20 C
نئی دہلی
Image default
اسلامیات

توکل وتدبیرکی اہمیت حقائق کے آئینے میں-عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

یہ دنیا عالم اسباب ہے اور سنت اللہ کے عین مطابق ان ذرائع واسباب میں مختلف قسم کی تاثیر یں پنہاں ہیں؛لیکن ان تاثیرات کے ظاہر ہونے یا نہ ہونے کوحق تعالی نے اپنے حکم سے وابستہ فرما رکھا ہے۔ گویا کہ اختیارِاسباب کا حکم بجالانے کے باوجود مطلوبہ نتائج کا حاصل ہونایا نہ ہونا مشیت الہی پر موقوف ہے۔ممکن ہے کہ مطلوبہ نتائج ہی حاصل ہوں،ممکن ہے کہ برعکس نتائج سامنے آئیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہ ہو۔لہٰذا بندے کو اسباب اختیارکرنے کا حکم پورا کرنا چاہیے، البتہ نتائج کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پرکامل اعتماد اور مکمل بھروسہ رکھنا چاہے،اسی کا نام توکل ہے۔بالفاظ دیگر توکُّل دراصل انسان کی باطنی کیفیت کا نام ہے جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے اور عمل کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔“توکُّل”کا ذکر قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پرمختلف انداز میں کیاگیاہے نیز اس کے اختیار کرنے پر دینی و دنیوی اعتبار سے کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”جو اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اس کے لئے کافی ہوجائے گا، اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے“۔ (طلاق)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم حسن وخوبی کے ساتھ اللہ پر توکل کرو تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کے وقت آسودہ ہوکر لوٹتے ہیں“۔ (مسند احمد)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھاکہ آنحضورﷺ نے فرمایا: اے بچے تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کروگے تو تم اللہ کو سامنے پاؤگے یعنی اللہ ہر جگہ تمہاری حفاظت و مدد فرمائے گا۔جب سوال کرو تو صرف اللہ سے سوال کرو! جب مدد چاہو تو صرف اسی سے مدد مانگو اور سنو! اگر پوری قوم تم کو نفع پہنچانے پر آمادہ ہوجائے تب بھی اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے لئے مقدر کررکھا ہے اوراگر تمام لوگ تم کو کچھ نقصان پہنچانے پر لگ جائیں تب بھی اتنا ہی پہنچا سکتے ہیں جتنا اللہ نے لکھ دیا ہے قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے یعنی قضاء وقدر کا فیصلہ ہوچکا ہے اسمیں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ (مشکوۃ)
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ اللہ پردل کے اعتماد کو توکل کہتے ہیں۔ علامہ منادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اللہ پر بھروسہ اور اپنی طرف سے عاجزی کو توکل کہتے ہیں۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے بقول اس بات کا یقین کہ موجودات میں صرف اللہ کی ذات موثر ہے کسی چیز کا نفع، نقصان، امیری، غریبی، صحت، مرض، حیات اور موت وغیرہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہئ قدرت میں ہیں۔
توکل،تدبیر کے منافی نہیں!
توکل یہ ہے کہ اسباب اپنا کر بھی اعتماد اللہ تعالی پر ہو، اسباب کو محض ذریعہ سمجھاجائے اور موثر حقیقی اللہ رب العزت کو ماناجائے، جیساکہ فرمانِ باری تعالی ہے:پس جب اسباب اختیار کر لو تو پھر توکل اللہ تعالی پر کرو۔ (آل عمران: 159)اسی طرح حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قوی مسلمان کمزور مسلمان سے اچھا ہے اور اللہ کو پیارا ہے۔بھلائی سب میں ہے۔ اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اللہ سے مدد مانگو عاجز ہوکرمت بیٹھ جاؤ۔اگر تمہیں کچھ تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کرلیتا تو ایسا ہوجاتا؛لیکن کہو کہ اللہ نے یہی مقدر کررکھاتھا جو اس نے چاہا کیا؛کیوں کہ اگر مگرشیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے (مسلم)اس سے معلوم ہوا کہ توکل ترک اسباب کا نام نہیں اور نہ ہی کسی مومن کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ صرف اسباب پر بھروسہ کرلے اور مسبب الاسباب کو بھول جائے،چاہے وہ جائز اسباب ہی کیوں نہ اختیار کر رہا ہو۔ کیونکہ اختیارِ اسباب تو ضروری ہے ہی؛ مگر اس کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں اس یقین کا جاگزیں ہونا بھی ضروری ہے کہ ان اسباب میں تاثیر ڈالنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اپنی مایہ ناز تفسیر ”معارف القرآن“ میں ارقام فرماتے ہیں: ”توکل ترک اسباب اور ترک تدابیر کا نام نہیں؛ بلکہ اسباب قریبہ کو چھوڑ کر توکل کرنا سنت انبیاء اور تعلیمات قرآن کریم کے خلاف ہے“ (معارف القرآن) مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتماد کرتے ہوئے ان تمام تدابیر کواختیار کر ے جنہیں مشروع قراردیاگیا ہے اوروہ تمام تدابیر جو بظاہر کتنی ہی موثر نظر آتی ہوں؛مگر خلاف شریعت ہوں، انہیں اختیار کرنے سے باز رہے۔
غزوات اسلام میں توکل و تدبیر:
ہر مسلمان کا اس بات پرپختہ ایمان ہے کہ نبی اکرم ﷺکی حیات طیبہ ساری انسانیت کے لیے تاقیامت مشعل راہ اور وسیلہئ نجات ہے؛اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس حوالے سے ایک نظر نبی اکرم ﷺکی سیرت مبارکہ پر بھی ڈالتے چلیں!
۷۱/رمضان المبارک ۲ہجری جمعہ کا دن، نماز فجر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے روح پرور، ولولہ انگیز اور موثر خطاب نے مجاہدین کو جوش وخروش سے لبریز کردیا ہے، صف بندی کا حکم دے دیا گیا ہے، آقا صلی اللہ علیہ و سلم صف بندی کررہے ہیں، فوج کو مورچے پر جمارہے ہیں، الگ الگ دستے بنا رہے ہیں، ان کے کمانڈر متعین کررہے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں یہی وہ دن ہے جسے قرآن کی زبان میں ”یَوْمُ الْفُرْقَانِ“ یعنی حق وباطل میں فرق کا دن قرار دیا گیا ہے۔یہ اس غزوے کا دن ہے جو تمام غزوات میں سب سے افضل ہے، جس کے شرکاء سب سے افضل ہیں، اور ان کے بارے میں زبانِ نبوت سے وارد ہوا ہے: شاید اللہ نے اہل بدر کو دیکھ کر فرمایا: جو چاہو کرو،تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی ہے،میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔(بخاری: المغازی: باب فضل من شہد بدراً)
ایک طرف یہ جنگی مستحکم، منظم، مکمل اور حکیمانہ نظام وانتظام،وسعت بھر تیاری، تمام ضروری تدابیر واسباب ووسائل کا اہتمام، اور دوسری طرف آخری درجہ کے الحاح وتضرع کے ساتھ رجوع وانابت الی اللہ اور اللہ سے مدد طلبی اور اس پر توکل۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام تدبیریں اور اسبابی انتظامات فرمائے، اونٹ، گھوڑے، تلوار، سب اسباب جمع کیے، اسباب کم ضرور تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سب اسباب اپنائے، پھر اپنے رب کی طرف رجوع بھی فرمایا۔
غرض:غزوہ بدر کے اس فیصلہ کن موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے توکل وتدبیر دونوں کو جمع کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ظاہری اسباب اور تیاری چھوڑکر محض تقدیر پر تکیہ کرلینا بے عملی اور کم عقلی ہے، اور صرف اسباب وتدابیر کو اپناکر اللہ کے دربار میں رجوع سے غافل رہنا محرومی اور نخوت ہے؛ بلکہ سنت رسول بتارہی ہے کہ اللہ پر توکل کی روح یہی ہے کہ تمام ممکن اسباب وتدابیر اپناکر نتیجہ اللہ پر چھوڑدیا جائے، اور اللہ کی طرف رجوع ہوا جائے، اور اسی سے مدد طلب کی جائے، اور دعا مانگی جائے، اس لئے کہ بابِ نصرت اسی دعا کے ہتھیار سے کھلتا ہے۔
غزوہ بدرمیں ا مسلمانوں کے مقابل آنے والا لشکر ایک ہزار کا تھا، پھر غزوہ احد میں حملہ کرنے والا لشکر تین ہزار کا تھا۔ اس مرتبہ یعنی غزوہ خندق کے موقع پر لشکر کی تعداد بھی پہلی مرتبہ سے زائد تھی، سامان حرب بھی اور تمام قبائل عرب و یہود کی اتحادی طاقت بھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس متحدہ محاذ کے حرکت میں آنے کی اطلاع ملی تو سب سے پہلا کلمہ جو زبان مبارک پر آیا یہ تھا: حسبنا اللہ ونعم الوکیل یعنی ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے”۔اس کے بعد مہاجرین و انصار کے اہل حل و عقد کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا۔ اگرچہ صاحب وحی کو مشورہ کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ براہ راست حق تعالیٰ کے اذن و اجازت سے کام کرتے ہیں؛مگر مشورے میں دو فائدے تھے۔ ایک امت کے لئے مشورہ کی سنت جاری کرنا، دوسرے قلوب مومنین میں باہمی ربط و اتحاد کی تجدید اور تعاون و تناصر کا جذبہ بیدار کرنا۔ اس کے بعد دفاع اور جنگ کے مادی وسائل پر غور ہوا۔ مجلس مشورہ میں حضرت سلمان فارسیؓ بھی شامل تھے جو ابھی حال میں ایک یہودی کی مصنوعی غلامی سے نجات حاصل کر کے اسلامی خدمات کے لئے تیار ہوئے تھے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے بلاد فارس کے بادشاہ ایسے حالات میں دشمن کا حملہ روکنے کے لئے خندق کھود کر ان کا راستہ روک دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺنے یہ مشورہ قبول فرما کر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ اور بنفسِ نفسس خود بھی اس کام میں شریک ہوئے۔گویا اس موقع پر بھی توکل وتدبیرکو ہم آمیز فرماکر امت کو اس بات کا سبق دیا کہ کامیابی کے واسطے دونوں ایک دوسرے کے لیے تقریباً لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح غزوہ حنین میں مسلمانوں کی تعداد مشرکین طائف کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ تھی کفار چار ہزار تھے؛جبکہ مسلمان بارہ ہزار۔ اس موقع پر مجاہدین اسلام کو اپنی ظاہری تعداد پر اعتماد ہوگیا کہ جب ہم کم ہوکر ہمیشہ فتح یاب ہوتے رہے ہیں تو آج زیادہ تعداد میں ہوکر فتح وکامیابی یقینا حاصل ہوجائے گی۔ یہ تصور و خیال توکل کے منافی تھا اس کا فوراً نتیجہ ظاہر ہوا اور جنگ ہوتے ہی مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے حالانکہ نہ ان کے ایمان میں ضعف تھا نہ اللہ کی ذات پر یقین و اعتماد میں شبہ۔ بس اتنی بے احتیاطی ہوگئی تھی کہ کثرت کو فتح کا ذریعہ تصور کرلیا تھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں بیان فرمایا:”تم کو اللہ نے بہت سے موقعوں میں غلبہ دیا اور حنین کے دن بھی جب کہ تم کو اپنے مجمع پر غرہ ہوگیا تھا پھر وہ کثرت کچھ کارآمد نہ ہوئی تم پر زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ ہوگئی‘ پھر تم پشت پھیر کر بھاگے۔“(سورہ توبہ)
ایک نصیحت آموز واقعہ:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ شب میں نفلیں پڑھنے مسجد کو تشریف لایا کرتے تھے، بعض حضرات نے ایک بار ان کو پہرا دیا، جب آپ نماز سے فراغت کے بعد باہر آئے اور ان لوگوں کو دیکھا، تو پوچھا کہ آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی حفاظت کے لیے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھاکہ آسمان والوں سے یا زمین والوں سے؟ لوگوں نے کہا کہ زمین والوں سے۔ یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب تک کسی بات کا فیصلہ آسمان میں نہیں ہوجاتا، اس وقت تک کوئی چیز زمین پر رونما نہیں ہوتی اور فرمایا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی لذت کوئی شخص اس وقت تک نہیں پاسکتا، جب تک یہ یقین نہ کرلے کہ جو کچھ (اچھا یا برا) اسے پہنچا ہے، وہ ہٹنے والا نہ تھا اور جو اسے نہیں پہنچا وہ اسے پہنچنے والا نہ تھا۔(تاریخ ابن عساکر)
توکل و تدبیر کے اقسام مع احکام:
توکل کی دوقسمیں ہیں: علماً اورعملاً۔علماًتوکل تو یہ ہے کہ ہر امر میں متصرف حقیقی ومدبر تحقیقی حق جل شانہ کو سمجھے اور اپنے کو ہر امر میں ان کا محتاج اعتقاد کرے۔ یہ توکُّل تو ہر مرحلے میں فرض اورعقائد اسلامیہ کا جز ہے۔دوسری قسم عملاً توکل ہے جس کی حقیقت ترک اسباب ہے۔ پھر اسباب کی دو قسمیں ہیں:اسباب دینیہ اور اسباب دنیویہ۔اسباب دینیہ جن کے اختیار کرنے سے کوئی دینی نفع حاصل ہو ان کا ترک کرناپسندیدہ نہیں؛ بلکہ کہیں گناہ اور کہیں خسران وحرمان ہے اور شرعاً یہ توکل نہیں۔اور اسباب دنیویہ جس سے دنیا کا نفع حاصل ہو اس نفع کی دو قسمیں ہیں حلال یا حرام، اگر حرام ہوتو اس کے اسباب کا ترک کرنا ضروری ہے اور یہ توکل فرض ہے۔اور اگر حلال ہوتو اس کی تین قسمیں ہیں (۱) یقینی (۲) ظنی (۳) اوروہمی۔
اسباب وہمیہ؛ جن کو اہل حرص وطمع اختیار کرتے ہیں جس کو طول امل یعنی لمبی امیدیں باندھنا کہتے ہیں،ان کا ترک کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے توکل فرض وواجب ہے۔
اسباب یقینیہ؛ جن پر وہ نفع عادۃً ضرور مرتب ہوجائے جیسے کھانے کے بعد آسودہ ہو جانا، پانی پینے کے بعد پیاس کم ہوجانا وغیرہ اس کا ترک کرنا جائز نہیں اور نہ یہ شرعاً توکل ہے۔
اسباب ظنیہ؛ جن پر غالباً نفع مرتب ہوجائے؛ مگر بارہا تخلف بھی ہوجاتا ہو، جیسے علاج کے بعد صحت ہوجانا، یانوکری اور مزدوری کے بعد رزق ملنا، ان اسباب کا ترک کرنا جس کو عرفِ اہل طریقت میں اکثر توکل کہتے ہیں اس کے حکم میں تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ ضعیف النفس کے لئے تو جائز نہیں اور قوی النفس کے لئے جائز ہے۔
اسی طرح تدبیر کے دو درجے ہیں: ایک اس کا نافع ہونا، دوسرا اس کا جائز ہونا، سو نافعیت میں تو یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ تقدیر کے موافق ہوگی تو نافع ہوگی ورنہ نہیں۔اور اس کے جائزہونے میں یہ تفصیل ہے کہ اس کے دو مرتبے ہیں: ایک مرتبہ اعتقادکا یعنی اسباب کو منکرینِ تقدیر کی طرح تاثیر میں مستقل سمجھا جائے، سو یہ اعتقاد شرعاً حرام وباطل ہے، البتہ تاثیرمیں غیر مستقل ہونے کا اعتقاد رکھنا اہل حق کا مسلک ہے۔دوسرا مرتبہ عمل کا یعنی مقاصد کے لئے اسباب اختیار کئے جائیں سو اس کا حکم یہ ہے کہ اس مقصد کو دیکھنا چاہئے کیسا ہے سو اس میں تین احتمال ہیں یا وہ مقصد دینی ہے یا دنیوی، مباح ہے یا معصیت ہے، اگر معصیت ہے تواس کے لئے اسباب کا اختیار کرنا مطلقاً ناجائز ہے اور اگر وہ دین ہے تو دیکھنا چاہئے کہ وہ امر دین واجب ہے یا مستحب۔اگر واجب ہے تو اس کے اسباب کا اختیار کرنا واجب ہے اور اگر مستحب ہے تو اس کے اسباب کا اختیار کرنا مستحب ہے اور اگر وہ دنیاوی مباح ہے تو دیکھنا چاہئے کہ وہ دنیاوی مباح ضروری ہے یا غیر ضروری، اگر ضروری ہے تو ان اسباب کو دیکھنا چاہئے کہ ان پر اس مقصد کا ترتب یقینی ہے یا غیر یقینی اگر یقینی ہے تو اس کے اسباب کا اختیار کرنا بھی واجب ہے اور اگر غیر یقینی ہے تو ضعفاء کے لئے اختیارِ اسباب واجب اور اقویاء کے لئے گو جائز ہے؛ مگر ترک افضل ہے۔اور اگر وہ دنیاوی مباح غیر ضروری ہے تو اگر اس کے اسباب کا اختیار کرنا مضردین ہو تو نا جائز ہے ورنہ جائز ہے، مگر ترک افضل ہے۔(ملخص از بوادرالنوادر)
آمدم برسر مطلب:
ان دنوں کرونا وائرس کے نام پر دنیا بھر میں جواودھم مچی ہوئی ہے، اس سے ہر فرد بشر واقف ہے۔اس وقت اللہ پر بھروسے کا پہلو خدا جانے کہاں غائب ہوگیا؟ہر کوئی اسباب کا اسیردکھائی دے رہاہے۔ بیماریوں اور بالخصوص وبائی و متعدی بیماریوں میں احتیاطی تدابیراختیار کرنا نہ صرف وقت کا تقاضا ہے؛ بل کہ شریعت کی نظر میں لازم ومطلوب بھی ہے،لیکن احتیاط کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ لوگوں کو دہشت زدہ کیاجائے، انہیں گھروں کی چاردیواری میں محصور کردیا جائے، مسجدوں میں باجماعت نماز پر پابندی عائد کردی جائے،جمعہ قائم کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے،حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات کو ویران وسنسان کردیاجائے وغیرہ۔۔۔۔۔فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے بقول اگر معاملہ اتنا ہی سنگین ہو تو صحیح طریقہئ کار یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں سے صابن کا استعمال کرتے ہوئے وضو کرنے اور گھروں میں سنتیں ادا کرکے آنے کی اپیل کی جائے،نماز کا وقفہ مختصر رکھاجائے،جس شخص کو نزلہ وزکام ہو اس سے کہاجائے کہ وہ گھر پر نماز ادا کریاور مسجد نہ آئے۔مساجد میں صفائی ستھرائی کا مکمل انتظام کیاجائیاور نمازیوں کو ماسک وغیرہ پہننے کا پابند بنایاجائے؛مگر جماعتوں کوموقوف کردینا یہ علاج نہیں ہے،یہ تو بیماری ہے،روح کی بیماری اور ضعیف الاعتقادی کی بیماری۔خاص کر ہندوستان جیسے ملک میں نماز کی جماعت کو موقو ف کردینا مستقبل میں بہت خراب نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment