ترنم ریاض کی فکشن نگاری -ڈاکٹر سیفی سرونجی

ترنم ریاض ایک مشہور و معروف شاعرہ اور فکشن نگار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی تھیں اور رکھتی ہیں ۔ ان کے شاہکار ناول ’ مورتی‘ نے فکشن کی دنیا میں ایک رکارڈ قائم کیا ہے۔جس میں انھوں نے ایک ایسی عورت ملیحہ کا کردار پیش کیا ہے ،جو ایک عظیم آرٹسٹ ہے لیکن اس کی شادی ایک ایسے شخص اکبر علی سے ہوجاتی ہے جو اس کی تو کیا کسی بھی آرٹ کی ، فنون لطیفہ کے کسی بھی فن سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ بلکہ وہ مورتی کے فن سے تو اور بھی نفرت کرتا ہے اور اسے اسلامی شریعت کے خلاف سمجھتا ہے ۔ ایسے ماحول میں زندگی بسر کرنے والی عورت کا کیا حال ہوتا ہے ، اسے ترنم ریاض نے بہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ قدم قدم پر اس کا اور اس کے فن کا مزاق اڑایا جاتا ہے ۔ اس پر طرح طرح کے طنز کئے جاتے ہیں ۔ وہ سب کسی طرح برداشت کرتی ہے ۔ ترنم ریاض نے اپنے فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہوئے اس کے فنی نمونے اور فن سے اس کا جنون کی حد تک عشق کہ وہ اپنے شوہر کے منع کرنے پر بھی اپنے اسٹوڈیو میں مورتیاںبناتی رہتی ہے اور خود کو زخمی کرتی رہتی ہے ۔ اسی بات پر اکثر شوہر سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے ۔ گویا اس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے ۔ اس کی پوری کیفیت کو ترنم ریاض نے اپنے مکالموں کے ذریعہ کبھی منظر اور کبھی پیش منظر کے روپ میں بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے ۔ ترنم ریاض خود بھی ایک فنکارہ ہیں ، وہ عورت کے جذبات کو خوب سمجھتی ہیں ۔ مورتی میں جذباتی کشمکش اورایک آرٹسٹ کے زخموں کو اس کے اندر جھانک کر محسوس کرتے ہوئے دکھایا ہے ۔ پورے ماحول میں فن کی اہمیت اور فنکار کی قدر وقیمت کو بتایا گیا ہے کہ فن بہت بڑی چیز ہوتی ہے ۔ اس کی اہمیت ہر شخص نہیں جانتا ۔ یہاں ناول کا ایک اقتباس پیش ہے ۔ جس سے کہ ترنم ریاض کے فن کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ایک فنی نمونہ دیکھتے ہوئے دوسرا فنکار کیا محسوس کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
’’کون ہوگا یہ عظیم فن کار ۔ عافیہ دیکھو ، دیکھو ۔ فن یہاں ختم ہوجاتا ہے ۔ اس سے بہتر کون بنا سکتا ہے ، کوئی مورتی ایسی ۔۔۔۔۔۔۔کہ یوں ۔۔۔۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ابھی اٹھ کر کسی طرف چل پڑے گی ۔ قیامت تک زندہ رہنے والی دلہن ۔ یہ امر دلہن دیکھو تو ۔۔۔زندہ ہے ۔ یہ ہونٹوں کی ابدی مسکراہٹ ۔ یہ گردن کا شرمیلا خم ۔۔۔۔ یہ سمٹے سمٹائے انداز میں کونے پر ذرا سا ٹک کر بیٹھ جانا ۔۔۔۔۔۔ اسے کون مرحومہ کہے گا ۔ محبت نے اسے لافانی کر دیا ہے ۔ لیفٹنٹ کرنل جے اے کنگہم جانے کہاں مٹی میں مٹی ہوگیا ہوگا ۔ اپنی محبت کو امر کر کے مگر فن کار کا تو کوئی نام بھی نہیں جانتا ۔ کیا یہ کسی تاج محل سے کم ہے ۔ مہابلی پورم ایلنفیٹا الورا کے کسی فن پارے سے۔۔۔۔۔۔ عافیہ ۔ اس فن کار کے انگوٹھے تو قلم نہیں کر دئے ہوں گے ؟ کون ہوگا یہ سچا فنکار ۔۔۔۔۔عافیہ تربت پر لکھی کہانی جھوٹی ہے ۔۔۔۔۔ وہ لرزتی ہوئی آواز میں کہتی گئی ۔۔۔۔ سچ تو صرف یہ فن پارہ ہے ۔ ‘‘
جب ایک بڑی فنکارہ اس قسم کا کوئی فنی نمونہ دیکھتی ہے ، تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے ۔ ترنم ریاض نے اپنے اس اقتباس کے ایک ایک جملے میں پیش کر دیا ہے اور اس کی قسمت دیکھئے کہ اس عظیم فنکارہ کی شادی ایسے بے حس شخص اور ناشناس شخص سے ہوتی ہے ، جو اسے قدم قدم پر نہ صرف ذلیل کرتا ہے ،بلکہ اسکے فن کا بھی مذاق اڑاتا ہے ۔ اسے بے ہودہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے اپنا وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ ظاہر ہے ان باتوں سے فنکار پر کیا گذرتی ہے ۔ وہ سب کچھ ترنم ریاض نے اپنے اس ناول میں پیش کیا ہے ۔ اس ناول میں جہاں ایک طرف ایک فنکارہ کے جذبات کو پیش کیا گیا ہے تو دوسری طرف دہلی اور کشمیر کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں ۔ چاندنی چوک ، جامع مسجد ، لال قلعہ ، مینا بازار ، بلیماران ، پرانی اور نئی دلی کی یادگار عمارتیں اور کھانے پینے اور بازار کی رونقیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں ۔ ’’مورتی ‘‘ میں ایک خاص کردار فیصل کا بھی ہے ۔ جو اپنی فیملی کے ساتھ مسقط میں رہتا ہے ۔ اس کی بھابی عافیہ اپنی سہیلی ملیحہ کی اس قدر تعریف کرتی ہے کہ فیصل ملیحہ میں نہ صرف دلچسی لینے لگتا ہے بلکہ عافیہ نے جب یہ بتایا کہ وہ ایک عظیم آرٹسٹ ہے لیکن اس کی شادی غلط جگہ ہوگئی ہے ۔ اس بڑی فنکارہ کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے ۔ عافیہ بھابی سے ملیحہ کے متعلق یہ باتیں سن کر فیصل کے دل میں نہ صرف اس سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی بلکہ وہ غائبانہ طورپر اسے چاہنے لگا ۔ اتفاق سے اپنے کاروبار کے سلسلے میں دہلی آیا ، تو سب سے پہلے اسے ملیحہ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا ۔ اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ ہوا ۔اُس نے دکھا کہ ملیحہ جیسی عظیم فنکارہ کے ساتھ بہت زیادتی کی جارہی ہے ۔ وہ اندر ہی اندر اپنے دل میں ایک بے چینی محسوس کرنے لگا اور اسے اکبر علی کی قید سے نکالنے کی تدبیر کرنے لگا ۔ جب اس بات کا اظہار اس نے ملیحہ سے کیا تو وہ حیران رہ گئی اور کہنے لگی فیصل تم ایسا خیال بھی اپنے دل میں نہ لاؤ ۔ اول تو میری عمر تم سے زیادہ ہے ۔ دوسرے میری قسمت بدل نہیں سکتے ۔ فیصل اسے یقین دلاتا ہے ، کہ میں آپ کی قسمت بدل کر رہوں گا اور آپ کو اپنا حق دلا کر رہوں گا ۔ آپ جیسی فنکارہ صرف اس لیے پیدا نہیں ہوئی کہ گھر میں قید کر دی جائے ۔ آ پ کا فن اتنا لاجواب ہے ، میں اسے دنیا کے سامنے پیش کروں گا ۔ آپ میری بات مانئے اور ان مورتیوں کو جوا ٓپ برسوں سے بناتی رہی ہیں انھیں صحیح کر لیجیے ۔ میں ان کی نمائش کروں گا ورنہ یاد رکھئے ایک دن آپ کو اکبر علی پاگل خانے پہنچا دے گا ۔ رفتہ رفتہ وہ اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی اور دن رات مورتی بنانے میں لگ گئی کہ ایک ایسی شاہکار مورتی بنائے کہ دنیا حیران رہ جائے ۔ وہ دن رات اس میں لگ گئی ادھر چند دنوں تک فیصل کا جانا نہیں ہوا ۔ ادھر مورتی کے لئے زیادہ وقت دینے پر اس کے اور اکبر علی کے درمیان روز جھگڑے ہونے لگے ۔ اکبر علی نے صاف کہہ دیا کہ اب یہ مورتیاں گھر میں نہیں رہیں گی ۔ اس اسٹوڈیو کی جگہ میں ایک بہترین ہال بنواؤں گا ۔ ادھر فیصل نے کیمرہ مین کو لیکر نمائش کا دن بھی مقررکر لیا ۔ وہ کیمرہ مین کو ساتھ لے کر جب ملیحہ کے گھر پہنچا ۔ تو ساری مورتیاں گھر کے باہر ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑی تھیں اور ملیحہ نیم پاگل کی حالت میں زور زور سے کہہ رہی تھی ۔ سب مر گئے ، سب مر گئے ۔
’’ یہ دیکھو ۔ فیصل ، فیصل ۔ وہ ہانپتے ہوئے بولی ، سب مر گئے ۔ اس نے ہاتھ سے ماں اور بچے کے مجسمے کی طرف اشارہ کیا ۔ یہ دیکھو ۔ یہ ماں کے پاس بیٹھتا ہی نہیں ۔ اس نے بچے کے سر دونوں ہاتھ رکھدیے ۔ اس کا گھٹنا ٹوٹ گیا ۔۔۔۔۔ اس نے فیصل کے چہرے کی طرف دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں جانے کب کے ٹھہرے ہوئے آنسو امڈ آئے ۔ اب کیا ۔۔۔۔کیا ۔۔۔ہوگا ۔ اس نے دونوں ہاتھ فیصل کے شانوں پر رکھ دئے اور بلک بلک کر روپڑی ۔ اب کچھ نہیںہوسکتا فیصل ۔ سب مر چکے ۔ اس نے ہچکیاں لے کر کہا اور بے ہوش ہوگئی ۔ ‘‘
فوٹو گرافر نے ساری ٹوٹی پھوٹی مورتیوں کے فوٹو کھینچ لئے اور ملیحہ کے بے ہوشی کے فوٹو بھی لے لئے ۔ دوسرے دن اخبار میں عظیم فنکارہ ملیحہ کے بارے میں بہت تفصیل سے لکھا گیا۔ ادھر نمائش میں اس عظیم فنکارہ کے فن کو دیکھنے کے لئے بھیڑ جمع تھی اور اس کے فن کی ستائش کی جارہی تھی ۔ لوگ جوق در جوق جمع ہورہے تھے ۔ فیصل بہت خوش تھا تو شاید اب ملیحہ یہ دیکھ کر خوش ہوجائے گی اور صحت مند ہوجائے گی ۔ وہ اسے لینے کے لئے جب اکبر علی کے گھر پہنچا تو وہ بستر پر پڑی تھی اور گھر کے لوگوں نے بتایا کہ اکبر علی اسے پاگل خانے بھیج رہے ہیں ۔ ڈاکٹر آنے ہی والے ہیں ۔ ملیحہ ان سب باتوں سے بے نیاز بستر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑی ہے کہ ڈاکٹر آتے ہیں اور اسے پاگل خانے لے جانے لگے تو لپک کر فیصل پہنچا کہ نہیں یہ پاگل خانہ نہیں جائے گی ۔ میں اسے اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا اور گھر میں اس کا علاج کراؤں گا ۔ اکبر علی کو کوئی حیرت نہ ہوئی اور فیصل اسے اپنے گھر لے آیا ۔ ادھر اس کے فن کی نمائش میں اسے عظیم فنکارہ کے لقب سے سب یاد کر رہے تھے اور ملیحہ بستر پر تھی ۔ اس طرح ترنم ریاض نے اس ناول میں ایک فنکارہ کی زندگی کو پیش کر کے اس کی عظمت کو پیش کیا ہے ۔ اس کا وقار بڑھایا ہے ۔ ترنم ریاض کے فن ، ان کے افسانوں اور ناولوں سے متعلق درجنوں معتبر قلم کاروں نے لکھا ہے ۔ یہاں میں نامور نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کی رائے پیش کرتا ہوں :
’’ چند دہائیاں پہلے ترنم ریاض وادیٔ کشمیر کے ایک گل نواس کی حیثیت سے ادب کے رشتہ بے اماں میں داخل ہوئی تھیں ، جہاں زمین سخت اور آسمان دورہے ۔ ادب کی دنیا عجیب کشاکش کی دنیا ہے ۔ جہاں اچھے اچھوں کا ملمع دھلتے دیر نہیں لگتی ۔ ترنم ریاض اپنی لگن ، دلسوزی ، انہماک اور ان تھک محنت کی وجہ سے آج معاصر اردو شاعری اور فکشن دونوں میں اپنی پہچان بنا چکی ہیں اور معروف حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ وقت ہی طے کرے گا کہ وہ شاعری میں آگے ہیں یا فکشن میں ۔ آثار تو فکشن کے نظر آتے ہیں ۔ ادھر انھوں نے موجودہ چیلنج کشمیر عورت کے دکھ درد اور تیزی سے بدلتے ہوئے کلچر سے جڑے مسائل پر بھی غور کیا ہے ۔ زیر نظر کتاب سے ان کا ذہنی سفر ناول کی طرف شروع ہوتا ہے ۔ جس کے کردار دہلی ، کشمیر اور سعودیہ کے بیچوں بیچ گھومتے اور نفسیاتی گتھیاں سلجھاتے اور الجھاتے رہتے ہیں ۔ ترنم ریاض نے بیانیہ محنت سے بنا ہے ۔ ان کی کامیابی کے لیے اس سے پہلے بھی میری دعا کارگر ہوئی ہے ۔ تو اب بھی ہوگی ۔ آمین ۔ ‘‘
ترنم ریاض نے واقعی ایک اچھا ناول لکھ کر اردو فکشن کو دیا ہے ۔ اِس کے بعد ترنم ریاض نے’ برف آشنا پرندے‘ جیسا ناول لکھ ڈالا جس نے ادبی دنیا میں دھوم مچا ڈالی ، جہاں ایک طرف پرانے ناول نگاروں نے اچھے ناول لکھے ہیں وہیں دوسری طرف نئی نسل کے لکھنے والے بھی ناول کی طرف متوجہ ہوئے ہیں ،لیکن ابھی ہمیں ترنم ریاض سے اور بھی بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ آج ہم نے ترنم ریاض جیسی ناول نگار اور شاعرہ کو کھو دیا ہے ، جس کی تلافی ممکن نہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔