Home مباحثہ تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو:کیا حقیقت ،کیا فسانہ؟

تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو:کیا حقیقت ،کیا فسانہ؟

by قندیل

کاشف شکیل
(پہلی قسط)
چند روز قبل بتاریخ 10 مارچ 2018 بروز سنیچر چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر’’تاریخِ اہل حدیث جنوبی ہند کے درخشاں پہلو‘‘ نامی ایک گرانقدر کتاب کا اجرا ہوا، جس پر مرتب کی جگہ شیخ عبد الوہاب جامعی حفظہ اللہ کا نام لکھا ہوا ہے، چونکہ اس کتاب کو میں نے شیخ محترم کے اشراف میں ترتیب دیا ہے؛ اس لئے اس پرمیں نے اپنا احتجاج درج کرایا، نتیجہ یہ نکلا کہ مجھ پر نہ صرف طرح طرح کے جملے کسے گئے؛ بلکہ بعض سینئر احباب اپنی زبانوں کو غیر اخلاقی حد تک دراز کر گئے، یہاں تک کہ بعض نے تو جہالت کی انتہا کردی اور اسے شمال وجنوب کا مسئلہ بنا ڈالا، کوئی مجھے ضابطۂ اخلاق سکھانے لگا،تو کوئی نشر وتالیف اور مولف ومرتب کے قواعد وضوابط بتانے لگا، کوئی اشارے کنایے میں خاموش رہنے کے لیے کہہ رہا تھا، تو کوئی اس دلیل کے ساتھ صبر کا درس دے رہا تھا کہ یہ تو بر صغیر کے بہت سارے شیوخِ کرام اور مشایخِ عظام کی ایسی سنتِ جاریہ رہی ہے، جس کو اپنانے میں ان کے خلفا ’’وعضوا علیہا بالنواجذ‘‘کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
کاش اسی پر بس ہوجاتا، مگر ایسا نہیں ہوا؛ بلکہ بعض اخوان چار قدم آگے بڑھ کرتحقیق وتالیف کے باب میں ایسے ایسے اصول کا اضافہ کر نے لگے کہ دنیا کے محققین شرما جائیں اور بڑے بڑے مولفین اپنی تالیف سے دستبردار ہوکر انھیں ان مراکز اور لائبریریوں کے نام کردیں، جن کی مدد،توسط اور تعاون سے انھوں نے اپنی کتابیں تیار کی ہیں یا پھر اپنے ان سپر وائزروں کے نام کردیں، جو ایسی تحقیقات کو اپنے زیرِ نگرانی تیار کراتے ہیں اور نہ صرف ہر طرح کی رہنمائی کرتے ہیں؛ بلکہ مصادر ومراجع کی فراہمی کے ساتھ ہر ممکن اصلاح وتحسین کا کام بھی کرتے ہیں، ہمارے ایسے احباب کو یقیناًاختلاط ہوا اور وہ کسی کتاب کی تالیف وتحقیق اور اس کے مالکانہ حقوق میں فرق نہ کر سکے، دنیا کے بڑے بڑے علمی مراکز جو باحثین کو نہ صرف گرانقدر تنخواہیں دیتے ہیں؛ بلکہ انھیں ان کی فیملیوں سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کرتے اور مکمل تعاون کرتے ہیں ،وہ بھی کتاب کے مؤلفین اور محققین کا نام کتاب پر برقرار رکھتے ہیں اور اگر کتاب ان علمی وتحقیقی سینٹروں کی طرف منسوب بھی کی گئی ،تو مؤلفین ومحققین یا پوری کمیٹی کا نام جلی حروف میں کتاب کے پہلے صفحہ پر یا کسی مناسب اور باوقار جگہ پوری صراحت کے ساتھ موجود ہوتا ہے، اگر کسی کمیٹی نے کام کیا ہے اور مختلف افراد کے کام الگ الگ ہیں تو سب کے عمل کی صراحت کر دی جاتی ہے۔
دنیا کے معتبر علمی اداروں اور باوثوق ریسرچ سینٹروں میں یہی طریقہ رائج ہے، امانت داری کے عظیم تقاضے کے ساتھ ایک اہم سبب اس کا یہ بھی ہے کہ تحقیق وتالیف اور ترتیب وتہذیب فکری حقوق کے زمرے میں آتے ہیں، جن کا مالک وہی شخص ہوتا ہے جو اسے براہ راست انجام دیتا ہے اور وہی ان میں واقع غلطیوں اور اجتہادات کا مسؤول بھی ہوتا ہے،اسی کی طرف نہ صرف انھیں منسوب کیا جاتا ہے؛ بلکہ بصورتِ اشکال اسی کی طرف رجوع بھی کیا جاتا ہے؛ لہذا کسی معاون یا مشرف کی طرف اسے منسوب کرنے سے بہت سارے اشکالات پیدا ہوجائیں گے اور ان اشکالات سے دیگر مشکلات کی راہیں کھلتی چلی جائیں گی۔
بہر حال یہ موضوع کافی تفصیل اور دقت طلب وگہرے تجربے اور علم کا متقاضی ہے اور اس پر مستقل لکھنے کی ضرورت ہے، مگر یہ مجھ جیسے طالب علم کے بس کی بات نہیں، مجھے امید ہے کہ اس پر ہمارے وہ سینئر راہ نما ضرور قلم اٹھاکر اس کی عقدہ کشائی کریں گے ،جنھیں اس میدان کا تجربہ ہے اور جو فنِ تالیف وتحقیق کے شہسوار اور علمی مراکز کے خوشہ چیں ہیں۔
اس بحث ومباحثہ اور رد وقدح کا ایک انتہائی دلچسپ پہلو یہ رہا کہ وہ احباب ،جو مجھے تالیف وترتیب کے قواعد وضوابط سے روشناس کرا رہے تھے اور میری حیثیت ایک ناقل اجیر تک محدود کر رہے تھے، ان میں سے کئی غیر شعوری طورپر مجھے حقیقی معنوں میں مرتب مان کر تناقض کی زندہ مثال بھی بن رہے تھے، مگر چونکہ میں ان کی نظروں میں محض ایک اجیر تھا، جو کسی کے تعاون سے اس کی نگرانی اور رہنمائی میں اس کے پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا؛ اس لئے میرا نام اس کتاب کے ٹائٹل پر ایک دھبہ کے سوا کچھ نہیں تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس اصول وضابطہ ہی کے نقض میں لگ گئے، جو ایک لکھنے والے کو مرتب کہتا ہے؛ چنانچہ وہ ایک طرف یہ تسلیم بھی کر رہے تھے کہ میں نے اس کتاب کو ترتیب دی ہے، مگر اس پر بھی بضد تھے کہ میں اس کتاب کے مرتب ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا، گویا ترتیب کا وہ عمل، جو میں نے انجام دیا ،وہ ہمارے ایسے احباب کے یہاں ترتیب کا کوئی اور مفہوم رکھتا ہے اور کتاب کے ٹائٹل پر موجود مرتب کا لفظ ترتیب کا کوئی اور مفہوم’’ حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!‘‘ اور ’’ہوتا ہے شب وروز تماشہ مرے آگے‘‘ والی عجیب صورتحال تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ جب ہمارے اپنے ان احباب کا یہ حال ہے، جو ہمارے ہم پیالہ وہم مشرب ہیں اور جن سے اس متواضع شعور وآگہی اور کمزور قلم نے رشتہ جوڑا ہواہے، تو غیروں سے کیا شکوہ!!
میں سمجھتا ہوں کہ شعور ولا شعور کے اسی ٹکراؤ نے یہ عجیب متناقض صورت حال پیدا کردی کہ خود شیخ عبد الوہاب جامعی حفظہ اللہ عرض مرتب میں ایک طرف واضح انداز میں یہ بات کہہ رہے ہیں کہ یہ کتاب ان کی نگرانی میں ترتیب دی گئی ہے اور دوسری طرف ٹائٹل پر مرتب کی جگہ خود ان کا نام پورے آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ تناقض کی اس سے واضح مثال بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟
افسوس کہ ’’الحب یعمی ویصم‘‘اور’’التعصب یعمی البصر والبصیرۃ‘‘ کے مصداق بہت سارے احباب بلکہ جلیل القدرحضرات نے وہ موشگافیاں کیں اور ایسے ایسے گل کھلائے کہ الامان والحفیظ! ہمارے بعض وہ سینئر احباب ؛بلکہ راہ نما، جن کی تحریروں سے ہم مستفید اور صحبت سے شرف حاصل کرتے ہیں، انھوں نے تو سوالات کے ایسے نشتر مارے کہ روح چھلنی ہوجائے، سوالات کیا تھے، وکیلِ استغاثہ کے وہ اتہامات تھے، جن سے ایک مسکین ملزم کو چھلنی کیا جاتا ہے، وہ بظاہر تو سوالات تھے ،مگر درحقیقت منفی جوابات سے لبریز؛ بلکہ رد وتردید کے وہ تازیانے تھے ،جو میرے جسم سے زیادہ روح پر برسے اور ابھی تک برس رہے ہیں۔
حد تو تب ہوگئی ،جب وہ احباب ،جو اپنے کسی مضمون یا اس کے بنیادی فکر کی چوری پر طوفان برپا کردیتے ہیں اور فیس بک سے لے کر واٹس ایپ تک، ٹویٹر سے لے کر انسٹا گرام تک قیامت بپا کر دیتے ہیں،وہ بھی نہ صرف قواعد وضوابط اور فنِ تحقیق وتالیف کے نادر اصول وضوابط پر روشنی ڈالتے نظر آئے؛ بلکہ ان میں سے کچھ ایسے بھی دیدہ دلیر نکلے، جو صبرِ ایوب وحلمِ یعقوب علیہما السلام کی مثال مع شرح وتفسیر دینے لگے، مگر کیا کیا جائے،یہ وہ دنیا ہے ،جس کے عجائب ختم نہیں ہوتے اور یہاں اس طرح کا ہر نمونہ وافر مقدار میں مل جاتا ہے۔
صبر بلا شبہ بہت اچھی صفت ہے اور کامیابی کا راستہ طے کرنے والے ایک انسان کی پہچان و علامت اور اس کے لیے مشعلِ راہ ہے؛ اسی لیے حدیث شریف میں صبر کو روشنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بلاشبہ صبر کی یہ شرعی مثالیں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، مگر جہاں صبر ظلم اور نا انصافی کی راہ کھول دے، وہاں صبر کی افادیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور پھر صبر نہ صرف محل نظر ہوجاتا ہے،حتی کہ بسا اوقات وہ صبر نہیں رہ جاتا ؛بلکہ عجز وبیچارگی کا نمونہ بن جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ جس نے کسی کتاب کی تیاری میں اپنی صبح وشام ایک کی ہو، مختلف مقامات کی خاک چھانی ہو، ایسے ایسے علاقوں کی دھول چاٹی ہو، جہاں کی تہذب وثقافت ،زبان وادب بالکل مختلف ہو اور اپنے وطن سے دور ایک غیر مانوس جگہ پر اپنے لیل ونہار صرف اس لیے صرف کیے ہوں کہ تاریخِ اہل حدیث کا ایک اور اہم گوشہ سامنے آجائے، اس کے ساتھ اگر ایسا سلوک کیا جائے، تو کیسا محسوس ہوگا؟ جس شخص کی حقیقی جدو جہد کو نہ صرف پوری سفاکی سے نکار دیا جائے؛ بلکہ الٹا اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے جائیں، زبان کی درانتی سے اسے لہو لہان کیا جائے اور بین السطورمیں دو ٹکے کا اجیر ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، وہ کیسا محسوس کریگا؟ میری جگہ حساس قارئین اور میدانِ تحریر وتالیف اور بحث وتحقیق کے باذوق افراد خود کو رکھ کر دیکھیں، ان شاء اللہ سب کچھ سمجھ میں آجائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میرا درد اپنے دل پر ضرور محسوس کریں گے۔
انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ پہلے مجھ سے تفصیل طلب کی جاتی، پھر کوئی حکم لگایا جاتا، مگر تفصیل وہ طلب کرتا ہے جسے حقیقت کی تلاش ہو، جس کے آنکھ پر تعصب کی عینک لگی ہویا جسے کسی کے تقدس کا ہالہ گھیرے ہواہو، اسے دلیل سے مطلب نہیں ہوتا، اس کی زبان اور قلم آگے آگے اور عدل وانصاف پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ بہر حال ظلم وزیادتی کے اسی طوفان میں بعض سنجیدہ احباب نے مشورہ دیا کہ میں اپنی بات مکمل تفصیل سے اہلِ علم وفضل کے سامنے رکھوں، اور اس کا فیصلہ انہیں پر چھوڑ دوں کہ میری اس کتاب سے کیا نسبت ہے؟ اور اس کتاب میں میرے عمل کا حجم اور میری کارکردگی کیا اور کتنی ہے؟
چنانچہ میں آپ لوگوں کے سامنے اس گرانقدر کتاب کی جمع وترتیب اور اعداد وتالیف میں اپنے اعمال وکردار کو تفصیل سے پیش کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آپ انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے اور میرا اس کتاب سے حقیقی معنوں میں جو تعلق ہے، اسے جاننے اور ماننے کی کوشش کریں گے، فاقول وباللہ التوفیق:
شیخ عبدالوہاب جامعی حفظہ اللہ صاحب سے میری ملاقات:
29،30 اور 31 جنوری 2017 کو رائیدرگ میں سہ روزہ دورۂ تدریبیہ تھا، جس میں مجھے شرکت کا موقع ملا، دورۂ تدریبیہ کے آخر میں ایک عوامی خطاب تھا ،جس کی صدارت مولانا عبدالوہاب جامعی صاحب فرما رہے تھے،آخر میں آپ نے اپنے گرانقدر صدارتی خطاب سے بھی نوازا اور یہیں پہلی بار مجھے شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کو جاننے، سننے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
رائیدرگ سے قریب بمقام ’’ملکالمرو‘‘ میرے چچا (ابو کے کزِن) کا گھر ہے، جہاں سہ روزہ دورۂ تدریبیہ کے دوران میرا روز آنا جانا ہوتا تھا، چونکہ اس وقت میں دعوتی فیلڈ سے الگ ہوگیا تھا اور فارغ تھا؛ اس وجہ سے چچا نے مشورہ دیا کہ اگر تم کرناٹک ہی میں کسی کام پر لگ جاؤ، تو تمھارے لیے بہتر ہوگا، میں ان کی اس بات پر راضی ہوگیا ،تو انھوں نے شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کو فون کیا، چونکہ جامعی صاحب صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے امیر ہیں اور ان کے پاس ویکینسیز رہتی ہیں؛ لہذا جب ان سے بات ہوئی ،تو انھوں نے چچا سے کہا کہ ان کو بھیج دیں میں انھیں جس قابل سمجھوں گا ،اسی کے مطابق کام بتاؤں گا۔
ادارہ اسلامیہ مینارٹی ٹرسٹ ہرپن ہلی آمد:
چنانچہ 5 فروری 2017 بروز اتوار صبح 9 بجے کے قریب میں شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کے آفس پہنچا، ملکالمرو سے میرے ساتھ جامعی صاحب کے رشتہ دار رفیق صاحب بھی ہرپن ہلی تک آئے تھے، جامعی صاحب جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے امیر ہیں اور فی الحال ’’اسلامیہ مینارٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام مختلف تعلیمی ورفاہی ادارے چلاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ بیت المال بھی ہے۔
کام کی ابتدا:
شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کے اسکول کے بچوں کا 28 فروری 2017 کو سالانہ پروگرام تھا، جس کی تیاری میں بعض اساتذہ لگے ہوئے تھے، پہلے ہی روز تھوڑی گفتگو کے بعد مجھے بچوں کے لیے نظموں کے انتخاب وغیرہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی، جامعی صاحب کے ساتھ سفر و حضر میں دو تین دن گزرنے کے بعد جامعی صاحب نے تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور بتایا کہ برسوں سے میری تمنا ہے کہ تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند مرتب ہو اور مجھے امید ہے کہ یہ کام آپ بخوبی کر سکتے ہیں، جماعت سے جڑے اس مبارک کام کے لیے میں نے بھی ہامی بھر لی۔
انھوں نے بتایا کہ میرے پاس تاریخِ اہل حدیث جنوبی ہند کے سلسلے میں کچھ پرانی فائلیں اورخطوط ہیں، جبکہ کچھ میرے اپنے مشاہدات ہیں، ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ ان سارے مواد کی فوٹو کاپی میں نے شیرخان صاحب کو بھیجی تھی ،جس کو ڈاکٹر بہاء الدین صاحب نے تاریخ اہل حدیث جلد سوم میں شامل کیا ہے۔ یہ مکمل مواد بقول جامعی صاحب وہی ہے ،جو ڈاکٹر بہاء الدین نے تاریخ اہل حدیث جلد سوم میں (صفحہ 379 سے 404 تک یعنی کل 25 صفحات) شامل کیا ہے، جس کا بیش تر حصہ نذرانۂ اشک اور مولانا سید اسماعیل رائیدرگی کے مضمون پر مشتمل ہے، مواد کی کثرت و قلت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
کتاب کی ترتیب کا آغاز:
اللہ کے فضل سے میں نے کتاب مرتب کرنا شروع کر دی، شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب نے جہاں بھی میرا تعارف کرایا اسی حیثیت سے کرایا کہ’’یہ میرے ساتھ کاشف شکیل ہیں ،جو میرے اشراف میں تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند مرتب کر رہے ہیں‘‘۔ چنانچہ مجھے ہر جگہ مرتب کے طور پر متعارف کرایا گیا اور خلوت وجلوت میں کبھی بھی یہ نہیں کہا گیا کہ ترتیب بھلے ہی آپ دے رہے ہیں؛ لیکن مرتب کے طور پر میرا نام رہے گا؛ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک جس نے بھی اس سلسلے میں پوچھا میں نے یہی کہا کہ’’مولانا عبدالوہاب جامعی صاحب کے زیر اشراف تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند مرتب کر رہا ہوں‘‘۔ چنانچہ تقریبا ایک سال پرانے(یعنی کام کی ابتدا کے وقت کے) کمنٹس اور گفتگو اس بات کا بین ثبوت ہیں؛چنانچہ مولانا ہی کے کہنے پر جب شیرخان جمیل احمد عمری صاحب سے بات ہوئی اس وقت بھی میں نے یہی کہااور جیسا کہ جماعت سے جڑے تقریبا سبھی افراد کو معلوم ہے کہ شیرخان صاحب جماعت و جمعیت کے ایک محترم باوقار اور ذمہ دار آدمی ہیں، اسی کام کے دوران شیخ عبدالعظیم عمری مدنی اور شیخ عبدالحسیب عمری مدنی حفظہما اللہ سے بھی ملاقات ہوئی، ان حضرات سے بھی جامعی صاحب نے میرا یہی تعارف کرایا تھا۔
ترتیب کی ابتدا اور اس کا طریقہ کار:
میں نے کام کی ابتدا یوں کی کہ سب سے پہلے مولانا ثناء اللہ عمری ایم اے عثمانیہ کی کتاب’’نذرانۂ اشک‘‘ جو خاکوں کا مجموعہ ہے، اس میں سے جن اہل حدیث شخصیات نے جنوبی ہند میں کام کیا ہے ان کے تذکرہ کو ملخصاً از ولادت تا وفات ترتیب کے ساتھ اپنے طور پر لکھنا شروع کردیا اور ہر شخصیت کے بارے میں دوسری کتابوں میں جو مواد فراہم ہوتا، اس کو بھی اس میں شامل کردیتا، میں نے شخصیات پر لکھتے وقت یہ التزام کیا کہ تذکرہ بالترتیب نسب و ولادت، تعلیم و تربیت، خدمات، وفات، حلیہ اور پسماندگان پر مشتمل ہو۔
کتاب پر ہوئے کام کی نوعیت:
اس کتاب پر ہونے والے کام کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ اشراف:
یہ مکمل شیخ عبد الوہاب جامعی حفظہ اللہ کا تھا اور یہ کہنے میں مجھے کوئی تردد نہیں کہ شیخ عبد الوہاب جامعی حفظہ اللہ نے حتی المقدور اشراف کا حق بخوبی ادا کیا، اس موضوع پر کتاب تیار کروانا ان کا دیرینہ خواب تھا؛ لہذا انھوں نے اس اہم ترین موضوع کی طرف صرف میری رہنمائی ہی نہیں کی؛ بلکہ میں کھلے دل سے یہ اعتراف کروں گا کہ مجھے اللہ کے فضل وکرم کے بعد انھیں کے سبب یہ اہم اور مبارک کتاب ترتیب دینے کا شرف حاصل ہوا۔ میں ان کے ایک ادارہ میں باتنخواہ ملازم تھا، انھوں نے نہ صرف اس اہم موضوع کی طرف میری رہنمائی کی؛بلکہ اپنے اشراف میں اسے مکمل مرتب کروایا جیسا کہ عرض مرتب میں آپ نے خود بھی اس کا ذکر کیا ہے، دورانِ ترتیب حتی الامکان مختلف مصادر ومراجع کی طرف رہنمائی کرنے کے ساتھ آپ اپنے بعض ذاتی واقعات اور مشاہدات بھی بتاتے رہے۔ آپ کے تعاون کا یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ میں کتاب کی ترتیب سے فارغ ہوگیا۔ اسی طرح اشراف میں جامعی صاحب ایک اہم کام یہ بھی کرتے تھے کہ میں جو ترتیب دیتا تھا، اس کو کمپوزنگ کے لیے بھیجنے سے پہلے آپ ایک نظر دیکھتے تھے اور بسا اوقات بعض عبارتوں یا معلومات کی اصلاح بھی کر دیا کرتے تھے، جو کہ ایک ذمہ دار مشرف کی پہچان اور ایک اکیڈمک نگراں کی علامت ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم بات ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب میں نے جامعی صاحب کے اشراف میں ترتیب کا کام شروع کیا تو یہ طے ہوا کہ کتاب میں جہاں کہیں متکلم یا اس قسم کے صیغے استعمال ہونگے، وہ شیخ عبدالوہاب جامعی صاحب کی طرف لوٹیں گے اور اس کے بارے میں مقدمہ میں وضاحت کردی جائے گی؛ اس لیے کہ ان بزرگوں کے بارے میں میرے اپنے مشاہدات نہیں تھے کہ میں اس قسم کا کچھ لکھ سکتا۔ اب ظاہر ہے کہ مقدمہ میں اس وضاحت کی ضرورت اسی وقت پڑ سکتی ہے ،جب کتاب کے ٹائٹل پر میرا یا ہم دونوں کا نام ہو، ورنہ اگر صرف جامعی ہی صاحب کا نام رکھنا ہوتا، تو اس وضاحت کی ضرورت قطعا نہیں تھی۔
2۔ ترتیب: یہ مکمل طور پر میری ہے؛ چنانچہ پوری کتاب شروع سے آخر تک میرے اپنے اسلوب میں مرتب ہے، سوائے درجِ ذیل تذکروں اور مضامین کے جنھیں بعض نہایت ناگزیر وجوہات اور معقول اسباب وموانع کی بنا پر میں نہیں لکھ سکا، یا ترتیب دینے سے قاصر رہا:
مولانا خلیل الرحمن اعظمی، مولانا ظہیر الدین رحمانی (اس تذکرہ کا نصف سے زائد حصہ خود رحمانی صاحب کے انٹرویو سے انہی کے الفاظ میں منقول ہے) عبدالقادر پیارم پیٹ (جو مولانا ثناء اللہ عمری کے مضمون پر مشتمل ہے)، مولانا مختار ندوی (جو مولانا ضیاء الحسن سلفی کی کتاب سے ماخوذ ہے) مولانا حبیب الرحمن اعظمی،شیرخان احمد حسین، جماعتی اجلاس اور کانفرنس: ایک جائزہ (شیخ اسعد اعظمی کے مضمون کے تناظر میں)، چترادرگہ کانفرنس کا پس منظر؛چنانچہ ان مقامات پر اسلوب کا فرق واضح ہے، جو میرے اسلوب سے بالکل مختلف ہے،قارئین اسے بآسانی محسوس کر سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں عرضِ مرتب ہے ،جو جامعی صاحب نے لکھا ہے اور کتاب کی تقریظ ہے ،جو استاذ الاساتذۃ فضیلۃ الشیخ حافظ حفیظ الرحمن عمر ی مدنی حفظہ اللہ کے گہربار قلم سے نکلی ہے۔
3۔ مواد: اس سلسلے میں تفصیل یہ ہے:
اوپر اجمالا بیان ہو چکا کہ خود جامعی صاحب کے دعوے کے مطابق ان کا مواد کتنا تھا۔
جزوی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلے باب سے 80 صفحہ تک پورا مواد میرا ہے ،جو میں نے اپنیE-Library یا ادارے کی لائبریری کی کتابوں کی مدد سے لکھا تھا، اس سلسلے میں جنوبی ہند میں اہل حدیث کی آمد کی بابت شیخ عبد الحسیب صاحب مدنی نے محی الدین آلوائی کی کتاب کی طرف رہنمائی بھی فرمائی تھی۔
اسی طرح صفحہ نمبر 83 سے168 تک (سوائے 87،88،91،92،اور 152 سے163 تک کے)۔
190 سے 241 تک (سوائے211 اور 233 کے)۔
247 سے 268 تک (سوائے ایک دو پیراگراف کے)۔
271 سے 308 تک۔
318 سے 358 تک(سوائے 333 اور 341)۔
361 سے 372 تک۔
376 سے 383 تک۔
389 سے 392 تک۔
394 سے 399 تک۔
407 سے 409 تک۔
433 سے 445 تک۔
467 سے 501 تک۔
524سے 528 تک۔
543 سے 564 تک۔
567 سے 583 تک۔
585 سے 589 تک۔
611 سے 619 تک(سوائے 617 کے)۔
633 سے 637 تک۔
666 سے 730 تک۔
744 سے 756 تک۔
یہ سارا مواد محض میری کوششوں کا ثمرہ ہے، اس میں جامعی صاحب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

You may also like

Leave a Comment