تاریکی کی دھول ہٹے اور تو آئے ـ حماد نیازی

تاریکی کی دھول ہٹے اور تو آئے
دیواروں پر دھوپ پڑے اور تو آئے

خاموشی کےلحن میں آنکھیں بات کریں
ان دیکھی تصویر بنے اور تو آئے

چھم چھم بارش برسے ترسے کھیتوں پر
سوندھی سی خوشبو آئے اور تو آئے

تو آئے اور آنگن آنگن روشنی هو
روشنیوں کی نہر بہے اورتو آئے

خوشحالی کے گیت سنائیں ناچیں، گائیں
شادابی کا شہد گھلے اور تو آئے

روز امید کا دیا جلاؤں ،سو جاؤں
صبح سویرے آنکھ کھلے اور تو آئے

لفظوں کی مزدوری کرتے دن گزرے
شام ڈھلے،پھر دیا جلے، اور تو آئے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*