تین صوبوں کے متحدہ امیر کا انتخاب ـ ڈاکٹر سید افضل حسین قاسمی

 

ہم سید افضل حسین قاسمی ،ہاشمی زبیری اور مادری نسب سے حُسینی سید آپ سے مخاطب ہیں ، حضرت مخدوم شاہ تاج محمد فقیہ مکی ہاشمی زبیری، محلہ قُدُس خلیل بیت المقدس اور حضرت مخدوم شاہ شرف الدین یحییٰ مَنیَری ہاشمی زبیری، ہمارے اجداد میں ہیں، ہم سینہ ٹھوک بہاری ہیں، بہار ہماری نگاہوں میں گھومتا اور خون میں دوڑتا ہے، ہمیں اپنے بہاری ہونے پر قابلِ رشک فخر ہے، پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق ہے اور ہم خود بھی ٹھیک ٹھاک پڑھے لکھے ہی ہیں الحمدللہ ، پانچ پیڑھیوں سےعلاج و معالجے کے پیشے سے جُڑے چلے آرہے ہیں، امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھار کھنڈ سے میرا کوئی منصبی یا منفعتی تعلق نہیں ہے البتہ امارت کے اکابر سے تعلق اور رشتے داری رہی ہے، بنگلور میں حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب، قاضی القضاۃ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب، امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمھم اللہ ، حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی، حضرت مولانا مفتی نذر توحید صاحب مظاہری حفظھمااللہ کی میزبانی کا شرف حاصل رہا ہے، والدین اور خاندان کے بڑے بزرگوں سے تربیت یاب ہونے کے علاوہ استاذ گرامی حضرت قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری دارالعلوم دیوبند ، استاذ گرامی حضرت مولانا اطہر حسین صاحب مظاہر علوم سہارنپور رحمھما اللہ کی نگاہ تربیت سے بہرہ ور رہے ہیں ـ اصلاحی تعلق حضرت شیخ محمد یونس صاحب مظاہر علوم سہارنپور رحمہ اللہ سے رہا اور اب حضرت مفتی محمد یوسف صاحب تاؤلی دارالعلوم دیوبند ہماری تربیت و اصلاح فرماتے ہیں، عمر ہماری ساٹھ کو چھونے والی ہے،فہم و ادراک ماشاءاللہ چست درست ہے اور دماغ کا کوئی چُول کہیں سے ڈھیلا بھی نہیں ہے ،الحمد للہ علی ذالک ـ

یہ ساری تفصیلات اس لئے لکھ رہا ہوں کہ کہیں کسی کا کوئی بھگت یہ فتویٰ نہ جَڑ دے کہ دو ٹَکے کا کوئی جاہل گنوار مولوی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اتنا کچھ کہہ گیاـ

آمدم بر سرِ مطلب:

امارت شرعیہ ماشاءاللہ اپنے 100 سال مکمل کررہی ہے، اس نے اس ایک صدی میں بڑے نشیب وفراز دیکھے ہوں گے لیکن حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد جو احوال پیدا ہوئے یا پیدا کئے گئے ہیں وہ افسوسناک کے ساتھ تشویش ناک بھی ہیں، مجھے ذاتی طور پر ایک تشویش یہ ہے کہ کہیں امارت شرعیہ اس بار شکست و ریخت کا شکار نہ ہوجائے اور اس طرح بہار جھاڑ کھنڈ اور اڑیسہ میں آگے پیچھے پاؤ درجن امیر شریعت نمودار ہو جائیں، جھار کھنڈ اور اڑیسہ میں تو ٹھیک ٹھاک امیر شریعت منتخب ہو جائیں گے کیونکہ پہلا "گؤنا” عموماً ٹھیک ٹھاک ہی رہتا ہے، البتہ بہار میں امیر شریعت کا انتخاب بعض لوگوں کے لئے بڑا گمبھیر بنا ہوا ہے اور کچھ لوگ اس میں”لُکّا”لگاکے اس معاملے کو دہکانا چاہتے ہیں حالانکہ بہاری قوم و ملت کے یہ نادان خیر خواہ اپنی کوششوں میں ان شاء اللہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گےـ

اختلاف کی وجہ:

حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے فیصل رحمانی کو خانقاہ رحمانی مونگیر کا سجادہ نشیں بنائے جانے کے بعد امارت میں امیر شریعت کا عہدہ بھی انہی کے سپرد کئے جانے کی مضبوط آواز کا اُٹھنا اختلاف کی کلیدی وجہ ہے، میرے خیال میں ایسی آواز اٹھانے والے یا فیصل رحمانی کو اس باوقار عہدے پر فائز ہوتا دیکھنے کی آرزو رکھنے والے لوگ حق بجانب ہیں کیونکہ بہار اڑیسہ اور جھاڑ کھنڈ کی امارت کے امیری منصب کو رونق بخشنے کے لئے جو صفات درکار ہیں وہ ساری صفات قریب قریب فیصل رحمانی میں ماشاءاللہ موجود ہیں اور بعض لوگوں کو جو کمی نظر آرہی ہے وہ ان شاء اللہ عہدۂ امارت سنبھال لینے کے بعد خود بخود دور ہو جائے گی ـ

ہمیں چاہئے تھا کہ ہم مولانا کے انتقال کے بعد بلا تاخیر، مولانا کے صاحبزادے کو اخلاقی طور پر امیر شریعت کا عہدہ تفویض کردیتے اور یہ کوئی نئی بات یا نیا رواج بھی نہ ہوتا، جبکہ مولانا ولی رحمانی صاحب امیر شریعت کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے فوت ہوئے تھے، کشمیر کے میر واعظ جب فوت ہوئے تو ان کے صاحبزادے کو فوراً ہی میر واعظ کی نشست سپرد کر دی گئی تھی حالانکہ ان کے فرزند اور موجودہ میر واعظ عمر فاروق کی عمر 20 سال بھی نہیں تھی اور وہ طالب علم تھے، ہمارے پڑوس میں چند ماہ پہلے تحریک لبیک کے سربراہ کا انتقال ہوتے ہی ان کے بالکل نو عمر بیٹے کو تحریک لبیک کی سربراہی سونپ دی گئی،لیکن ہمارے ہاں پریشانی یہ ہے کہ بعض عقل مند لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب مولانا کے بیٹے فیصل رحمانی، خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشین مقرر کر دیے گئے تو اب انہیں امیر شریعت کی دوڑ میں حصہ نہیں لینا چاہئےـ ان بیچاروں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ سجادہ نشینی ان کا جَدّی اور آبائی منصب ہے، اپنا مزار، اپنی جمعرات، اپنی فاتحہ اور اپنے بتاشے،اس کا امارت شرعیہ سے کیا لینا دینا ہے بھلا ! یہ کیا بات ہوئی کہ ہر کوئی اس مقابلے میں پنجہ آزمائی کرسکتا ہے سوائے فیصل رحمانی کے، کیوں کہ وہ ایکٹِو امیر شریعت کے بیٹے اور خانقاہ کے سجادہ نشین ہیں!

فیصل رحمانی کی تائید کیوں ؟

بڑے لوگوں کی بڑی بات ہے، بڑے لوگوں کی اُٹھان ہی کچھ الگ ہوتی ہے، ہاتھی مرکر بھی 9 لاکھ میں بِکتا ہے، ریس میں نسلی گھوڑے ہی دوڑائے جاتے ہیں، نیم کے درخت کا شہد بھی تلخ ہوتا ہے اور مُلیٹھی کی لکڑی بھی میٹھی، کریلے کی بیل پر شکر کا پانی چھڑکنے سے کریلا میٹھا نہیں ہو جاتا اور عُود کے درخت پر گوبر لیپ دینے سے عود کی خوشبو معدوم نہیں ہو جاتی ـ

تین صوبوں کا امیر شریعت بننے کے لئے شرافت و نجابت، قدّ و قامت، جُرأت و ہمت، رافت و نسبت، اعتبار و وقار، جسمانی ڈیل ڈول، مضبوط قوت ارادی، بے خوف قوت فیصلہ، آنکھوں میں چمک، چہرے میں دَمَک، کلیجے میں دَم اور پنڈلیوں میں خَم، منصبی دبدبہ، زبان و بیان میں شگفتگی و سلاست چاہیے تب جاکے امیر شریعت نمودار ہوتا ہےـ امیر شریعت بن جانے کی دوڑ میں شامل شوقین احباب کو اگر دبئی کی عالمی کانفرنس میں عربی اور کینیڈا کی عالمی کانفرنس میں انگریزی زبان میں” ہندوستان میں مسلمانوں کا ماضی اور حال ” کے موضوع پر ساڑھے چوبیس منٹ بات کرنے کے لئے اسٹیج پر چڑھادیا جائے تو یاروں کی سِٹّی پِٹّی گُم ہو جائے گی اور پلکوں سے پسینہ چھوٹ جائے گاـ ہم یہ نہیں کہتے کہ فیصل رحمانی کے علاوہ کوئی اس منصب کے لائق نہیں ہے، ہیں ایک نہیں بلکہ کئی ہوسکتے ہیں لیکن جو واقعی اس منصب کے شایانِ شان ہو سکتے تھے وہ کبھی اور کسی قیمت پر اس”سِر پھُٹوّل” میں پڑنے والے نہیں، ان کے کام اور ان کی خدمات عالمی پیمانے کی ہیں یا پھر اُن حضرات نے اپنے اپنے صوبوں میں بڑے بڑے بیڑے اٹھا رکھے ہیں لہذا تازہ دم، با وجاہت، معاملہ فہم، تینوں صوبوں میں زمینی طور پر اپنی مضبوط پکڑ رکھنے والے صرف اور صرف فیصل رحمانی ہی ہیں اور انہی کی شخصیت بہر طور اس منصبِ جلیل کے لئے جچ رہی ہےـ پچھلے دنوں ایک "لِکھاڑو ” نے اپنے مضمون میں گوہار لگائی کہ دوڑو، امارت کے بیت المال میں ڈاکہ پڑنے والا ہے اسے بچاؤ، کیسی واہیات بات ہے، اس نے بیت المال میں گھُسے بغیر اسے ٹٹولا بھی تو غلط ٹٹولا اور لکھا ایسے گویا بیت المال میں کروڑوں روپے تھَکّی لگا کے رکھے ہوئے ہیں اور اس کی پوری خبر اس مضمون باز ناظرِ بیت المال کو ہے،ایسے لوگوں سے کچھ نہیں ہونے والا، ایسے لوگ "بھُسکار”میں تو سیند لگا سکتے ہیں لیکن قلعے کی دیوار سے ایک اینٹ نہیں نکال سکتےـ

اور پھر یہ کہ جس کا دادا اور باپ امیر شریعت رہا ہو اور خوب رہا ہو، جس کا پردادا تحریکِ ختمِ نبوت کا جرنیل رہا ہو اور جس نے ہندوستانی ملتِ اسلامیہ کو دیوبند و علیگڑھ کا امتزاجی ادارہ ندوۃ العلماء عطا کیا ہو، جس کے دادا نے 1975 کے ایمرجنسی میں نس بندی کے خلاف اپنی منفرد گھَن گَرَج سے پورے ملک کو دَہلا کے رکھ دیا ہو، جس کا باپ وکلا اور ججز کی کانفرنسوں میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہنر جانتا ہو اور جو تین طلاق کے امتناعی قانون کے خلاف ملک بھر سے ساڑھے پانچ کروڑ دستخط کے بنڈل، عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا و عزت مآب صدر ہند کی میزوں پر پٹخ آیا ہو اس کے بیٹے کو امیر شریعت کا عہدہ تفویض کرنے کے لئے قومی و ملّی استخارے کی ضرورت پڑ رہی ہے!؟

عجیب ہڑکمپ مچا ہوا ہے، پورے ہندوستان سے یار لوگ بہار کا سفر کرکرکے ہوائی ٹکٹ مہنگا کررہے ہیں، بہار اور جھارکھنڈ میں بعض مدرسوں کے مطبخ میں خفیہ میٹنگز چل رہی ہیں، بعض لوگوں کی تو سانسیں پھول رہی ہیں، ڈپریشن و اینگزائٹی کا شکار ہوگئے ہیں، بے خوابی کی وجہ سے سر اور تلوے پر روغنِ کدّو اور روغنِ گُل پَچوا رہے ہیں اور کچھ کو کھانا نہیں گھٹا رہا ہے تو ستوا گھول گھول کے پی رہے ہیں، عجب تماشا ہے! جسے دیکھو وہ امیر شریعت بن جانے کے خواب بُن رہا ہے، ہر کوئی اپنے اپنے شامیانے میں بانس ٹھیلے جا رہا ہے، دُھن بس ایک ہی ہے کہ کسی قیمت پر فیصل رحمانی امیر شریعت نہ بننے پائے حالانکہ انہیں نہیں معلوم کہ ان شاء اللہ، ہر قیمت پر فیصل رحمانی ہی امیر شریعت بننے جا رہے ہیں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*