طیاروں کی طرح پرائیویٹ ٹرین طے کریںگی اپنا کرایہ،ریل کا سفر اور بھی ہوگا مہنگا

نئی دہلی:ہندوستانی ریلوے اپنے نیٹ ورک پر نجی کمپنیوں کی مسافر ٹرینوں کی اسکیم پر کام کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ملک میں نجی ٹرینیں شروع ہوجائیں گی، لیکن ان ٹرینوں کے ساتھ سفر کرنا مہنگا ثابت ہوگا۔ ریلوے بورڈ کے چیئرمین وی کے یادو نے کہاکہ نجی کمپنیوں کو اپنے طریقے سے کرایہ طے کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ تاہم اگر ان روٹس پر اے سی بسوں اور طیاروں کی سہولت بھی موجود ہے تو کمپنیوں کو کرایہ طے کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا ہوگا۔ نجی ٹرینوں کے بارے میں ریلوے کامنصوبہ2022-23 میں 12 اے سی ٹرینیں چلانے کا ہے۔ اس کے بعد 2023-24 میں 45، 2025-26 میں 50 اور اس کے اگلے سال 44 ٹرینیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح 2026-27 تک کل 151 ٹرینیں شروع کی جائیں گی۔ٹرینوں کو 130 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے پر سفرکی مدت میں 10-15 فیصد اور 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے پر 30 فیصد تک کی بچت ہوگی۔ توقع کی جارہی ہے کہ ریلوے کو ان 151 ٹرینوں کے چلانے سے ہر سال 3000 کروڑ روپئے ملیں گے۔ ان ٹرینوں پر صرف ہندوستانی ریلوے کے ڈرائیور اور محافظ رکھے جائیں گے۔ ہندوستانی ریلوے بہت جلد ہوائی جہازوں کے کرائے کے طرز پر مصروف اسٹیشنوں پر مسافروں سے کرائے میں ’کنزیومر چارج‘ وصول کرنا شروع کرے گا۔ ریلوے بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے اور مزید آمدنی کے لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ عمل میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب ریلوے مسافروں سے اس طرح کی فیس وصول کی جائے گی۔ فیس برائے نام ہوگی اور یہ ملک کے سات ہزار ریلوے اسٹیشنوں میں سے صرف 10-15 فیصد پر نافذہوگی۔چیئرمین نے کہاکہ ہم برائے نام کنزیومر چارج لیں گے۔ ہم ان تمام سٹیشنوں کے صارف چارج کے بارے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کریں گے ،کنزیومر چارج تمام سات ہزار اسٹیشنوں پر نہیںبلکہ صرف انہی اسٹیشنوں پر لگایا جائے گا جہاں اگلے پانچ سالوں میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ یہ صرف 10-15 فیصد اسٹیشنوں پر نافذہوگا۔