تیجسوی یادونے نتیش کمارپرقتل کیس کے معاملہ کواٹھایا،جدیودفاعی پوزیشن میں

پٹنہ:بہارمیں وزیراعلیٰ نتیش کمار اور قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو کے درمیان جم کربحث ہوئی ۔جمعہ کو سی ایم نتیش کمار اسمبلی کے اندر تیجسوی یادو پر مشتعل ہوگئے۔ جب کہ الیکشن میں نتیش کمارتیجسوی اورلالویادوپرذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔در حقیقت تیجسوی یادونے ایوان میں وزیر اعلی کوگھیرا اور الزام لگایا کہ وہ 1991 میں قتل کے ایک مقدمے میں ملوث ہیں۔ اس پر سی ایم تیجسوی یادوپرناراض ہوگئے۔اسی دوران اسمبلی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ وزیر اعظم سے لے کروزیراعلیٰ تک،مجھ جیسے 31 سالہ لڑکے پیچھے لگ گئے۔ میرا جرم کیا ہے؟ عوام نے ہمیں ایک مینڈیٹ دیا ہے اور یہ حکومت چوردروازے سے ہی آئی ہے۔تیجسوی یادونے کہا کہ یہ کیس 1991 میں ہوا ، فیصلہ سن 2008 میں ہونا تھا ، لیکن ملتوی کردیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ 2019-20 میں کیس کیسے ختم ہوا۔ کیا ایس پی ان کے خلاف کام کرے گا۔ وزیراعلیٰ (نتیش کمار)آپ استعفیٰ دے دیں ، پھر انکوائری کروائیں۔تیجسوی یادونے کہا کہ جب وزیراعلیٰ کی معلومات کی بات آتی ہے تو ہم نے ہمیشہ ان کااحترام کیا ہے۔ ان کوچچاکی حیثیت سے مخاطب کیا ، لیکن میرے والدین کے بارے میں انھوں نے کیا کہا ، وہ بیٹے کے عوض بیٹیاں پیدا کرتے رہے۔