تجارتی تنظیموں کادہلی میں احتجاج،رضاکاروں نے گرفتاریاں دیں

نئی دہلی:لیبراصلاحات کے خلاف ملک کی 10 بڑی ٹریڈ یونینوں نے جمعرات کے روز ملک گیر ہڑتال کا انعقاد کیا۔ ملک کے تمام منصوبوں اورفیکٹریوں میں بلائے گئے شٹ ڈاؤن کااثر مختلف علاقوں میں پڑا۔ ملک کے بیشتر حصوں کی طرح ، ملازمین دہلی کے جنترمنترپربھی جمع ہوئے۔ دہلی میں مظاہروں کی اجازت نہیں تھی ، لہٰذاانہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ٹریڈ یونینوں کی یہ ہڑتال ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کسانوں نے بھی زرعی اصلاحات سے متعلق تینوں قوانین کے خلاف تحریک شروع کردی ہے۔کسان تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ ان زرعی قوانین کو واپس لیا جائے۔مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے ان کی طاقت اور حیثیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ وہ بھی اس بحران کے دوران۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہڑتال اوریونین بنانے کا حق محدود نہیں ہونا چاہیے۔ نوکمپنیوں کے نام سے غیر سرکاری کمپنیوں کی فروخت بند کی جائے۔ مزدور تنظیموں نے بحران کے دوران مزدوروں کو 7500 روپے کی بنیادی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 10کلواضافی اناج فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ملک کے بیشتر حصوں میں ، مرکزی مزدور تنظیموں سے وابستہ مزدور احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مزدور تنظیموں نے اس ہڑتال کے ذریعے حکومت کو یہ پیغام بھیجنے کی کوشش کی ہے کہ وہ چاروں مزدوراصلاحات کے قوانین کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ وہ ان اصلاحات پر عمل درآمد کے اقدام کو نظر انداز کریں گے۔ سی آئی ٹی یو کے جنرل سکریٹری تپن سین نے بتایاہے کہ یہ جدوجہد ملک کو بچانے کے لیے ہے ۔