ٹیگور کی سرزمین پر نفرت کے لیے جگہ نہیں! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
مغربی بنگال میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ، جو وزیراعظم نریندر مودی کے بعد بی جے پی میں دوسرے نمبر کے قائد ہیں ، پیر کے روز بی جے پی کا انتخابی منشور جاری کیا جس میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ بی جے پی اپنی حکومت بنانے کے بعد پہلی کابینی میٹنگ میں سی اے اے کو لاگو کردے گی ۔ سی اے اے لاگو کرنے کا مطلب یہ کہ نریندر مودی کی مرکزی سرکار نے شہریت سے متعلق جس متنازعہ قانون کو منظور کرایا ہے ، اور جس کے تحت ’غیر قانونی‘ طور پر بسنے والوں کو ’ ملک بدر‘ کیا جائے گا ، بالخصوص ’ بنگالی مسلمانوں‘ کو ، اس پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا ۔ بی جے پی کے منشور کا یہ وعدہ صاف صاف ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی نے مغربی بنگال میں اپنی جیت کے لئے نہ وکاس پر بھروسہ کیا ہے ، نہ سب کا ساتھ اور سب کا وشواس پر ، بھروسہ صرف اور صرف نفرت کی سیاست ، منافرت اور فرقہ پرستی و عصبیت پر کیا ہے ۔ مغربی بنگال ٹیگور ، سوامی وویکانند ، نذر الاسلام اور سبھاش چندر بوس کی سرزمین ہے ، اس سرزمین پر پیار کے گیت گائے جاتے رہے ہیں ، لیکن اب اس پر نفرت کی کھیتی کی جارہی ہے۔ لیکن سچ یہ ہیکہ ٹیگور کی سرزمین پر نفرت کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ نریندر مودی اس ملک کے وزیراعظم ہیں ، انہوں نے مغربی بنگال کی انتخابی ریلیوں میں جو تقریریں کی ہیں وہ ایک وزیراعظم کے شایان شان قطعی نہیں ہیں ، انہوں نے مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی پر ، جنہیں لوگ احترام سے ’دیدی‘ کہتے ہیں ، انتہائی رکیک حملے کیےہیں ۔ مودی اس سے قبل کانگریس کی صدر سونیا گاندھی پر بھی اس طرح کے حملے کرچکے ہیں ۔ مودی اور شاہ دونوں ہی نے ممتابنرجی پر مسلمانوں کی منھ بھرائی کا الزام لگایا ہے ، مگر اسے ثابت کرنے سے دونوں ہی قاصر ہیں۔ جب سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی تو یہ سچ بھی سامنے آیا تھا کہ مغربی بنگال کی مسلمان اقلیت کی معاشی‘ تعلیمی اور سماجی سطح بد سے بدترین ہوئی ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔کمیونسٹ سرکار نے معاشی اصلاحات سے ہاتھ کھینچ رکھے تھے‘ لہٰذا مسلمان تو پستے ہی تھے غیر مسلم آبادی بھی معاشی مار سے بچ نہیں سکی۔لوگوں نے کمیونسٹ حکومت سے ناراض ہوکر ممتا بنرجی کو گدّی سونپی تھی‘ اور ممتا بنرجی نے دس برسوں کے دوران معاشی اصلاحات کیں‘ حالات کو سدھارابھی مگر مسلمانوں کو نہ اقتدار میں ساجھیداری ملی اور نہ ہی ان کی معاشی حالت کچھ ایسی بہتر ہوئی کہ اس الزام کو صحیح مان لیا جائے کہ ممتا بنرجی نے مسلمانوں کی منھ بھرائی کی ہے۔ بی جے پی کے ذریعے لگائے جارہے اس الزام کا ایک مطلب لوگوں میں یہ بھرم پھیلانا ہے کہ انہیں یعنی ہندوؤں کو نظرانداز کرکے مسلمانوں کو آگے بڑھایاجارہاہے۔ مغربی بنگال پر قبضہ کےلیے بی جے پی نے ہندو۔ مسلم سیاست کا بازار ایک عرصے سے گرم کررکھا ہے‘ اس کےلیے اس نے ریاست کی ہندو اقلیتوں سے رابطے بھی کیے اور انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ کیسے مارے اور کاٹے اور بھگائے گئے تھے۔ سی اے اے کو لاگو کرنے کا وعدہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مانا کہ اس متنازعہ قانون کو لاگو کرکے مسلمانوں کی بڑی اکثریت کو ’ہراساں‘ کیا جاسکتا ہے اور ’غیر قانونی‘ ثابت کرکے انہیں ’ ملک بدر‘ بھی کیا جاسکتا ہے ،لیکن جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے یہ قانون ہندوؤں کے لئے بھی مصیبت بنے گا ، اور بڑی تعداد میں وہ ہندو جو مغربی بنگال کے حقیقی باشندے ہیں خود کو ’غیر قانونی‘ شہریوں کی فہرست میں پائیں گے۔ 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے بازی ماری تھی لیکن اب حالات ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئے ہیں ۔ بی جے پی نے جس طرح سے ٹی ایم سی کے اندر تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ، اس کے کئی لیڈروں کو ، جن پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے ،اپنے ساتھ شامل کیا ہے ۔ ممتابنرجی پر جو حملہ ہوا ہے اور جس طرح سے ریاست کی فضا میں نفرت کا زہر گھولا گیاہے ،اس سے عوام میں بی جے پی کے خلاف ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوئی ہے ۔ دوسری جانب مودی اور شاہ کے ’وعدوں‘ کو ممتابنرجی نے جس طرح سے ’ جھوٹ‘ قرار دیا ہے ، اس نے بھی لوگوں کی آنکھیں کھولی ہیں ۔ لیکن آنکھوں کا کھلنا ہی کافی نہیں ہے ، پولنگ کے روز عملی قدم اٹھانا ضروری ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)