تری زمین پہ آنے کا بہت رنج ہوا ـ انجیل صحیفہ

 

خدا! بہشت سے جانے کا بہت رنج ہوا
تری زمین پہ آنے کا بہت رنج ہوا

تجھے یہ رنج کے کس موڑ پہ چھوڑا میں نے
مجھے یہ ساتھ نبھانے کا بہت رنج ہوا

پلٹ کے دیکھا تو اک شخص بہت گھائل تھا
کسی سے ہاتھ ملانے کا بہت رنج ہوا

فلک سے حکم ملا تھا لکھا مٹانے کا
ہوا کو خاک اُڑانے کا بہت رنج ہوا

مجھے تو یونہی ملاقات کا خیال آیا
مگر پہاڑ جلانے کا بہت رنج ہوا

میں جن حروف کی ترتیب سے بنی ہوئی تھی
وہ ایک نام مٹانے کا بہت رنج ہوا

اذ یتیں تو بہت تھیں مگر بچھڑتے سمے
تمہارے ہاتھ اٹھانے کا بہت رنج ہوا

حسین چاند کی تنہائی غضب تھی انجیل
خدا کو رات بنانے کا بہت رنج ہوا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*