مقصد ہو اگر تربیتِ لعل بدخشاں-یاور رحمن

ہر شخص کے اندر ایک ‘ظِلِّ اِلٰہی’ بیٹھا ہوا ہے جو چاہتا ہے کہ خدا کی طرح اسکی چاہت کے مطابق سب کچھ ہو اور رسول کی طرح اسکی کسی بھی بات سے اختلاف کو کفر صریح سمجھا جاۓ۔ اس چاہت کا اظہار قول سے ہو نہ ہو، عمل میں اکثر دکھائی دیتا ہے۔ فرعون کی مغرور سرکشی پر لعنت کرتے ہوئے بھی وہ یہ نہیں سوچتا کہ خود اس کے اندر بھی ایک فرعون موقع کی تاک میں گھات لگاۓ بیٹھا ہے. اپنے ماتحتوں پر اپنی بات کو اونچی رکھنے کی غیر ضروری ضد نے بڑا نقصان کیا ہے۔ اس جال میں ایسے ایسے مخلصین پھنسے ہیں جن کے اخلاص پر شک کرنا بھی بسا اوقات گناہ لگتا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی قائدین، علماے دین اور مفکرین و مصلحین لمحے بھر کی ‘انانیت’ کے شکار ہوئے اور انکے غلط فیصلوں نے صدیوں پر بد قسمتی کی کالک پوت دی۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بس ہماری ایک خواہش ہے اور ہمیں اپنی خواہش کو پورا کرنے کی مکمل آزادی اور اختیار حاصل ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنی آزادی اور اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے زیر دستوں کی آزادی چھین کر نہ صرف یہ کہ انکے حقوق کی پامالی کر رہے ہیں بلکہ انکی تشکیل ذات میں معاون بننے کے بجاۓ الٹا معاند بن رہے ہیں۔

اولاد کے بناؤ اور بگاڑ کی کہانی والدین کی شفیق گودوں سے شروع ہوتی ہے۔ اسی لئے بچوں کی تعلیم و تربیت میں یہ انتہا پسند غلطی سب سے پہلے والدین سے سرزد ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں وہ ہمیشہ حق بجانب ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ انکے غلط فیصلوں کے اثرات نسلوں کو اپنی چپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نادانی ہے جو دانائی کے انگنت بیجوں کو نادانی کا برگد بنا دیتی ہے۔ ان پھولوں کو کانٹوں میں تبدیل کر دیتی ہے جنکی خوشبو سے گلستان عالم کو مشکبار ہونا تھا۔ والدین کی یہ طرز پرورش انکے بچوں کی ان صلاحیتوں کو اپنی ضدی اور انا پرست خواہشوں کی قبر میں دفن کر دیتی ہے جن کو انکی حمایت و نصرت کی باد بہاری میں پروان چڑھنا تھا۔ عمر کے آغاز سے لیکر جوانی تک باپ کا ہر بات پہ ‘ڈکٹیٹر’ بن جانا اور ماں کا ذرا ذرا سی بات پہ "دودھ نہ بخشنے” کی دھمکی دیکر بہو کو طلاق تک دلوا دینا آج ایک معاشرتی المیہ بن گیا ہے۔

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ باپ نے بچوں پر اپنی خواہش مسلط کی اور انھیں وہ نہیں بننے دیا جو وہ خود بننا چاہتے تھے، انھیں وہ کرنے نہیں دیا جو شاید وہ بہتر طریقے پر کر سکتے تھے۔ انکی تعلیم و تربیت سے لیکر شادی بیاہ تک والدین کے سخت فیصلے ان پر اس قدر اثر انداز ہوئے کہ الٹا انکی زندگی اجیرن بن گئی۔ اور آسمان کی بلندیوں پر چمکنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ بچے زمین کی بھیڑ میں گم ہوکر اک ذرۂ بے نشاں بن گئے۔ والدین نے کبھی یہ نہیں سوچاکہ انکو یہ مقام ایک ننھے سے پودے کو گلشن زیست کا سب سے زیادہ بارآور اور نتیجہ خیز شجر بنانے کے لئے دیا گیا تھا، انھیں یہ اتھارٹی اک سنگ ناتراشیدہ کو سنوار کر شاہراہ حیات کا وہ سنگ میل بنانے کے لئے دی گئی تھی جس سے نسلوں کی نسلیں راہ یاب ہوتیں۔ مگر انہوں نے ان کو فطری راہوں پر پروان چڑھانے کے بجاۓ اور انکی فکری آبیاری کرنے کے بجاۓ ان پر اپنے فیصلے تھوپ کر گویا انکے اندر دبی ہوئی انکی قوت پرواز ہی چھین لی۔ اس طرح گھر کا پہلا مدرسہ اور مکتب ہی اس بچے کی ‘قتل گاہ’ بن گیا جو قوموں کی حیات کا امین بن سکتا تھا۔

خاوند ہمارے معاشرے کا معروف ترین ‘ظِلِّ اِلٰہی’ ہے۔ بیوی کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھنے والے اس قسم کے ‘صاحب بستر’ خاوند کو اپنی "قوّامی” پر بڑا ناز ہوتا ہے۔ اسے اپنی منکوحہ کے حق میں شریعت کے دیئے گئے حقوق کبھی یاد نہیں رہتے۔ صرف اتنا یاد رہتا ہے کہ اسکی بیوی بس ایک ‘سلطنت خداداد’ ہے جس کی سلطانی نے اسے ‘ظِلِّ اِلٰہی’ بنا دیا ہے اور بیوی کی تمام تر دینداری اس ایک بات سے مشروط ہے کہ وہ اپنے "مجازی خدا” کی خوشنودی کے لئے اپنے وجود کو خاک وخا شاک کر دے۔

ایک ‘ظِلِّ اِلٰہی’ استاد بھی ہے جو شاگرد کو اپنی من چاہی راہ پر چلانے پر بضد رہتا ہے۔ ایک استاد کی حیثیت بلا شبہ سپریم ہونی چاہیے مگر وہ جوہر شناس تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ملتے جن کی تربیتیں رجل عظیم پیدا کرتی ہیں۔ اب روح انسانی کی تعمیر میں ‘شیخ مکتب’ کا رول شہر کی ڈولپمنٹ اتھارٹی میں کام کرنے والے سول انجنیئر جیسی ہے۔ جسے صرف اپنے ‘پروجیکٹ’ کے اختتام کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ تعلیم مکمل طور پر براۓ معاش ہو چکی ہے۔ لہذا نہ ہار جانے والے کو اپنی ہار کا ادراک ہوا نہ جیت جانے والے کو یہ شعور حاصل ہوا کہ اسکی جیت کتنی بلندیاں سر کر نے سے محروم رہ گئی۔ استاد کا ‘مشفقانہ جبر’ شاگرد کے مستقبل کو اپنی من چاہی دنیا میں دھکیلتا رہا۔ جو وہ بن سکتا تھا وہ نہ بن پایا مگر افسوس کہ وہ یہ بھی نہ جان پایا کہ وہ کیا بن سکتا تھا!

مذہبی پیشوا کے سامنے دین و ایمان کا خزانہ بطور نذرانہ رکھ دیا گیا۔ اس نے مریدوں پر اندھی عقیدت کا ایسا جادو چلایا کہ اگر رات کی سیاہی پر اپنی انگشت شہادت رکھ کر اسے دن کہا تو مرید وں نے اسکی تصدیق کی۔ اور پھر دن ہو یا رات اپنے مقدس جبر کی چکی پر وہ ساری زندگی مریدوں کو گھن چکر کی طرح نچاتا رہا۔ مرید خوش ہوتے ر ہے کہ پیر ان کی عاقبت سنوار رہا ہے۔

سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اپنی رَعِیَّت کو ہمیشہ اپنے فیصلوں کی سولی پر چڑھایا۔ جنگ کا فیصلہ ہو یا امن کا، کہا گیا کہ "زبان خلق کو نقارہء خدا سمجھو” مگر ہوا وہی سب کچھ جس نے خلق کے حلق میں سیندور ڈال کر اسے گونگا بناۓ رکھا۔ فیصلے ایوانوں میں ہوئے نام عوام کا لیا گیا۔ پیروی فرعون کی ہوئی اور حوالے موسیٰ کے دیے گئے۔ غرض جبر کے ان سیاسی خداؤں نے اپنے فیصلوں کا تاوان ہمیشہ رعایا سے ادا کروایا۔ جبر کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک فرد نے اپنی پوزیشن کے زعم میں ایک لمحے کی خطا کی اور پوری قوم نے صدیوں تک سزا پائی۔

الغرض جبر کی یہ تمام چھوٹی بڑی ‘حکومتیں’ اپنے اپنے دائرہء اختیار کا جی بھر کے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ خدا کی دی ہوئی رعایتوں کو جھپٹ جھپٹ کر لوٹنے والے خود اپنے ماتحتوں کو معمولی سی بھی رعایت دینے کے روادار نہیں۔ خدا کی مہلتوں پر پر لگا کر اڑنے والے ہر کسی کی آزادی نوچ لینا چاہتے ہیں۔ حکومتیں اک لفظ اختلاف پر برہم ہوتی ہیں تو اہل مذہب معصوم سی اک چوک پر چراغ پا ہو جاتے ہیں ۔ کوئی کسی کو معاف کرنے کو تیار نہیں۔

خدا کی وسیع و عریض زمین پر دندانے والے لوگ اپنے سامنے کھڑے ہر کمزور سے ایک ایک انچ زمین چھین لینا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ کمزور انکا اپنا بھائی، انکی اپنی بہن، انکا کوئی یتیم بھتیجا، بھانجا اور سگا رشتے دار کیوں نہ ہو۔ اپنی ذات کے اندر مراقبے میں بیٹھا ہوا فرعون محلے کی مسجد سے نکلتے ہی غیروں کے پلاٹ پر، بہن کے حصے کی زمین پر اور بھائی کے حصے کی جائیداد پر ایسے نظر ڈالتا ہے جیسے قوت ملتے ہی انکے حقوق اپنے پنجۂ استبداد میں جکڑ لے گا۔

یعنی سب کے سب ‘ظل الہی’ اپنے اپنے سلیم پر جبرکے پہاڑ توڑنے کی تاک میں رہتے ہیں، کوئی کسی ‘انار کلی’ کو دیواروں میں چنوا دینے کی حسرت لئے پھرتا ہے ، کوئی اپنے وقت کے سقراط کے حلق میں زہر انڈیل دینے کو بیتاب ہے تو کوئی کسی سرمد کا سر قلم کر دینے کی تمنناۓ شدید رکھتا ہے۔

گھر سے لیکر ایوان سیاست تک اور انفراد سے لیکر اجتماع تک اپنی مرضی تھوپنے والے اس ‘ظل اللہی’ رویے نے انسانی معاشرے کی زرخیزی کو بانجھ پن میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے اپنے سوا ہر کسی پر آزادی اظہار کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اس نے نوجوانوں کو شکوہ کناں کر کے حسرتوں کا قبرستان بنا دیا ہے۔ ان حالات کو اگر ٹھیک کرنا ہے تو اصلاح کا سفر ہر گھر سے شروع ہونا ضروری ہے۔ آنے والی نسلوں کی تیاری کے لئے اسکی پہل والدین کو کرنی ہوگی۔ انھیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں اس جوہری کا رول ادا کرنا ہوگا جو ہیروں کی تراش خراش اور اسکی تزئین و سجاوٹ میں آخری درجےکی ہنر مندی اور کمال برت کر اسے شاہوں کے سر کا تاج بنا دیتا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے ‘خدا’ بننے کی نہیں بلکہ صرف خدا کا سچا خدمتگار بننے کی ضرورت ہے !!!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*