تراش محو ہوئی، خدوخال سے بھی گئے ـ اختر عثمان

تراش محو ہوئی، خد و خال سے بھی گئے
کچھ آئنے کہ تری دیکھ بھال سے بھی گئے​

گہے گہے نگہِ نیلگوں تھی مرہم گیر
وہ بجھ گئی تو فقیر اندمال سے بھی گئے

یہ کارِ گفتنِ احوال کوئی سہل ہے کیا
وہ چپ لگی ہے کہ تابِ سوال سے بھی گئے

کہاں نشاط کی وہ ساعتیں، وہ درد کی لو
کہاں یہ حال کہ تیرے ملال سے بھی گئے

ہوا نہ ضبط بھی اور وہ بھی ہو گیا ناراض
غزل بھی ہو نہ سکی اور غزال سے بھی گئے

اٹھیں وہ پرسش و خواہش کی کوکتی رسمیں
سو تیرے دوختہ دل بول چال سے بھی گئے

توازنِ نگہِ یار ہی سے تھا معیار
گرے تو مرتبہِ اعتدال سے بھی گئے

اٹھی تو کر گئی یک بار وہ نظر ہموار
ہم اس کی سمت اگر پائمال سے بھی گئے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*