توہین عدالت معاملے میں کامیڈین کنال کامرا کو وجہ بتائو نوٹس

نئی دہلی:عدالت عظمی کے خلاف مبینہ توہین آمیز ٹویٹ کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے مزاحیہ اداکار کنال کامرا اور مزاحیہ فنکار رچیتا تنیجا کو وجہ بتائونوٹس جاری کیاہے۔جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے دونوں کو الگ الگ نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں چھ ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم توہین عدالت کے دیگر معاملات میں بنچ نے سماعت کے دوران دونوں کو پیش ہونے میں رعایت دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جمعرات کومبینہ توہین آمیز ٹویٹ کیس میں کامرا اور تنیجا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔ اٹارنی جنرل کے آر وینوگوپال نے کامرا کے خلاف مجرمانہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ٹویٹس اچھی نیت کے تحت نہیں کیے گئے تھے اور اب وقت آگیا ہے کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ عدالت عظمیٰ پر حملہ کرنے کے لیے توہین عدالت ایکٹ 1971 کے تحت سزا ہوسکتی ہے۔اسی طرح اٹارنی نے تنیجا کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تبصرے سپریم کورٹ کو بدنام کرنے اور عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد کم کرنے کے لیے کئے گئے۔ قابل ذکر ہے کہ کسی شخص کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے عدالت کو توہین عدالت ایکٹ 1971 کے سیکشن 15 کے تحت اٹارنی جنرل یا سالیسٹر جنرل کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کی مجرمانہ توہین پر 2 ہزار روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔