تشہیر کا نتیجہ جانتے ہو ؟ ـ ایم ودود ساجد

 

میں ایک عرصہ سے گزارش کرتا آرہا ہوں کہ UPSC یعنی سول سروسز کے امتحانات کی مفت تیاری کرانے والے ادارے زیادہ سے زیادہ قائم کئے جائیں لیکن کوالیفائی کرنے والے مسلم امیدواروں کی تشہیر نہ کی جائے ۔

لیکن حال یہ ہے کہ جائز تشہیر سے بھی آگے بڑھ کر جھوٹی’ فرضی اور مبالغہ آمیز تشہیر زور وشور سے کی جاتی ہے۔اس بدعت کی ابتدا مرحوم سید حامد کے زمانے میں ہوئی تھی۔ آج اس مشن کو ایک دوسرے "سید” صاحب آگے بڑھا رہے ہیں ۔

سید حامد صاحب مرحوم نے بڑا کام کیا تھا۔ بڑی تعداد میں نوجوان سول سروسز میں پہنچنے لگے تھے۔اب کوئی نہیں جانتا کہ ان کے قائم کردہ ادارے کی کارکردگی کیوں خاک میں مل گئی ہے۔دوسری جانب جو دوسرے ادارے اس میدان میں کام کر رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ تشہیر کے ذریعہ عملاً زیادہ سے زیادہ چندہ کرنا ان کا اصل مقصد ہے۔

مولانا عبدالحمید نعمانی میرے اس خیال کی تائید کرتے رہے ہیں کہ تشہیر سے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے۔وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ آر ایس ایس والے بھی اس میدان میں کام کر رہے ہیں لیکن وہ کبھی کوئی شور شرابہ نہیں کرتے۔

میں نے آج کے ایک تازہ ٹویٹ کا اسکرین شاٹ اٹیچ کیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سدرشن نیوز کا زہریلا اینکر سریش چوہانکے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یوپی ایس سی کے ذریعہ جہاد کا پردہ فاش ہوا ہے۔ کل 28 اگست بروز جمعہ پورے دن سدرشن نیوز پر یہ زہریلا پروپیگنڈہ چلے گا۔

خدا جانے وہ کیا کیا بکواس کرے گا۔لیکن اندازہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرے گا اس میں ان عاقبت نااندیش اداروں کا بڑا کردار ہوگا جو ایک ہزار سے زیادہ اسامیوں میں چند مسلم امیدواروں کے کامیاب ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر شرپسندوں کو جگاتے ہیں ۔ یہی نہیں وہ اُن امیدواروں کے نام بھی اپنے تربیت یافتگان کی فہرست میں شامل کرلیتے ہیں جو دوسرے اداروں کی فہرست میں بھی ہوتے ہیں ۔۔۔ اور مسلمانوں میں ایسا شور مچتا ہے کہ جیسے آج دشمنوں کا قلعہ فتح کرلیا ہو۔کوئی یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کرتا کہ آخر ایک امیدوار ایک ساتھ تین تین اداروں میں کیسے کوچنگ لے سکتا ہے؟ ملاحظہ فرمائیے کل ہونے والے "پردہ فاش” کا ایک نمونہ اور پھر خود طے کیجئے کہ ہمارے یہ ہمدرد ہمیں کس مقام پر پہنچا رہے ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)