Home نقدوتبصرہ تصوف عہد بعہد ایک مطالعہ – محمد ضیاء العظیم قاسمی 

تصوف عہد بعہد ایک مطالعہ – محمد ضیاء العظیم قاسمی 

by قندیل
موبائل نمبر 7909098319 
"تصوف عہد بعہد” یہ ڈاکٹر سید شاہ حسین احمد صاحب کے ایک اہم اور نایاب خطبہ پر مشتمل تصنیف ہے، جسے آپ نے عالی جناب ڈاکٹر عابد رضا بیدار صاحب کی فرمائش پر اورینٹل لائبریرین شپ ورکشاپ کے تحت "تحریک تصوف” کے موضوع پر توسیعی خطبات کے سلسلے میں 18/جنوری 1990 کو مدعو سامعین کے رو برو خدا بخش لائبریری پٹنہ میں دیا تھا، اس خطبہ پر علماء، ادباء، صوفیا اور دانشوروں نے بہت سے اعتراضات و سوالات بھی اٹھائے تھے جس کا موصوف محترم نے مکمل، مدلل، اور مفصل و تشفی بخش جواب دیا تھا ۔ اس کتاب کی شروعات میں مصنف محترم نے عرض ناشر میں اس خطبہ کی مکمل تاریخ و وجہ تالیف بیان کردی ہے ۔
اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیقات اپنی عبادت وریاضت اور بندگی کے لئے فرمائ ہے، اور انسانوں کے مزاج اور اس کی ضروریات کے مطابق اس دنیا کو پیدا فرمایا ہے، تاکہ انسانوں کی تمام تر ضروریات پوری ہوسکے، عبادت وریاضت اور بندگی نام ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا، اللہ رب العزت نے ایمان وکفر کے راستے پر چلنے کا اختیار انسانوں کو عطا فرمایا ہے، لیکن ساتھ ساتھ ایمان کی حلاوت وچاشنی، انعامات واکرامات کی مکمل وضاحت کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا کہ,,اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ،،جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو یقیناً ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہے ۔(سورہ کہف آیت نمبر ١٠٧)
اسی طرح کفر وشرک کی مذمت کرتے ہوئے کافرین کے لئے دردناک عذاب اور ابدی جہنم کا وعید سنائی ہے۔ ارشاد باری ہے۔ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا
ترجمہ: بے شک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (سورہ دہر آیت ٤)
اللہ رب العزت نے یقیناً انسانوں کو ایمان وکفر کے راستے کے انتخاب کا اختیار دے رکھا ہے، لیکن ہم دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کفر کے راستے پر چلنے میں صرف ناکامی وتباہی اور بربادی ہے، جبکہ ایمان کی راہ میں قلبی سکون کے ساتھ ساتھ ابدی عیش وعشرت کی زندگی ہے ۔
اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہماری دنیا وآخرت دونوں کامیاب ہو جائے، آخرت کی کامیابی کا دارومدار دنیا کی کامیابی پر ہے، اللہ رب العزت نے انسانوں کو دعائیں مانگنے کا حکم دیا ہے کہ تم دنیا میں بھی بھلائی طلب کرو اور آخرت کی بھلائی کا بھی تمہیں خوب خوب خیال رہے کیوں کہ مومن کے لیے اصل زندگی وہی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے،
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
ترجمہ  اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (سورہ بقرہ آیت نمبر 202)
ان باتوں کو سمجھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کا تصوف  ایک اہم وسیلہ اور ذریعہ ہے ۔ کیونکہ تصوف نام ہے قرب الہی کا، انسانوں کا جب اللہ سے تعلق پیدا ہوگا تو لا محالہ ہرعمل میں اخلاص پیدا ہوگا،  خشیت الٰہی سے دل معمور ہوگا، اخلاق رذیلہ کے بجائے اخلاق حسنہ والی صفت آئے گی ، اپنی عبادات کو، اخلاقیات اور معاملات کو شریعت کے مطابق کرنے کی سعی کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ یہی دراصل تصوف کا تقاضہ ہے، یہی شریعت مطہرہ ہے ۔ تصوف کا دوسرا نام طریقت ہے۔
اس مختصر سی تحریرو خطبات میں مصنف محترم نے انہیں باتوں کو قرآن وأحاديث کے روشنی میں، اکابرین ملت کے واقعات کے ذریعہ مدلل ومفصل سمجھانے کی سعی کی ہے ۔
تصوف کیا ہے ؟تصوف کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کیوں ہے؟ صوفیائے کرام کسے کہتے ہیں ؟ صوفیوں کے اوصاف کیا ہیں؟مشہور ومعروف صوفیائے کرام کون ہیں؟ ان کا عہد کیا تھا؟ ان کی تحریکات نے دنیا پر کیا اثر چھوڑا؟ ان کے پیغامات کن کے لئے ہیں؟ احکامات و پیغامات شرعیہ کو سمجھنے میں اور اس پر عمل پیرا ہونے میں اس سے کیا معاونت حاصل ہے؟ چند واقعات کے ذریعہ ان باتوں کو مصنف محترم نے واضح کیا ہے۔
ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی نتائج اخذ ہورہے ہیں کہ احکام شرعیہ وادلۂ شرعیہ کو سمجھنے اور رب العزت سے روحانی رشتہ قائم کرنے رکھنے کے لئے تصوف جزو لازم کا درجہ رکھتا ہے ۔
کتاب میں بہت سہل الفاظ وعبارات کا استعمال ہے جسے ایک عام قاری بھی با آسانی سمجھ سکتا ہے، مصنف محترم نے جن اسالیب کا استعمال کیا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان پیغامات کو ہر خاص وعام تک پہنچانا چاہتے ہیں اور وہ اپنے مقصد میں بھر پور کامیاب وکامران نظر آتے ہیں ۔
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم تصوف کامطالعہ کریں، اسے سمجھنے کی کوشش کریں، ان اوصاف کو اپنے اندر لاکر قرب الہی وخشئیت الہی پیدا کرکے اپنی دنیا وآخرت دونوں کامیاب وکامران بنائیں،آپ اس کتاب سے استفادہ کریں، مصنف موصوف سے براہ راست ملاقات کر کے ان سے دعائیں لے سکتے ہیں،اللہ مصنف محترم کو اپنی شایان شان جزا وبدلہ عطا فرمائے آمین ۔

You may also like

Leave a Comment