تلنگانہ میں پھنسے مہاجر مزدورں کو جھارکھنڈ پہنچانے کے لئے خصوصی ٹرین چلائی گئی

نئی دہلی:لاک ڈائون کے درمیان پھنسے ہوئے 1200 مزدوروں کو تلنگانہ سے جھارکھنڈ لانے کے لئے ہندوستانی ریلوے نے جمعہ کی صبح خصوصی ٹرین چلائی۔ یہ ٹرین تلنگانہ سے چل کر جھارکھنڈ کے ہٹیا تک جائے گی۔ عام حالت میں جہاں ایک ڈبوںمیں 72 مسافر سفر کر سکتے ہیں، وہیں اس ٹرین میں ایک ڈبے میں صرف 54 مسافروں کو بیٹھایا گیا ہے۔ 24 کوچ کی یہ ٹرین آج رات تقریباً11 بجے ہٹیا پہنچ جائے گی۔اس دوران بہار کے مزدوروں اور طالب علموں کو بھی دیگر ریاستوں سے واپس لائے جانے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ گزشتہ دن بہار کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے وزیر اعلی نتیش کمار سے کہا تھاکہ جیسا کہ بہار حکومت نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ باہر پھنسے مزدوروں کو واپس لانے کے لئے حکومت کے پاس بسیں نہیں ہیں۔ ہم بہار حکومت کو 2000 بسیں سپرد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ حکومت ہیلتھ ورکرس، انتظامیہ اور حکام کی نگرانی میں ان بسوں کا استعمال کر سکتی ہیں۔ بسیں پٹنہ میں کب اور کہاں بھیجنی ہیں۔ براہ مہربانی بتایا جائے۔تیجسوی نے کہا ہے گزشتہ 15 سالوں سے اقتدار سے چپکے بس لوگ کہتے ہیں کہ بہار حکومت کے پاس صرف 500-600 بسیں ہیں۔ ہم آپ کو غریب مزدوروں کی مدد کے لئے اس سے تین گنا زیادہ بسیں دے رہے ہیں۔ چونکہ یہ ریاستی حکومتوں سے متعلق معاملہ ہے اس لیے آپ ان بسوں کا اپنی نگرانی میں مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہدایات کے ساتھ عمل کرتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ‘معزز وزیر اعلی صاحب اپوزیشن حکومت کو 2000 بسیں دے رہا ہے۔ بسیں لے لیجیے اور ہمارے غریب بہاری بھائیوں کو لے آئیے۔گرچہ اس کا کریڈٹ بھی آپ لے لیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن براہ مہربانی کرکے جلدی کچھ کیجیے۔ کتنا سوچیں گے۔ یہ سوچنے کا وقت نہیں فرض کو پورا کرنے کا وقت ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی کرونا وائرس کا قہر تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 180 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا یہ وائرس اب تک دو لاکھ سے زیادہ جانیں لے چکا ہے۔ دنیا بھر میں 32 لاکھ سے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ہندوستان میں اس وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 35043 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 1993 نئے کیس سامنے آئے ہیں اور 73 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ملک میں ابھی تک 1147 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔حالانکہ 8889 مریض اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔