کے ساتھ بنگال سب سے اوپر ہے، اس کے بعد آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ کا نمبر آتا ہے۔ راجستھان، گجرات، پنجاب اور ہریانہ 40 فیصد سے کم کے ساتھ سب سے کم ویجیٹیرین ریاستیں ہیں۔ اعداد و شمار کو قریب سے دیکھنے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہری پھلوں کی طرح انڈے، مچھلی اور گوشت کھاتے ہیں اور تقریباً نصف ہندوستانی آبادی ہفتے میں ایک بار نان ویج کھاتی ہے۔ میں یہاں تک کہوں گی کہ اگر لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوجائے ، تو پروٹین کھانے والوں کی تعداد اور بڑھ جائے گی۔ ہمارے یہاں بہت سے لوگ روزانہ انڈے اور گوشت کھانے کے متحمل نہیں ہیں۔ خبروں کے مطابق آج ہم پچھلے کچھ سالوں سے زیادہ گوشت کھا رہے ہیں۔ یہ تعداد 2014 سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2020 میں ہم نے 6 ملین ٹن گوشت کھایا، ہم آج بھی زیادہ گوشت پیدا کر رہے ہیں اور فی الحال دنیا بھر میں سپلائی کیے جانے والے گوشت کا  2.18 فیصد ہم پیدا کرتے ہیں اور دنیا بھر کے ایسے ملکوں میں ہمارا نمبر چھٹاہے۔ تو ان حیران کن اعداد و شمار کے باوجود گوشت کی صنعت اور اس سے تعلق رکھنے والوں کو مجرم کیوں گردانا جاتا ہے؟ اس کی وجہ  سیدھے طورپر سیاست ہے؛ ملک کو سبزی خور بنانے اور بہت سے لوگوں پر چند لوگوں کے کھانے کی عادات کو نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔چوں کہ  ہمارے گوشت کھانے کے طریقے ایسی  طاقتوں کے بیانیے کے مطابق نہیں ہیں ؛اس لیے وقتاً فوقتاً ان کی طرف سے غلط قسم کے نظریات  سامنے آتے  رہتے ہیں  اور ہمیں انھیں ہر حال میں مسترد کرنا چاہیے۔

 

(شتاپا پال سرگرم انگریزی صحافی ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کام کر چکی ہیں۔ فی الحال وہ NewCrop کی بانی ایڈیٹر ہیں، جو کاروباری افراد کے اسٹارٹ اپس کے لیے ایک ویڈیو فرسٹ، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے ،ساتھ ہی وہ ’دھرما میڈیا کنسلٹنٹس‘ کی بانی بھی ہیں۔ ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی پر ان کی ایک کتاب Didi: The Untold Mamata Banerjee کے نام سے 2018 میں شائع ہوئی ہے۔ یہ مضمون ’ملینیم پوسٹ‘ میں 9 اپریل کو شائع ہوا ہے۔)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*