Home نقدوتبصرہ ڈاکٹر طفر الاسلام کا لاجواب انگریزی ترجمۂ قرآن پاک- شکیل رشید

ڈاکٹر طفر الاسلام کا لاجواب انگریزی ترجمۂ قرآن پاک- شکیل رشید

by قندیل

عربی اور انگریزی کے اسکالر ڈاکٹر ظفر الاسلام کا نام اور کام دونوں ہی کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں ، حالانکہ وہ تشہیر کو ایک عیب سمجھتے ہیں ، اور اپنے اور اپنے کام کے پرچار سے دور ہی دور رہتے ہیں ۔ اِن دنوں اُن کا جو کام لوگوں میں بالعموم اور عالموں و دانشوروں میں بالخصوص موضوع ، گفتگو ہے وہ ہے قرآن پاک کے انگریزی ترجمے کا کامThe Glorious Quran : An Accurate Rendering Of The Text Based On Earliest Authorative Sources ۔ جیسا کہ عنوان ہی سے اندازہ ہوتا ہے یہ ترجمہ قرآن پاک کی آیات کے درست اور صحیح ترجمے کی ایک کوشش ہے ، بلکہ کامیاب کوشش ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کام کے لیے قدیم ماخذ کو پیش نظر رکھا ہے ۔ یہ ترجمہ کیوں ضروری تھا ؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے ، اور اہم بھی ۔ ظاہر ہے کہ آج کے دور میں قرآن پاک کے انگریزی تراجم کی کوئی کمی نہیں ہے ، بے شمار ترجمے کتابی صورت میں بھی مل جاتے ہیں ، اور انٹرنیٹ پر بھی ۔ اس سوال کا جو جواب ’ مترجم کے نوٹ ‘ میں ڈاکٹر صاحب نے دیا ہے ، وہ چونکانے والا ہے ،کم از کم میرے لیے ۔ میں اب تک یہ سمجھتا رہا ہوں کہ قرآن پاک کا سب سے معتبر انگریزی ترجمہ عبداللہ یوسف علی کا ہے ، لیکن ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ، ’’ یہ ترجمہ ایک دہائی قبل ، عبداللہ یوسف علی کے قرآن پاک کے انگریزی ترجمہ پر نظرثانی کے طور پر ، شروع ہوا تھا ۔ جب میں 1980 میں لندن کے مسلم انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ فیلو تھا ، اور اکثر پیپروں اور کتابوں میں اس سے قرآنی آیات کے ترجمے بطور حوالہ دیا کرتا تھا ، تب سے ہی ، اس مقبول عام ترجمے پر نظرثانی کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہا تھا ۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عبداللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمۂ قرآن اس قدر معیاری نہیں ہے جس قدر کہ سمجھا جاتا ہے ، وہ آگے وضاحت کرتے ہیں ، ’’ یوسف علی کا ترجمہ بڑا کارآمد تھا ، لیکن جب بھی میں اسے استعمال کرتا یہ محسوس کرتا کہ عربی متن کی درست ادائیگی نہیں کی گئی ہے ۔ ترجمہ یا تو نادرست ہوتا یا لفظ بہ لفظ اس کی درست اور صحیح ادائیگی کے بجائے وضاحت ہوتی ۔‘‘ یہ خامی یا کمی ڈاکٹر صاحب کو پریشان کیے رہی ، وہ نظرثانی کے منصوبے بناتے رہے ، لیکن منصوبہ پر عمل کی نوبت 2010 میں آئی جب ڈاکٹر صاحب اپنی شریک حیات کے ہمراہ فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے گیے تھے ۔ نظرثانی کا کام شروع ہوا ، جو کام کیا اس کام پر کئی بار نظر ثانی کی ، لیکن 2020 میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سربراہ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ہی وہ اس کام پر مکمل توجہ دے سکے ، اور اللہ کی مدد سے یہ کام ایک سال کے اندر ، لیکن مجموعی طور پر گیارہ برسوں میں ، مکمل کر لیا ۔ اس ترجمہ پر کس قدر محنت کی گئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک کی مشکل ترین آیات کو سمجھنے کے لیے قرآن پاک کی مستند ترین تفاسیر کو ، جیسے کہ ’ الطبری ‘ ، ’ ابنِ کثیر ‘ اور ’ زمخشری ‘ وغیرہ سے مدد لی گئی ہے ، اور مستند ترین اور ابتدائی دور کی عربی تفاسیر اور ڈکشنریوں سے استفادہ کیا گیا ہے تاکہ مشکل الفاظ، تعبیروں اور اصطلاحات کا ترجمہ بھی درست ہو سکے اور تشریح بھی غلط نہ ہو ۔ اس نئے ترجمے میں کوشش کی گئی ہے کہ ’ ترجمہ ‘ اور ’ فٹ نوٹ ‘ یعنی حاشیے کے ذریعے قرآن پاک کو اُسی طرح سمجھا جائے ، جیسے کہ اولین نسل نے قرآن پاک کو سمجھا تھا ۔ اس ترجمے کے لیے ڈاکٹرظفرالاسلام نے دو ہزار سے زیادہ نئے تشریحی حاشیے لکھے ، اور کئی ضمیمے بھی ۔ اس ترجمے میں ’ قرآن پاک کا تعارف ‘ کے عنوان سے کتابِ ہدایت کا لاجواب تعارف کرایا گیا ہے ، ساتھ ہی رسول اکرمؐ ؑﷺ کی سوانح حیات بھی شامل کی گئی ہے ، جو اس لیے بھی ضروری تھی کہ یہ ترجمہ انگریزی داں حضرات تک پہنچے گا ، اور اس سے انہیں یہ پتہ چلے گا کہ رسول اکرم ﷺ کون تھے ، کیا کرتے تھے ، کیسے اخلاق تھے اور کس طرح کی زندگی تھی ۔ یاد رہے رسول اکرم ﷺ کے اخلاق سے نہ جانے کتنے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، ممکن ہے یہ سوانح بھی لوگوں کو متاثر کرے ۔ ترجمہ میں ’ اللہ پاک کے خوبصورت نام ‘ بھی دیے گیے ہیں ، نیز اسلامی اصطلاحات کی ڈکشنری اور قرآنی موضوعات کا انڈکس بھی اس میں موجود ہے ۔
اس ترجمے کو دہلی کے معروف ناشر فاروس میڈیا نے بڑی تقطیع کے۱۲۳۴ صفحات میں شائع کیا ہے (ہدیہ ۱۱۹۵ روپے) ۔ اس ایڈیشن میں عربی متن بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ فاروس میڈیا نے ایک اور ایڈیشن عربی متن کے بغیر بھی شائع کیا ہے جو ۸۱۵ صفحات پر مشتمل ہے (ہدیہ ۷۹۵ روپے)۔ اس ترجمۂ قرآن کو [email protected] سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس ترجمے کو متعدد ممالک میں ناشرین شائع کریں گے اور وہ عن قریب TheGloriousQuran.net نامی ویب سائٹ پر بھی میسّر ہو گا ۔ یہ ترجمۂ قرآن ممبئی میں ۶ ، جنوری سے شروع ہونے والے ’ اردو کتاب میلہ ‘ میں ’ فاروس میڈیا ‘ کے اسٹال سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like