Home غزل ترے نزدیک آکر سوچتا ہوں- رسا چغتائی 

ترے نزدیک آکر سوچتا ہوں- رسا چغتائی 

by قندیل

ترے نزدیک آکر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے

نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں

یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا

میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں

مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا

کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے

میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں

نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں

میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں

جہاں موج حوادث چاہے لے جائے

خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں

غم اندیشہ ہائے زندگی کیا

تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں

ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزؔا

میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں

You may also like