20 C
نئی دہلی
Image default
ادبیات نظم

تیرا جسم اور تیری مرضی

 

ادریس آزاد

 

اب تک کی تاریخ میں

شاید

ہراِک شئے پر حاوی ہیں

 

تُجھ پر

مُجھ پر

اور اُن سب پر

جتنے اِس کے راو ی ہیں

 

دِل پر، سرپر

درپر، گھر پر

روزِ ازل سے

ہرعالم پر

ہرشاعر پر

ہرہررنگ کے صورت گر پر

 

دنیا کی ہرشئے سے بڑھ کر

تیرا جسم اور تیری مرضی

پہلے بھی سب سے برترتھے

اب بھی سب سے افضل ہیں

 

تجھ کو آتا دیکھ کے آنکھیں جھک جاتی ہیں

تجھ کو رُوٹھا دیکھ کے سانسیں رُک جاتی ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Comment