تاریک راہ داری میں ’لفظوں کالہو‘

 

شمیم ؔقاسمی

Mob: 9304009026

چند برسوں میں جو ناول میرے مطالعہ میں آئے ان میں گرداب (شموئل احمد)،اجالوں کی سیاہی(عبدالصمد)، تخم خوں (صغیر رحمانی) اور جواں سال ناول نگار /تخلیق کار سلمان عبدالصمد کے ناول ”لفظوں کا لہو“ بطورخاص میری نگاہ کا مرکز رہے — ابھی کچھ ہی دن بیتے میں نے شموئل احمد کے گرداب کا بڑے خوشگوار موڈ میں مطالعہ کیااور جب تک ناول کی ”بھر پور“ عورت ساجی ؔکو ناول نگار نے اپنا دامن چھڑانے کے لئے حرام موت کی آغوش میں نہیں ڈھکیلا ایک بے تکلفانہ تخیلاتی فضا اور ایک پراسرار رومانی ترنگ میں میں لطف سخن /بدن اٹھاتا رہا۔ سچ پوچھئے تو ساجی کی ڈرامائی موت نے مجھے ذہنی تناؤ میں کافی عرصے تک مبتلا رکھا۔یہاں تک کہ جھنڈوبام بھی ساجی کے پتی درجاتؔ کی طرح ”ناکارہ ثابت“ ہوا۔ مرد اساس معاشرہ میں سڈول اور گداز رانوں کے درمیان ہچکولے کھاتے ناول کے ایک خوبصورت آغاز کا کوئی تو انجام ہونا ہی تھا سو ہوا۔ بلا سے نتیجہ خیز نہ سہی شموئل کو The Endکرنا ہی پڑا۔ ناول نگار /راوی اس مقام پر کتنا بے بس دکھائی دیتاہے؟…. بہر حال روایتی سچائیوں کے انکاری لمحوں کے بطن سے جھانکتے اور ایک تخلیقی Idomکی ناتمام جستجو میں سرگرداں، اپنے علیٰحدہ ادبی تشخص کے لئے سُگبگاتے اس قبیل کے ناول معاصر اردو فکشن کو تازہ دم کرتے ہوئے ایک نئی فکری جہت اور ایک نئے طرز ِ احساس کے موسم میں دھنک رنگ عصری زندگی کے استعارے ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے مطالعے سے محسوس ہوتاہے کہ حیات انسانی کا رواں دواں کارواں خاردار راستوں سے گزرتا ہوا لاسمتیت کا شکار ہوکر آسیب زدہ زمانی علاقے میں داخل ہوچکاہے۔ سچ ہے کہ ہماری مشرقی تہذیب ووراثت گلوبل کلچر کے گرداب میں پھنس کر روبہ زوال ہے۔ محسوس کیا جاسکتاہے کہ قدریں سمٹ رہی ہیں۔ان پر ہماری پکڑ ہر لحظہ ڈھیلی ڈھالی ہوتی جارہی ہے۔”لفظوں کا لہو“ کا مطالعہ کرتے ہوئے میں کچھ انہی کیفیات ومحسوسات سے دوچار ہوں۔

مجھے کہنے دیجئے کہ شموئل احمدکا گرداب پڑھنے کے دوران جن قارئین کا وضو ٹوٹ چکاہے وہ سلمان عبدالصمد کے ناول لفظوں کا لہو کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے ذوق ادب کو طہارت بخشیں۔دراصل اس ناول میں سلمان نے لاشعوری طورپرہی سہی im Dual S کا Advantageلیتے ہوئے Addl. marital relationshipکو ایک نیا وژن دیاہے۔مغربی کلچر سے بے حد متاثر ہمعصر ہمہ رنگ زندگی کے کئی Shadeپیش کئے ہیں۔ موضوعی سطح پر اس ناول کو پڑھتے ہوئے ایک ذرا تازگی کا احساس ہوتاہے وہ اس لئے بھی کہ ناول نگار نے Net Searching کے حوالے سے اپنے خد وخال واضح کرتی ہوئی ایک نئی دنیا کی دریافت یعنی غیر حقیقی دنیا کی اپج میں مصروف لوگ باگ /کردارکی سائیکی کا قریب سے مطالعہ ومشاہدہ کیاہے۔ ساتھ ہی سرمایہ دارانہ سیاسی نظام کی تابعداری میں اپنے جمہوری وجود کو کھوتی ہوئی ایوان بالا کی تاریک راہ داری میں لفظوں کے لہو سے شرابور منظرنامہ پر بھرپور فوکس ڈالا ہے کچھ اس طرح کہ ہر ایک منظر پسِ منظر برہنہ ہے۔

وقت او رحالات کے ساتھ ہماری سوچ بھی بدلی ہے اور زندگی جینے کا انداز بھی۔ فکری اسالیب کے اظہاری سانچوں میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ بھی سچ ہے کہ فی زمانہ ہمارا پورا معاشرہ مغربی کلچر کی لپیٹ میں ہے اور ایک طرح کے ”دھرم سنکٹ“ سے گزررہاہے۔ گلوبلائزیشن کے زیر اثر ہم ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے نہایت بیہودہ غیراخلاقی حرکتیں کرنے لگے ہیں۔ کہا جاسکتاہے کہ جدید معاشرہ کا ہر شخص اپنی لاش لئے دوڑرہاہے۔ کسی کا دُکھ درد سننے،پیچھے مُڑکر دیکھنے کو کوئی تیارنہیں۔ اصل میں صارفی نظام کا حصہ بننے کے بعد کسی کے پاس ”فالتو“ وقت ہی نہیں رہا۔ شعر وادب ہو کہ رقص و سرور کی محفلیں، سیاست ہو کہ میدان صحافت، چہارجانب اقرباء پروری کا بازار گرم ہے، شوروغل کا ماحول ہے۔ مٹھی بھر شعروادب سے آنکھوں کا رشتہ رکھنے والے متوالوں جیالوں کو چھوڑکر زبان وادب کا سنجیدہ مطالعہ اب کون کرتاہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ ضخیم ناول کون پڑھے؟ ہمیں تو گھڑی دیکھ کر دفتری اور نجی ذمہ داریوں کو بہ حسن وخوبی پایہئ تکمیل تک پہنچانے کا خوف لگا رہتاہے۔ زیر مطالعہ ناول کی قرأت کے بعد اس پر کچھ لکھنا چاہا تو میں نے قسطوں میں کچھ وقت چرائے —- اور اب اپنی اصلیت اور معنویت کھوتے ہوئے لہورنگ لفظوں کے موضوعی طورپر دلچسپ جہان کی سیر کررہا ہوں۔ اس سیر میں آپ کی شرکت بھی لازمی ٹھہری۔

پیش نظر ناول میں بیک وقت شہر اور گاؤں سانسیں لیتا ہو امحسوس ہوتاہے۔ سبھی ا پنے اپنے دامن کی آگ بجھانے اور درپیش مسائل کے تدارک کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تلاش آب و دانہ اور ایک روشن مستقبل کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے گاؤں کے معصوم افراد شہر میں منتقل ہورہے ہیں تو شہری زندگی کے عذاب اور کشاکش سے نجات حاصل کرنے کے لئے گاؤں کا رُخ اختیار کرنے کی سوچ بھی رکھتے ہیں۔لاشعوری طورپر اس ناول میں ”گھر واپسی“ کو ایک نیا زاویہئ نظر دیا گیاہے۔ لیکن افسوس کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے۔ گاؤں کی سادگی اور شہری زندگی کے دوغلاپن کو سلمان عبدالصمد نے بڑی چابکدستی سے اپنے فکر وفن کا محور بناتے ہوئے بطور خاص پیشہ وارانہ صحافت کے نشیب وفراز پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ سلمان نے صحافت کی منصبی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے والے، خبر کو ”شر“ بنانے والے ابن الوقت قسم کے صحافیوں /اخباری سرپرستوں کی ”اوقات“ پر گہرا طنزکیا ہے اور موجودہ صحافت کو ”جمہوریت کے چوتھے ستون کی کھجلی“ بتایاہے۔ سادہ لوح کسان حنیف ہو کہ خودغرض ہو س پرست اکمل رستوگی یا پھر وقت کے بے رحم ہاتھوں معاشی بدحالی کا شکار صحافی محسن جو لفظوں کی کائنات کو آزاد دیکھنے کے تصور کے ساتھ ساتھ اپنے منصب کی آزادانہ شناخت کا خواب بھی پالے ہواہے۔سچ ہے کہ لفظوں کے تقدس کو اپنے ہی ہاتھوں پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنے اندر ہی اندر ٹوٹنے بکھرنے والا ناول کا یہ مرکزی کردار ہمارے حافظ کے جنگل میں اپنے Adjustment attituteکے ساتھ ہمیشہ چہل قدمی کرتا رہے گا۔ سماجی فلاح اور بطور خاص خواتین کے حقوق کی بازیافت کا بھرم پالتے ہوئے ترقی یافتہ ماحول میں رچ بچ کر وقت کی ریشمی ڈور تھام کر چلنے والی، اپنی Own Identityکے ساتھ شہری زندگی کی لطافت وکثافت کا حصہ بنی نائیلہؔ، زنیراؔ،نیلاؔ اور صوفیہ ؔ وغیرہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس قبیل کے روشن خیال نسوانی کرداروں کے درمیان مکالماتی سطح پر ایک کشادہ فکری لئے جو ایک نئی دنیا خلق ہوتی ہوئی سی نظر آتی ہے وہ بہت حد تک ہمارے لئے تصوراتی تو ہوسکتی ہے لیکن شاید Out of reachنہیں —-زیر مطالعہ تحریر کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ضروری سمجھتا ہوں کہ مطالعہ قارئین کی دلچسپی کے لئے ”لفظوں کا لہو“ سے چند اقتباسات نقل کرتا چلوں:

”نیلاؔ میرے کہنے کا مطلب فقط اتنا ہے کہ عورت، مرددوست سے آزادانہ ملنے کے لئے اپنے شوہر پر دباؤ بناسکتی ہے تو ایک عور ت ”دوسری عورت“پر نئی دوستی کی مثال قائم کرنے کے لے دباؤ کیوں نہیں بنا سکتی؟ کیوں نہیں ایسی دوستی کے بارے میں سوچ سکتی؟….اگر کوئی دو عورت رکھنے والا مرد، دونوں بیویوں کے درمیان کوئی تفریق کرے تو ایک عورت”دوسری عورت“ کے لئے کیوں نہیں بول سکتی ہے۔ میں توسمجھتی ہوں کہ ایک مرد اپنی عورت کو (غیر) مرد سے ملنے کے لئے منع تو کرسکتاہے، اپنی عورت(بیوی) پر غصہ جھاڑسکتاہے—-مگر ایک سوتن دوسری سوتن کے لئے کچھ اچھائی کرے تو شاید مرد قطعاً نہ روکے بلکہ وہ خوش ہوگا۔“(ص ۴۱۱)

”تم نے کہا تھاناکہ مادیت کے دور میں عورت(عورتیں) مردوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ آزمانا چاہتی ہیں۔ سچ ہے بالکل سچ۔ لیکن مردوں کے بغیر نہیں —- کیوں کہ جو فریضہ مردوں کو بُت بنے حالات کو سجدہ ٹیکنے پر مجبور کرتاہے، عورت اس سے آزاد ہے لیکن کب آزاد ہوگی جب مرد ہو، تبھی —- اس لئے مادیت پرست معاشرہ میں مرد والی عورت ہی مضبوط ہوسکتی ہے۔“(ص۴۸۱)

”نیلا —- احساس ہوتا ہے کہ عورت اپنے ہم پلہ عورت کے تذکرہ سے خوش نہیں ہوتی بلکہ وہ رقابت کی آگ میں جھلسنے لگتی ہے۔ رقابت کا یہی جذبہ ”سوتن“ کے معاملہ میں شدت اختیار کرجاتاہے۔اگر ماں کے روپ میں کسی دوسری ماں کے پاس یہ تذکرہ ہو تو وہ سوچتی ہے کہ مجھ سے بہتر کوئی ماں ہو بھی کیوں؟۔ اگر کسی بیوی کا ذکر ہوتو مخاطب عورت کے اندر ہلچل مچ جاتی ہے کہ مجھ سے بہتر کوئی بیوی ہوبھی تو کیوں؟

نیلاؔ آؤ میرے ساتھ…… نیٹ تو یوز کرتی ہوگی…؟… نیلا پھر کہتی ہوں کہ ’تم برا مت ماننا… یہاں کوئی نہیں ہے ہمارے سوا۔ عورتوں کو عورت کے حق میں مفید بنانے کے لئے تمہیں یہ سب کچھ دکھانے جارہی ہوں۔ نیلا Googleہے یہ۔

Two girls sex with one boy

چلو اس کو دیکھتے ہیں۔ دیکھو ذرا دونوں کو دیکھو۔ تینوں کسی اور دنیا کی مخلوق لگ رہے ہیں۔ایک بسترنہیں ایک صوفے پر بڑے ا طمینان سے۔ ان دونوں (عورتوں) کے چہروں پر کوئی ناگواری نہیں۔ ایک لڑکی کو دوسری لڑکی سے کوئی بیر نہیں۔… لیکن نیلا جب یہ سب کچھ ہوسکتاہے تو دو عورت کسی مرد کے پاس پاک(؟) رشتے کے تحت جمع ہو جائیں تو کون سا جرم۔؟ (ص ۱۱۱۔۲۱۱)

بہترہوگا کہ آگے بڑھنے سے پہلے ایک لطیفہ سناتا چلوں

شوہر: (اپنی بیوی سے) میرا دل ایک موبائل ہے اور تم اس کی Simہو

بیوی: ایک بات پوچھوں آپ سے؟

شوہر: بہ شوق پوچھو

بیوی: تمہارا موبائلDual Simوالا تونہیں ہے نا؟

اب دیکھئے کہ Dual Simوالے مرد موبائل سے بھی عورتوں کو اپنا مستقبل خطرہ میں نظرآتاہے….ایک اندیشہ ہائے دور دراز کا لمبا سلسلہ ہے…..ایسے میں جان بوجھ کر جیتی جاگتی ”دوسری عورت“ کو برداشت کرنا بھلا کوئی آسان مرحلہ ہے کیا۔؟

ناول نگار سلمان کی نیلاؔ، زنیرا، نائیلہ وغیرہ کو ہمارا کوئی یہ سندیس پہنچا دے کہ ہمارے جیسے ایک شریف آدمی /مرد کو ازدواجی زندگی کی خوشگوار ساعتوں کیلئے بیک وقت تین عورتیں درکارہیں۔

ایک بیوی جو پیارکرے

ایک بیوی جو اچھا کھانابنائے

ایک بیوی جو بچوں کو سنبھالے

اور کیا

بس اتنی سی شرط ہے کہ تینوں عورتیں /بیویاں مل جُل کر رہیں۔ان کے اندر ”سوتن“ کے لئے رقابت کا جذبہ نہ ہو اور بس…“

دراصل پیش نظر ناول میں تاجرانہ سماج سے برسر پیکار نظر آتے بیشتر کردار ایک قسم کے ذہنی بحران میں مبتلا ہیں گویا ان سب پر نسل آدم کی جبلی محرکات کا غلبہ طاری ہے۔گلوبلائزیشن کے زیر اثر پروان چڑھتی نئی نسل زندگی کے ہر شعبے میں آزادی چاہتی ہے۔ نام نہاد مہذب معاشرے میں بھی ایک مرد کے ساتھ بیک وقت دو عورتوں کا بحیثیت خاتون خانہ کے خلوت گاہ میں اکٹھا ہونا ناممکن ساہے۔ ہمارے درمیان مغربی کلچر اور سائبرائج کی پروردہ عورتیں بھی اپنے بیڈ روم میں کسی ”دوسری عورت“ کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔ یہ سب کہانی قصو ں کی باتیں ہیں۔ مجھے اس مقام پر قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا والی ”انسوؔ“ جیسی وفا شعار عورت جو ہماری سوسائٹی میں آج بھی شاید ڈھونڈنے سے نہ ملے بے تحاشہ یاد آئی جس کے اندر اپنے شوہر کے جنسی جذبات کااحترام اور دلجوئی کا اس قدر جذبہ تھاکہ اپنے شوہر کو اپنی سوتن کے حوالے کرنے اس کے گھر خود چل کر جانا پڑا تھا۔

ملک ومعاشرہ میں رائج سماجی رسومیات، ضابطے، مذہبی جکڑبندیوں اور ازدواجی رشتوں کے لئے بنائے گئے قوانین سے ہم ا ٓزاد نہیں ہوسکتے اور پھر قدرت کے قوانین سے بھی ہم بخوبی واقف ہیں۔ غلامی محکومی کی پر چھائیں تو روز ازل سے حیات انسانی کے وجود سے چپکی ہوئی ہے۔شاید اس لئے نسل آدم کو درندوں کی صفت سے دور رکھا گیا ہے۔ وہ آزادی کا تصور تو رکھتاہے لیکن عملاً کبھی آزاد نہیں رہا۔یُگ بیتا گوتم کا یہ سوال آج بھی جواب چاہتاہے۔

”آزادی کا کیا مطلب ہے؟……اس کے کیا معنی ہیں؟…..اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون آزاد ہے اور کون نہیں؟….“(گوتم….آگ کا دریا)

وقت کی جبریت اور اقدار کی شکست و ریخت سے گزرتے ہوئے پیش نظر ناول سماجی اور پروفیشنل افراد کے تاریک وروشن پہلوؤں اور ان کی شخصی زندگی کے بعض مکروہ گوشوں پر بڑے موثر ا نداز میں روشنی ڈالتانظر آتاہے۔ ناول کے بیشتر کردار میں ایک نئی زندگی جینے کی بے پناہ للک ہے۔ میدان سیاست ہوکہ موجودہ عہد کی چاپلوس صحافت بھرشٹ محکمہئ صحت ہو کہ دیہی ثقافت، ان سب سے گہرا سروکار رکھنے والی زندگیوں /کردار کے اعمال وعادات، غیر موافق حالات میں بھی Acceptablityپر اصرار اور پھر ہماری سائیکی میں رچے بسے ازدواجی رشتوں کی نو بازیافت /نئے امکانات پر زیر مطالعہ ناول بطور خاص فوکس ڈالتاہے۔ ناول میں مختلف Idiologiesاور Consumer Cultureکا لاشعوری طورپر حصہ بنتے نائیلا، زنیرااور نیلا جیسے کرداروں کو بڑی بے تکلف فضا میں خلق کیا گیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں رونما ہونے والے غیر معمولی وقوعوں اور Feminist Literatureسے ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے افکار ونظریات اور اکتسابی عوامل کی یکجائی نے بھی سلمان کے اس ناول کو Readable بنا دیا ہے۔

زیر مطالعہ ناول میں سلمان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ زندگی بہر حال تضادات کے قضیہ کانام ہے۔ عصری مسائل سے جھوجھنے، زندگی بسرکرنے کے حقیقی تصور کو اس ناول میں مرکزیت حاصل ہے۔ معاشرے میں افراد کی باہمی ہم رشتگی کو فوکس کرتے ہوئے ایک بے تکلف فضا میں خلق لفظوں کی آزادی کے نام پر اس ناول میں تحیرات سے زیادہ صدمات کے درواہوئے ہیں۔

224صفحات پر بکھرے اس ناول کو بآسانی 100-150صفحات پر سمیٹاجاسکتا تھا۔ دوران مطالعہ محسو س ہوا کہ اس میں واقعیت نگاری پر لفظوں کی کھتونی زیادہ کی گئی ہے….یوں بھی تخلیقی عمل کے بنیادی محرکات /مواد یا اس کے خصائص کو کم الفاظ میں سمیٹنا اوراپنا ”نصب العین“ واضح کردینا فنکاری ہے۔ میرے خیال سے کسی فن پارہ کا یہ وصف او رحسن بھی ہے۔ ہر چند کہ زبان وبیان تخلقی سطح پر تہہ دار نہیں ایک تخلیقی انہماک اور استغراقی عمل کے فقدان کے باوجود بھی کہا جاسکتاہے کہ ناول نگار زمینی سچائیوں اور عہد آشوب سے کلی طورپر باخبر ضرورہے۔وہ لفظوں سے کھیلنا تو خوب جانتاہے۔کہہ سکتے ہیں کہ وہ قلم کا نکما ہرگز نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مقامات پر ناول کا بیانیہ حد درجہ پاور فل ہوگیاہے۔ سماجی سروکار، احوال وکوائف کے فنکارانہ استعمال سے ناول کی صنفی حیثیت کو اعتبار ملا ہے۔ ہر چند کہ کہیں کہیں پر بلند آہنگ اور خطیبانہ لب ولہجہ نے ناول کے واقعاتی تسلسل کو مجروح کیاہے۔

المختصر سلمان عبدالصمد نے لفظوں کو لہورنگ انقلابی بنا دیا ہے۔ وہ دن دورنہیں جب ان لفظوں کے دانت نکیلے ہوجائیں گے اور وہ اپنے اطراف غیر سماجی عناصر کی پست پناہی میں پروان چڑھتے قاتل آنکھوں والے ہوس ناک سفید چہروں کو بھنبھوڑ ڈالیں گے۔ لفظوں کی منڈی میں ایک نیا آفاقی تصور لئے سلمان لفظوں کی آزادی یا یوں کہئے کہ اپنی تخلیقی دنیا میں آزادیئ اظہار کے متمنی ہیں۔ بہر حال اس ناول میں ایک سماجی پیغام پوشیدہ ہے جسے باذوق قارئین محسوس کرسکتے ہیں۔میرا تو ایسا ماننا ہے کہ فکشن کا ناقد بیک جنبش قلم اس ناول کو رد نہیں کرسکتا۔ آپ کا کیا خیال ہے.؟