تیسرالاک ڈاؤن اور موجودہ حالات-محمد سالم سریانوی

”کورونا وائرس“ (coronavirus) نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے، ماہرین کے بیان کے مطابق یہ ایک غیر مرئی بیماری ہے، جس کو آج تک دیکھا نہیں گیا ہے، اولاً اس بیماری کی شناخت جانوروں اور پرندوں میں ہوئی تھی، پھر اب اس کا اثر انسانوں ہے، ان کے بیان کے مطابق یہ کوئی عام بیماری نہیں ہے؛ بل کہ ایک وبائی بیماری ہے، ماہرین کی یہ بات کتنی حقیقت کتنی فسانہ ہے، آنے والے دن ضرور اس کی وضاحت کریں گے، لیکن بہر حال اس وقت ایک بڑا طبقہ اس کو بیماری تسلیم کرچکا ہے، جس کا سیدھا نتیجہ ذہنی بیماری ہے، مطلب کہ اب آئندہ کے لیے اس بیماری کے نام سے انسان ذہنی طور پر خائف اور سہما ہوا رہے گا، کہ کب اور کیسے یہ بیماری پھیل جائے اور اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
کورونا وائرس سے جہاں دنیا کے بڑے اور مشہور ممالک نبرآزما ہیں، وہیں پر ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے، اس بیماری کو ہندوستان میں داخل ہوئے تقریبا چار مہینے ہورہے ہیں، دن بدن اس کے معاملات میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، اور اس کی وجہ سے اموات کی تعداد میں بھی ز یادتی ہورہی ہے، اور ملک میں ایمرجنسی کی کیفیت ہے، ملکی لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ مکمل ہونے والا ہے، شاید انسانی تاریخ میں اتنا لمبا لاک ڈاؤن کبھی نہیں ہوا تھا، لیکن اس لاک ڈاؤن سے کیا نتیجہ نکلا، ہنوز ایک معمہ ہے!
اِس وقت لاک ڈاؤن کے نام سے ہر شخص ہراساں ہے اور اپنے کو مجبور محسوس کررہا ہے، زندگی گزارنے اور پیٹ بھرنے کے مسائل نے وہ بحران کھڑا کیا ہے کہ اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، ملک میں پہلے ڈاؤن کا اعلان ”جنتا کرفیو“ کے دوسرے دن شام کو آٹھ بجے کیا گیا کہ آج رات بارہ بجے سے یعنی 24/ مارچ سے 14/ اپریل تک پورے ملک میں لاک ڈاؤن رہے گا، جو جہاں ہے وہیں تھم جائے، کہیں جانے کی کوشش نہ کرے، وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے عوام سے صرف اکیس دن کا وقت مانگا تھا کہ آپ مجھے اکیس دن دیں، ہم کرونا سے مقابلہ کریں گے، تاکہ یہ جنگ جیت جائیں، عوام نے اپنے وزیر اعظم کی بات مانی، لیکن نتیجہ تو صفر ہی لگا، کیونکہ جس وقت وزیر اعظم نے اکیس دن مانگا تھا اس وقت کورونا کے معاملات پورے ملک میں محض پانچ سو تھے، جب یہ وقت مکمل ہوا تو اس وقت کورونا کے کل 9000/ ہزار معاملات درج ہوچکے تھے، بالآخر 14/ اپریل کو وزیر اعظم نے عوام سے پھر خطاب کیا اور عوام سے مزید ڈھائی ہفتہ مانگا کہ ہمیں کورونا سے لڑنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے، اس لیے ہم لاک ڈاؤن کا دوسرا مرحلہ شروع کررہے ہیں جو کہ 19/ دن پر مشتمل ہوگا، عوام نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو قبول کرلیا، لیکن نتیجہ ہنوز ندارد!
آج ملکی لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ چل رہا ہے، اِس وقت کورونا کے کل معاملات 60000/ سے تجاوز کرچکے ہیں، اور نہ معلوم اس مدت کی تکمیل تک کتنے پہنچیں گے؛ ا س لیے کہ اس کی رفتار تقریبا تین ہزار سے چار ہزار یومیہ ہے، اب اس تفصیل کو دیکھ کر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے لاک ڈاؤن کرکے بہت اچھا کیا، پوری دنیا میں کورونا سے مقابلہ کے لیے ہندوستان کی تعریف ہورہی ہے، اور یہی نہیں 11/ مئی کو وزیر اعظم نے ملک کے تمام صوبوں کے وزراء اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمیں مزید طاقت کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کرنا ہوگا، اس میں انھوں نے مزید لاک ڈاؤن کے بڑھانے کا اشارہ بھی دیا، سوال یہ ہے کورونا سے مقابلہ کا حل صرف ”لاک ڈاؤن“ ہی کا اعلان ہے، یا کچھ عملی اقدام بھی ہے، پہلے اکیس دن میں مقابلہ ہورہا تھا، پھر انیس دن میں، پھر چودہ دن میں، لیکن اب بھی کورونا ہارا نہیں، بل کہ آزاد گھوم رہا ہے، اب تک کے مقابلے کے بعد ہمیں مزید طاقت کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، تو اب تک مقابلہ کس طرح ہورہا ہے تھا؟ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو ہنوز ناقابل حل ہے، مرکزی حکومت کورونا سے مقابلہ کے لیے لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کیے جارہی ہے، لیکن کورونا ہے کہ آزاد گھوم رہا ہے، اب تک ملک اس کا مقابلہ نہیں کرسکا!!! فیا للاسف
یکے بعد دیگرے حکومت نے لاک ڈاؤن کی مدت بڑھائی، لیکن کورونا سے مقابلہ کے لیے اس کی کیا پالیسی اور حکمت عملی رہی ہے وہ دودھ اور پانی کی طرح واضح ہے، خود مرکزی حکومت کے نیتاؤں اور ذمہ داروں کے بیانات میں تضاد ہے، مرکزی وزیر صحت کہہ رہے ہیں کہ مئی کے آخر تک ہم کورونا پا پر قابو پاجائیں گے اور 97/ فیصد معاملات ختم ہوجائیں گے، دوسرے وزیر کا بیان ہے کہ کورونا جون اور جولائی میں عروج پر ہوگا، اس لیے ہمیں ابھی سے اس کے لیے تیار رہنا ہوگا، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا، اِدھر وزیر اعظم مقابلہ پر مقابلہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آگے ہمیں مزید طاقت کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ آخر یہ کیا چکر ہے!
دوسری طرف لاک ڈاؤن کے چلتے غریب مزدور، بھوکی پیاسی پریشان حال عوام کا کیا تذکرہ؟ ایسی تصاویر، واقعات اور ویڈیوز نگاہ سے گزر رہے ہیں کہ ان کو دیکھنے کی ہمت وطاقت نہیں ہے، آنکھیں ان کو برداشت نہیں کرپارہی ہیں، دل پھٹا جارہا ہے کہ ہائے یہ بے چارے غریب مزدور!
آخر ان غریب مزدوروں کا کیا قصور ہے، جس کی سزا ان کو دی جارہی ہے؟ کون سا ایسا جرم انھوں نے کرلیا کہ پائی پائی کے محتاج ہوگئے؟ کون سا ایسا گھناؤنا کام ان سے سرزد ہوگیا جس سے ان کو پولیس کی لاٹھیاں کھانی پڑ رہی ہیں؟ اورنگ آباد کے سولہ غریب مزدوروں کی کیا غلطی تھی کہ ان کو ریلوے ٹریک پر ٹکرے ٹکڑے کردیا گیا؟ ان کو چھوڑو، وہ بے چارے معصوم بچے، جو ٹھیک سے چل نہیں پاتے، جو دنیا اور زندگی سے ابھی واقف نہیں ہیں، جنہوں نے حالات ومصائب کو دیکھا نہیں وہ کون سے مجرم ہیں جس کی سزا ان کو دی جارہی ہے؟ آخر وہ کیوں بھوکے پیاسے ماؤں کی کمروں اور گودوں سے چپکے ہوئے دھوپ میں چلے جارہے ہیں؟ کیا جرم ہے ان کا؟ کیا قصور ہے ان کا؟
کون اس کی جواب دہی کا ذمہ دار ہے؟
ملک کی کمان سنبھالتے وقت کس چیز کی حلف لی گئی تھی؟
کیا ہمارے ملک کے مزدروں کی جان جان نہیں ہے؟
کیا وہ انسان کے زمرے میں داخل نہیں ہیں؟
کیا ان کے پاس قلب وجگر اور احساس نہیں ہے؟
کیا وہ کھاتے پیتے نہیں ہیں؟
حد ہے بے حسی کی! تف ہے ایسی غیر ذمہ داری پر! لعنت ایسی نااہلی پر!
ایسی بے چین صورت حال میں لکھتے ہوئے انگلیاں لڑکھڑا رہی ہیں، ضمیر جواب دے رہا ہے، عقل حیران وششدر ہے اور آنکھیں نم ہیں، خدا کے لیے حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے، ہندوستانی عوام کا ہر فرد ہندوستانی ہے، اس کی زندگی، معیشت اور آل اولاد حکومت کی ذمہ داری میں داخل ہے، اگر حکومت نے آنکھیں نہیں کھولیں اور صحیح صورت حال کا جائزہ نہیں لیا تو وہ دن دور نہیں جب سب کچھ بدل جائے گا، حکمرانوں کے تختے الٹ دئے جائیں گے اور ان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہوگا، جیسا کہ انھوں نے اپنی عوام کو نہیں پوچھا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)