پاکستان میں طالبان کا پرچم لگانے پر دہشت گردی اور بغاوت کے مقدمات درج

 

اسلام آباد:وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی چھت پر افغان طالبان کے جھنڈے لہرائے جانے کے بعد مذہبی پیشوا عبدالعزیز، ان کے ساتھیوں اور طلبا کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) اور ضابطہ فوجداری پاکستان (پی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔دارالحکومت انتظامیہ اور پولیس کے افسران نے تصدیق کرتے ہیں کہ مقدمہ مدرسے کی چھت پر افغان طالبان کے جھنڈے لگنے کے بعد درج کیا گیا ہے۔ مدرسے کے منتظم عبدالعزیز نے کھلے عام افغان طالبان کا نام استعمال کر کے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدرسے کے طلبا اور اساتذہ نے پولیس کو چیلنج کیا اور انہیں طعنے دیے۔افسران نے بتایا کہ یہ مقدمہ دارالحکومت انتظامیہ کے ایک سینئر افسر کی ہدایت پر اے پی اے کے سیکشن 124 اے (بغاوت) اور 188 (سرکاری ملازم کی جانب سے حکم نامے کی نافرمانی) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تاہم ایف آئی آرکے اندراج کے بعد اسے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر کہا کہ علاقہ صاف کرا لیا گیا، جھنڈے ہٹا دیے گئے اور مقدمہ درج کرلیا گیا۔21 اگست کے بعد یہ تیسرا موقع تھا جب افغان طالبان کے جھنڈے مدرسے پر لہرائے گئے، اس سے قبل جامعہ کی چھت پر کم از کم 5 سفید جھنڈے لہرائے گئے تھے۔اطلاع ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ایک پولیس دستہ بھیجا جس نے مدرسے کو گھیرے میں لے لیا، پولیس کی موجودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی مدرسے کے طلبا چھت پر چڑھ گئے۔اس کے علاوہ دیگر طلبا اور اساتذہ بھی عمارت کے باہر پہنچ گئے اور انہوں نے پولیس کو چیلنج کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں کشیدگی پیدا ہوئی تاہم کوئی ناشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔مدرسے سے وابستہ کچھ لوگوں بشمول عبدالعزیز مسلح تھے۔انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران نے موقع پر پہنچ کر عبدالعزیز عزیز کے ساتھ بات چیت کی، افسران نے مزید کہا کہ مذاکرات کے بعد چھت سے جھنڈے ہٹائے گئے۔افسران نے مزید کہا کہ کسی بھی جھنڈے کو لہرانا کوئی جرم نہیں ہے کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو اس مسئلے کو حل کرے یا جس کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکے اس لیے عبدالعزیز نے اس بات کا فائدہ اٹھایا۔