طنزیہ ومزاحیہ شاعری کا نگارخانہ-حقانی القاسمی

جوزبان چند افراد یا اذہان تک محدود ہوتی ہے۔اس کا دائرہ رفتہ رفتہ سمٹتا جاتاہے۔ٹی این راز(ترلوکی ناتھ کامبوج) کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ اردو زبان کی شاہکار تخلیقات ہندی اور پنجابی جیسی زبانوںمیں منتقل کرکے اس زبان کا حلقہ اثر بڑھاتے رہے ہیں اور اردو کے قلمکاروںکو اجنبی اور نامانوس علاقوں میں متعارف کرانے کا بہترین فریضہ بھی انجام دیتے رہے ہیں۔ان کی کتابیں غالب، جیون ، شاعری، خط اور سفرکلکتہ، دنیائے غزل،مئے خانہ اور جام وپیمانہ، رنگا رنگ اردو شاعری ہندی اور پنجابی میں شائع ہوئی ہے۔اس کے علاوہ انھوںنے اردو کے اہم شاعروں احمد فراز، پروین شاکر، ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی، ندا فاضلی ، منور رانا کا منتخب کلام بھی ہندی اور پنجابی زبانوںمیں شائع کیا ہے۔ہندوستان پاکستان کی بہترین طنزیہ مزاحیہ شاعری کے عنوان سے یہ کتاب بھی پنجابی اور ہندی میں شائع ہوچکی ہے۔اب وہ اس کا اردو ایڈیشن شائع کررہے ہیں۔اس کتاب میں انھوںنے طنزیہ شاعری کا بہت ہی عمدہ انتخاب کیا ہے اور موضوعات میں تنوع کا خاص طورپر خیال رکھا ہے وہ موضوعات جو آج کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں ان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جن موضوعات کے حوالے سے اس میں اشعار ہیں۔یقینا وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔خدا ،بندگی، جنت، حسن وعشق، محبوب، محبوبہ، نکاح، شادی، بیوی ، آبادی، مسلمان، شیخ، ملّا، میخانہ ، جام وپیمانہ، سیاست ، خوشامد، رشوت، شاعر، باپ بیٹا، ساس بہو ، سسرال ، بڑھاپا، پولیس، ڈاکٹر ،نرس، پردہ، نئی تہذیب، فیشن، کالج اور ٹی وی ۔
دنیا کی بیشتر زبانوںمیں طنزیہ مزاحیہ شاعری ہوتی رہی ہے ۔سنسکرت، چینی، اور دوسری عالمی زبانوںمیں بھی طنزیہ مزاحیہ شاعری کی ایک گراںقدر روایت رہی ہے ، اردومیں بھی طنزیہ مزاحیہ شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے جنھوںنے اپنی شوخیٔ طبع اور شگفتگی کے ساتھ نشتریت کے جوہر بھی دکھائے ہیں ۔ان شاعروںمیںسے کچھ کے یہاں مزاح کا عنصر زیادہ ہے تو کسی کے یہاں طنز کا۔ مزاح اور طنز دونوں میں کچھ قربتیں ہیں، توکچھ فاصلے بھی ۔غلام احمد فرقت نے اپنی کتاب’ اردو ادب میں طنز ومزاح ‘ میں اشعار کے ذریعے مزاح اورطنز کے فرق کو بیان کیاہے ۔مزاح کے ذیل میں یہ شعر لکھا ہے :
دختر رز نے اٹھا رکھی ہے آفت سر پر
خیریت گزری کہ انگور کا بیٹا نہ ہوا
تو طنز کے ضمن میں یہ شعر درج کیا ہے:
فکر ساری کی ہے نہ کنگن کی
اب تودھن ہے انھیں فرنگن کی
ٹی این ناز نے اس کتاب میں طنزیہ اور مزاحیہ دونوں شاعری کے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں۔ان اشعار سے اردو زبان کی شگفتگی اور بذلہ سنجی کی روایت کا بھی پتہ چلتاہے اور یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ اردو کے شاعروںنے پھکڑپن اور ابتذال سے ممکنہ حد تک اجتناب برتا ہے ۔چند اہم موضوعات پر یہ اشعار دیکھیے جس سے اندازہ ہوگا کہ اس میں کتناطنز ہے اور کتنی شوخیٔ طبع طعن وتشنیع ہے ۔لطیف طنز کے پیرائے میں شاعروںنے سوچ کے کیسے کیسے دروازے کھولے ہیں اورکیسی کیسی نازک خیالیاں ، ندرتیں، جدتیں اورلطافتیں ان کے شعروںمیں سمٹ آئی ہیں۔چند اشعار دیکھیے:
جس شخص کی اوپر کی کمائی نہیں ہوتی
سوسائٹی اس کی کبھی ہائی نہیں ہوتی
(انعام الحق جاوید)
لو ڈشیڈنگ میں بھلا بد شکل موٹی کا ہوا
بات تو منجھلی کی تھی اور عقد چھوٹی کا ہوا
(ہر فن لکھنوی)
مذہب کی خوبیاں اسے قائل نہ کرسکیں
بس ایک ہی اصول پہ قربان ہوگیا
جو نہی سناکہ چار بھی جائزہیں بیویاں
فوراً وہ کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوگیا
(جعفر رضوی)
گرانی، مفلسی ، بے روزگاری ، قہر ،بیماری
یہ فتنے کیا ہماری موت کا کاشن نہیں دیتے
مگر یہ خوش بیاں لیڈر، یہ ناکارہ سیاست داں
فقط بھاشن دیے جاتے ہیں اور راشن نہیں دیتے
(دلاور فگار)
میں نے بیگم کو بتایا وقت ضائع مت کرو
اک کتے کا سدھرناغیر ممکن بات ہے
سن کے میرا مشورہ بیگم نے غصہ سے کہا
تم سدھر سکتے ہو تو کتے کی کیا اوقات ہے
(قیسی قمرنگری)
اک نوجوان اتنا کفایت شعار تھا
دیکھو کہ کس سلیقہ سے پیسہ بچاگیا
شادی کے بعد اپنے ہنی مون کے لیے
شملہ کی وادیوں میں اکیلا چلا گیا
(مصطفی علی بیگ)
کثرت اولاد نے مارا ہمیں
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
(شاہد الوری)
یہ تو میں مان رہا ہوں میں میرے پیارے شاعر
تری شہرت کبھی لندن ، کبھی جاپان میں ہے
کچھ تو چوری کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
یہ تراا شعر غالب کے بھی دیوان میں ہے
(پاپولر میرٹھی)
ان طنزیہ ومزاحیہ شاعروںنے اردو میں انگریزی الفاظ کو نگینہ کی طرح جوڑنے کا ہنر بھی دکھایاہے۔اس کا نمونہ دیکھیے:
بیٹے کو Chequeسمجھ لیا State Bankکا
سمدھی تلاش کرنے لگے High Rankکا
(مصطفی علی بیگ)
ہوئی کوایجوکیشن جب سے رائج اس زمانے میں
ہر ایک تعلیم کا اندر سبھا معلوم ہوتی ہے
(ظریف جبل پوری)
اس کے علاوہ کچھ اور اشعار دیکھیے جن میں طنز بھی ہے اور مزاح بھی ۔نیاز سواتی کہتے ہیں:
اپنے زوجہ کے تعارف میں کہا ایک شخص نے
دل سے ان کا معترف ہوں میں زبانی ہی نہیں
چائے بھی اچھی بناتی ہیںمری بیگم مگر
منہ بنانے میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں
اسرارجامعی کہتے ہیں:
جناب شیخ سے وہ اس لیے نظریں لڑاتی ہیں
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
اس طرح طنز اور مزاح کے الگ الگ اسالیب کے شعر اس کتاب میں موجودہیں۔جن میںسے کچھ شاعروںنے کہیں ایہام ،کہیں صنعت تجنیس اور کہیں تحریف وتضمین اور دیگر صنائع لفظی ومعنوی کا فنکارانہ استعمال کیا ہے اور اپنی قدرت کلامی اور ذہن رساکے جوہر دکھائے ہیں۔
طنزیہ شاعری کے بہت سے انتخابات شائع ہوئے ہیںمگر ان میں بہت کم شعرا سے روشناسی ہوپاتی ہے مگر اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہاں طنز ومزاح نگاروں کی ایک پوری کہکشاں ہے۔مرزا غالب، اکبر الہ آبادی ، دلاور فگار،ر ضا نقوی واہی ،ساغرخیامی،علامہ اسرار جامعی، طالب خون میری جیسے شاعروں کے علاوہ اس میںایسے شاعروں سے ملاقات ہوتی ہے جوشاید ہی کسی انتخاب میں شامل ہوں۔ٹی این راز کے اس انتخاب میں طنزومزاح سے جڑے ہوئے پچیس سے زیادہ شعرا ہیں یہاں شوہر ناگپوری،سگار لکھنوی،سرپٹ حیدرآبادی، منہ پھٹ ناگپوری،پاگل عادل آبادی، گستاخ گیاوی، گلفام بدایونی، گڑ بڑ حیدرآبادی جیسے شاعروںسے بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو طنز ومزاح کی ایک بڑی کائنات کو انھوںنے اپنی کتاب میں سمیٹ لیاہے۔الگ الگ رنگ وبواور سائز کے اشعار اس کتاب میں مل جاتے ہیں۔یہ اپنی نوعیت کا بڑا کارنامہ ہے ۔
انگریزی اور دیگر زبانوںمیں بھی اردو کے طنزیہ مزاحیہ شاعروں سے متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے مگر ان کا دائرہ بہت محدود ہے۔K.C.Kanda نے انگریزی میںMasterpices of Humorous Urdu Poetryکے نام سے کتاب لکھی ہے ۔ مگر اس میں صرف سترہ بڑے شعرا کو شامل کیا ہے ۔ٹی این راز صاحب قابل مبارک باد ہیں کہ انھوںنے ہندوستان اورپاکستان کے نمائندہ اور اہم ہی نہیں بلکہ ان طنز ومزاح نگار شاعروںکو بھی اپنے اس انتخاب میں جگہ دی ہے جو طنز ومزاح کے میدان میں زیادہ شہرت نہیں رکھتے یا کسی وجہ سے عام قارئین تک ان کی رسائی نہیں ہوپائی ہے ۔مگر ان کے اشعار میں بڑی قوت ،توانائی اورتابندگی ہے اور تیر نیم کش کی سی کیفیت بھی ہے۔
مجھے قوی امید ہے کہ اردو حلقے میں اس خوبصورت گلدستہ کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی اور عام قاری بھی اس سے محظوظ ہوں گے۔