تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی میں مرزا غالب پر ایک پر وقار تقریب، ازبک زبان میں ”منتخب غزلیات غالب” کا اجرا

(رپورٹ: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین)

ازبکستان میں ڈائریکٹر لعل بہادر شاستری سنٹر فار انڈین کلچر کے اشتراک سے ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ورلڈ اردو ایسوسی ایشن سفارت خانہ ہند، تاشقند اور کلچرل سینٹراور اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چندر شیکھر کو مبارکباد پیش کرتا ہے۔ڈاکٹر چندر شیکھر کی کوششوں سے مئی 20121 تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی فار ار ینٹل سٹڈیز تاشقند میں انیسویں صدی کے باکمال شاعر مرزا غالب پر ایک پر وقار تقریب میں لعل بہادر شاستری سنٹر فار انڈین کلچر کے ڈائریکٹر پروفیسر چندر شیکھر اور محیا عبد الرحما نوا ر استاد تاشقند سٹیٹ یونیورسٹی فار ار ینٹل سٹڈیز کی مشترکہ تصنیف ”منتخب غزلیات غالب” کی رسم اجرا ہوئی –
اس تقریب کے موقع پر محترمہ ڈاکٹر گلچہرہ رخسیوا ریکٹر تاشقند سٹیٹ یونیورسٹی فار ار ینٹل سٹڈیز ، جناب عالی منیش پر بھت سفیر ہندوستان ، پروفیسر چندر شیکھر ڈایرکٹر لعل بہادر شاستری سنٹر فار انڈین کلچر ، ڈیپارٹمنٹ کے سب اساتذہ اور طلبہ شریک تھے۔ سفیر منیش پربھات نے اپنی افتتاحی تقریر میں سب شرکا کا استقبال کیا اور کہا کہ غالب ایک غیر معمولی صلاہیت کا تخلیق کار کی حیثیت سے نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کی تہذیب کا ایک حصہ بن گیا ہے ان کی شہرت ان کی غزلوں میں انسانی جذبات اور سچے مشاہدات و تجربات کی خوبصورت پیش کش کے سبب ہے-پروفیسر چندر شیکھر صاحب نے ازبیکستان اور ہندوستان کے مابین رشتوں پر وضاحت سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب پر ناز کرنے کا حق نہ صرف ہندوستانی عوام کو بلکہ ازبک عوام کو بھی حاصل ہے جو نسبی ا عتبار سے سمرقند کے تھے جن کا دادا قوقان بیگ سمر قند سے ہندوستان آ ئے تھے،ہمیشہ سلجوقی ترک ہونے پر فخر کرتے تھے – ازبیک عوام کے غالب کے کلام سے گہرا شغف رکھنے کے مد نظر قارئین کی تشنگی بجھانے کے لیے یہ کتاب مہیا کی گی ہے-
ڈاکٹر محیا عبد الر حمانوا نے اس دیدہ زیب کتاب کی اشاعت کے لیے ہندوستانی سفارت خانے خاص کر ہندوستانی ثقافتی مرکز کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ ان دو اداروں کی مالی امداد کی بدولت یہ انتخاب شائع ہو سکی – ” میں خاص طور سے استاد محترم چندر شیکھر صاحب کی بے حد سپاس گزار ہوں کہ اپ کے ساتھ دوش بہ دوش کام کر کے مجھے آپ کی علمی بصیرت سے فیض یاب ہونے کی سعادت بخشی گئی – انہوں نے مزید کہا جب مرزا غالب کی اردو شاعری کے ازبک تراجم پر بات ہوتی ہے تو ازبیکستان میں اردو کے بڑے محسن رحمن بیردی محمد جان مرحوم کا نام نہ لیا جائے آج کی گفتگو ادھوری رہے گی جہنوں نے از بیک عوام کو غالب کے کلام سے متعارف کرانے میں ناقابل فراموش خد مات انجام دی تھیں – پروفیسر الفت صاحبہ سب مہمانوں کا شکریہ ا دا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سفارت خانے اور ہندوستانی ثقافتی مرکز کی کوشش ہے کہ ہمارے علمی ادبی ثقافتی تعلقات نئے حالات کے تقاضوں کے تحت زیادہ معنے خیز ہوں۔ مرزا غالب کی یوم پیدایش اور وفات کے موقع پر آج تک کئی تقریبات کا اہتمام ہو چکا ہے- یہ انتخاب ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کے رشتوں کو زیادہ مظبوط بنانے میں مثبت قدم ثابت ہو گا-