توہینِ رسالت کے معاملے: حل کیا ہے؟-عبداللہ ممتاز

ہندوستان اور پاکستان میں گستاخی رسول کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، کوئی بھی ایرا غیرا جس کی معاشرہ؛ بلکہ گلی محلہ می‍ں کوئی اوقات نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ازواج مطہرات کے متعلق نا زیبا بات کہہ کر یا لکھ کر سستی شہرت بٹور لیتا ہے، کہ "بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا”، پھر میڈیا اور سوشل میڈیا اسے پاپولر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتاـ

رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے ایک ادنی سے ادنی مؤمن کی جو جذباتی محبت ہوتی ہے دنیائے تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کرسکتی، اختر شیرانی کے متعلق پڑھا تھا کہ وہ شراب میں مدہوش تھے، ایک کمیونسٹ نوجوان قدیم وجدید بڑے شعرا، ادبا اور فلاسفروں پر تبصرہ کرا رہا تھا اور وہ نشے کی جولانی میں مست کسی کو طفل مکتب، کسی کو نوآموز، کسی کو اپنے شاگرد سے کمتر بتا رہے تھے، کسی کے متعلق کہا کہ اس زمانے میں ہوتے تو میرے شاگرد ہوتے، کسی کے متعلق کہا کہ اسے تو شعر کی ابجد بھی نہیں آتی. جام پر جام چلتا رہا اور شعراء پر ان کے تبصرے ہوتے رہے، جب وہ نشہ میں بالکل دھت ہوچکے، دماغ ساتویں آسامان پر تھا، زبان لڑکھڑا رہی تھی، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے، اس کمیونسٹ جوان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کرلیا، یہ سننا تھا کہ آنکھوں میں سرخی دوڑ گئی، شراب میں مدہوش شخص کا نشہ کافور ہو گیا، جذبات میں اٹھ کھڑے ہوے، بلوری گلاس اٹھائی اور اس کمیونسٹ کے سر پر یہ کہتے ہوے دے مارا کہ "ایک عاصی سے سوال کرتا ہے، ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے، ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تم نے ایسی حالت میں یہ نام کیوں لیا؟ تمھیں جراَت کیسے ہوئی، گستاخ! بے ادب!!” جسم کانپ رہا تھا، ساری رات روتے رہے اور کہتے تھے کہ "یہ ہم سے آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہ گار ضرور ہوں؛ لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں”ـ
مؤمن چاہے کتنا ہی کوتاہ عمل ہو، اسے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے وارفتگی، والہانہ عشق اور بے پناہ محبت ہوتی ہے، ان کی شان میں ذرا سی گستاخی سے اس کا دل تڑپ جاتا ہے، دماغ سخت اذیت محسوس کرتا ہے اور طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، شان رسالت اور اس کا تقدس اس کی اپنی جان سے بھی عزیز ہوتا ہے، یہی ایمانی تقاضہ ہے، اگر ایسا نہیں تو پھر ایمان کہاں؟ "لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين” (بخاری:15) کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ کی محبت اپنے ماں باپ، آل اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر نہ ہو تب تک آدمی کا ایمان مکمل نہیں ہےـ

غیرت وجذبات اگر شرعی حدود میں ہوں تو یہ پسندیدہ چیز ہے، ایک مرتبہ سعد بن عبادہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی مرد کے ساتھ (نازیبا حالت میں) دیکھوں تو بلا تاَمل اس کی گردن اڑا دوں گا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس کی تعریف کی اور فرمایا میں تو اس سے بھی زیادہ غیرت مند آدمی ہوں. "لو رأيتُ رجلا مع امرأتي لضربتُه بالسيف غير مصفِح عنه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أتعجبون من غيرة سعد، فوالله لأنا أغير منه”ـ (بخاری:7416)
لیکن اپنی غیرت اور جذبات کا صحیح استعمال بیحد ضروری ہے، اگر اپنے جذبات کا بیجا استعمال کرتے ہیں تو یہ بجائے محمود ہونے کے مبغوض بن جاتا ہے، جیسے زمانۂ جاہلیت میں لوگ غیرت کی وجہ سے اپنی بیٹیاں درگور کردیتے تھےـ
اس طویل تمہید کے بعد سنیے! گستاخی رسول کے جو واقعات پیش آتے ہیں اس کی دو شکلیں ہوتی ہیں.
۱. کہیں کسی نے اپنے بیان میں بکواس کی اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ـ
۲. کسی نے سوشل میڈیا پر بکواس لکھا اور وہ وائرل ہوگیاـ

اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی طرف سے دو قسم کے رد عمل سامنے آتے ہیں ـ
۱. اس ویڈیو/پوسٹ کو یہ لکھ کر خوب شیر کیا جاتا ہے کہ "اس پر لعنت بھیج کر آگے شیر کریں”، "فلاں نے گستاخی کی، اس لیے اسے اتنا شیر کریں کہ یہ بندہ گرفتار ہوجائے”.
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس کی دو ٹکے کی اوقات نہ تھی، جس کی پوسٹ کو دو چار لوگ بھی شیر نہ کرتے ہوں اسے ہزاروں لوگ شیر کرنے لگ جاتے ہیں، ہزاروں تبصرے آنے لگتے ہیں، اس کے پروفائل پر وزیٹرز کا تانتا لگ جاتا ہے اور وہ محض چند دنوں میں سوشل میڈیا پر چھا جاتا ہے. ظاہر ہے خیر کے ساتھ شر بھی ہوا ہی کرتا ہے، عمل کا رد عمل ہونا فطری ہے، گیند کو جتنی قوت کے ساتھ دیوار پر ماریں اتنی ہی تیزی کے ساتھ آپ کے پاس واپس آئے گی، یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے مسلمان اپنے فرطِ جذبات کی وجہ سے اس اس پر شدید لعن طعن کرتا ہے، اسے گرفتار کرانے کی بات ہوتی ہے جس کی وجہ سے انھیں شرپسند عناصر کا سپورٹ مل جاتا ہے، پھر وہ ان کی حمایت پر اتر آتے ہیں، اب وہ سوشل میڈیا کا اسٹار بن جاتا ہے، مذہبی بنیادوں پر اب اس کے مخالفین اور حمایتی ہوتے ہیں. یہی اس کا منشا تھا، جسے ہماری غیرت کے غلط استعمال نے اس کے حصول منشاء کو کامیاب بنا دیاـ
۲. زمینی سطح پر زبردست قسم کے احتجاج کیے جاتے ہیں، پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کی جاتی ہے، سخت اشتعالی قسم کے لوگ ان احتجاجوں اور ریلیوں کو لیڈ کر رہے ہوتے ہیں، ہزاروں لاکھوں کا مجمع اکٹھا کیا جاتا ہے، توڑ پھوڑ مچائی جاتی ہے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے. پھر پولیس انتظامیہ کا ری ایکشن ہوتا ہے، بجائے ہمارے غم وغصہ کو سمجھنے کے ہم پر گولیاں اور لاٹھیاں چلتی ہیں اور کئی جانوں کا ضیاع ہوتا ہےـ
ظاہر ہے کہ اس طرح بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے، اب میڈیا مسلمانوں کے پرتشدد احتجاج پر خبریں چلائے گا، اخبارات اپنے فرنٹ پیج پر اسے جگہ دیں گے، ہوسکتا ہے کہ حکومت کی طرف سے چند مہنیوں کے لیے انھیں جیل بھیج دیا جائے، اس کے بعد حکومت ان کے تحفظ کا انتظام کرے گی اور جن کا مفاد ہندو مسلم کی آپسی جنگ سے وابستہ ہے ان کے لیے وہ ایک ہیرو بن کر ابھریں گےـ
ہندوستان جیسے ملک میں اس کا دوہرا نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑتا ہے، ایک طرف مسلمانوں کی جانیں بھی جاتی ہیں اور اشتعال انگیزی کے لیے گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں، دوسری طرف مسلمانوں کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے غیر مسلم حضرات بھی متنفر ہوتے ہیں کہ یہ بس ایک جذباتی قوم ہےـ
اور گستاخی کرنے والوں کو دوہرا فائدہ ہوتا ہے، اسے مفت کی شہرت مل جاتی ہے، میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک متشدد ہندؤں کی انھیں حمایت حاصل ہوجاتی ہے، حکومت کی طرف سے ان کے تحفظ کا سامان کیا جاتا ہے اور یہ ان کے لیے سیاست میں قدم رکھنے کا زینہ ثابت ہوتا ہےـ

اس کا حل کیا ہے؟

مزاجِ صحابہ یہ ہے کہ اہانت آمیز مواد کو زیادہ سے زیادہ اگنور کیا جائے، اسے اچھالنے کے بجائے دبانے کی کوشش کی جائے، عہد نبوی میں کئی بد بختوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، اشعار کہے؛ لیکن رسول اللہ کی ایک ایک ادا اور اشارے کو محفوظ رکھنے والے صحابہ نے ان اشعار کو نقل نہیں کیا، پورے ذخیرۂ احادیث اور سیرت وتاریخ کو چھان جائیے، کہیں بھی آپ کو وہ اشعار نہیں ملیں گےـ
اس کی روشنی میں ہمیں دو باتوں پر عمل کرنا چاہیےـ
۱. سوشل میڈیا پر جہاں کہیں اس قسم کا مواد نظر آئے اسے ہاتھ بھی نہ لگائیں، اسے نہ تو شیر کریں اور نہ ہی اس پر کوئی منفی تبصرہ لکھیں؛ بلکہ اگر وہ فیس بک یا ٹویٹر پلیٹ فارم پر ہے تو اسے آپ بس رپورٹ کردیں. میرا ذاتی تجربہ اور معلومات یہ ہے کہ blasphemy (جرم اہانت کی) پالیسی کے مطابق ایسے مواد فیس بک پلیٹ فارم سے ہٹا دیے جاتے ہیں، ٹویٹر اور یوٹیوب کا علم نہیں؛ لیکن زیادہ رپورٹ ہونے پر وہ بھی ایکشن لیتے ہیں ـ
۲. غیر ضروری احتجاج اور ہنگاموں سے بچا جائے، اس سے مزید انھیں شہہ ملتی ہے؛ بل کہ دوسرے بدبختوں کو بھی شہرت پانے کی ایک راہ سوجھتی ہے، اس لیے احتجاجوں اور بڑے ہنگاموں کے بغیر علاقے کی بااثر شخصیات کے ساتھ ایف آئی آر کرکے انھیں ضروری سزا دلانے کی کوشش کی جائےـ ویسے بھی "پھانسی دو” کے محض نعروں سے کسی کو پھانسی نہیں دی جاسکتی؛ کیوں کہ ہندوستان میں blasphemy کے لیے پھانسی کا کوئی قانون نہیں ہےـ
اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق دے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*