تفہیمِ حنیف ترین:’تنقید بھی تحسین بھی‘ کی روشنی میں-ڈاکٹر شاداب تبسم

مرتب وناشر:محمداسلام خان
صفحات:520،قیمت:291
مطبع:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی

ڈاکٹر حنیف ترین کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی سیرت و شخصیت، علمی اور ادبی کارناموں سے اردو دنیا اچھی طرح واقف ہے۔ اردو شعرو ادب سے حنیف ترین کا تعلق تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس دوران متواتر متعدد مجموعہ ہائے کلام اور دیگر کتابیں منظر عام پر آئیں۔قارئین نے حنیف ترین کو داد و تحسین سے بھی خوب نوازا۔ ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے مختلف رسائل و جرائد میں تحریریں شائع ہوتی رہیں۔ نصف درجن سے زائد رسائل وجرائد ان پر خصوصی گوشے اور خصوصی شمارے شائع کرچکے ہیں۔ محمد اسلام خان کی ترتیب دادہ زیر نظر کتاب ’تنقید بھی تحسین بھی‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
کتاب ’تنقید بھی تحسین بھی‘ محمد اسلام خان کی پہلی مؤلفانہ کاوش ہے، جس میں انھوں نے بہت ہی محنت شاقہ سے کام لیا اور حنیف ترین کی شخصیت اور فن کے حوالے سے تحریر کردہ مضامین کو یکجا کرکے نہایت سلیقے سے پیش کیا ہے۔
’تنقید بھی تحسین بھی‘ دسمبر 2020 کو شاعر موصوف کی رحلت کے بعد منظر عام پر آئی۔ اس میں دورِ حاضر کے مستند اور معتبر قلم کاروں کی تحریریں شامل ہیں۔ ان میں سے کئی قلم کار اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ کتاب کی تیاری شاعر مرحوم کی زندگی ہی میں کرلی گئی تھی لیکن ان کی حیات میں شائع نہ ہوسکی۔ مرتب نے پیش لفظ میں لکھا ہے:
’ڈاکٹر حنیف ترین سے مجھے خاص طرح کی انسیت رہی ہے۔ اسی لگائو کی وجہ سے میں نے ان سے متعلقہ مضامین کو ترتیب دینے کا عمل ان کی زندگی میں ہی شروع کردیا تھا۔ تقریباً تمام مواد موصوف کی زندگی میں ہی کتابی شکل میں جمع کرلیا تھا کہ اسی دوران وہ علیل ہو کر کشمیر چلے گئے۔ اچانک 3 دسمبر کی صبح چار بج کر چونتیس منٹ پر ان کے فرزند ڈاکٹر یاسر خان نے مجھے فون کیا مگر میں فون نہیں اٹھا سکا۔ تو انھوں نے مجھے واٹس ایپ پر میسج کیا ،جس سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر حنیف ترین اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ‘
اسی ضمن میں آگے لکھتے ہیں:
’ان کی ناگہانی وفات کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کام میں زیادہ تاخیر مناسب نہیں۔ اسی لیے بہ عجلت تمام کتاب کی اشاعت کو یقینی بنانے کی سعی کی گئی۔ کاش یہ کتاب ان کی زندگی میں آجاتی تو انھیں بہت زیادہ مسرت ہوتی۔‘
عموماً ترتیب کے کام کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن کام کی نوعیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ ’تنقید بھی تحسین بھی‘ جیسی کتابوں کو تیار کرنے میں کس عرق ریزی کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اس طرح کے کام انجام دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ طویل ریاضت کے بعد ہی اس طرح کی کتابیں منظر عام پر آتی ہیں۔
کتاب کے مرتب محمد اسلام خان نے 21 صفحات پر مشتمل پیش لفظ رقم کیا ہے، جس میں کتاب کو مرتب کرنے کے اغراض و مقاصد، شاعر مرحوم سے اپنے دیرینہ مراسم اور ان کی سیرت و شخصیت کے ساتھ فن پر بھی مفصل گفتگو کی ہے‘۔ کتاب میں شامل 80 مضامین اور 3 انٹرویوز کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب میں رسالہ ’کتاب نما‘ کے خصوصی شمارے ’حنیف ترین (فن اور شخصیت)‘ کے بیشتر مضامین بھی شامل ہیں۔ کتاب کے پہلے حصے ’نقد و نظر‘ میں ان تحریروں کو شامل کیا گیا ہے، جن سے شاعر مرحوم کی ذات و صفات اور تخلیقات پر روشنی پڑتی ہے۔ ’نقد و نظر‘ حصے میں جن قلم کاروں کی تحریریں شامل ہیں، ان میں وزیر آغا، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، حامدی کاشمیری، نثار احمد فاروقی، جوگندر پال، آئی کے گجرال کے علاوہ دیگر قلم کاروں کی تحریریں بھی شامل ہیں۔ ان تحریروں کے ذریعے نقادوں نے انھیں فن کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے ’میزان‘ کے تحت حنیف ترین کے شعری مجموعوں پر ردِعمل کے طور پر سامنے آنے والی تحریروں یا تبصروں کو مرتب نے نہایت خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ تبصرہ نگاری مضمون نویسی کی ہی ایک شکل ہے، تاہم جب سے اردو رسائل و جرائد اور خیالات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اسی وقت سے کتابوں پر تبصرہ و تعارف کی روایت قائم ہوئی ہے۔ اس طرح تبصرہ نگاری نے مشکل فن کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بقول رفیع الدین ہاشمی ’تبصرہ مصنف کو حوصلہ بخشتا ہے اور اسے سوچ کے نئے زاویے عطا کرتا ہے اور اسے اپنی تخلیق پر نظر ثانی کا مشورہ بھی دیتا ہے ۔ گو کہ حنیف ترین اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی کتابوں پر کیے گئے تبصروں کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔
شعری مجموعہ ’رباب صحرا‘ پر خلیق انجم ، محمد انصاراللہ، ظہیراحمد صدیقی اور معین شاہد کے خیالات شامل ہیں۔ مجموعہ ’ابابیلیں نہیں آئیں‘ پر سید شکور حسین، چندر بھان خیال، اسلم چشتی، حنا روحی، اکمل شاکر، ایم نسیم اعظمی، قیوم رازمارولی، جاوید انور، غلام فرید، م۔ لئیق انصاری، مشتاق انجم، معصوم شرقی، شکیل شفائی، اسلم حنیف، تسکین زیدی کی تحریروں کو شامل کیا گیا ہے۔ مجموعہ ’زمین لاپتہ رہی‘ پر ڈاکٹر آفاق فاخری، مجموعہ ’لالۂ صحرائی‘ پر تابش مہدی اور مجموعہ ’دلت کویتا جاگ اٹھی‘ پر کوثر مظہری ، عبدالباری قاسمی اور نظام ہاتف کے تبصرے شامل ہیں۔
انٹرویو کے لیے اردو میں مصاحبہ کے علاوہ ’محادثہ‘ ، ’ملاقات‘، ’گفتگو‘، ’بات چیت‘، ’ہم کلام‘ وغیرہ لفظوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور اردو کے وسیع دامن میں لفظ ’انٹرویو‘ بھی سما گیا ہے جو کہ عام فہم بھی ہے، لیکن مرتب نے کتاب کے تبصرے حصے کو ’مصاحبہ‘کا عنوان دیا ہے، جو حنیف شناسی کے تعلق سے بہت اہم ہے۔ ادبی انٹرویو کا مقصد ادبی شخصیت کی تفہیم ہے۔ انٹرویو جہاں اہم شخصیات کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میںہمارے فطری تجسّس کو آسودہ کرتے ہیں، وہیں ایک دستاویزی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود فن کار کے قلم یا زبان سے ان کے حالات زندگی اور ان کے نظریات و تاثرات کا ایک مستند اور معتبر ریکارڈ پیش کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے کتاب ’تنقید بھی تحسین بھی‘ کا تیسرا حصہ بھی قابل مطالعہ ہے۔ اس ذیل میں بشیر شاہ، حقانی القاسمی اور غلام نبی کمار کے شاعر مرحوم سے خصوصی انٹرویوز کے ذریعے ان کی شاعری اور شخصیت سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے۔ تمام سوالوں کے جوابات شاعر موصوف نے بڑے بے باکی اور اعتماد کے ساتھ دیے ہیں۔ اس گفتگو میں شاعر کی اردو سے جذباتی وابستگی ، زبان و بیان اور کئی دلچسپ پہلو سامنے آتے ہیں اور ایک شخصیت اپنی رنگا رنگ انفرادیت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔
کتاب کے چوتھے باب ’پس مرگ‘ میں شامل تحریریں حنیف ترین کی رحلت کے بعد لکھی گئی ہیں۔ ان تحریروں کی تعداد 9 ہیں۔ جس کے محرران ابرار رحمانی، سہیل انجم، ظفر انور، شمس کمال انجم، خاور حسن، غلام نبی کمار، قسیم اختر، حبیب سیفی اور محمد شرافت علی ہیں۔ سب نے اپنے اپنے انداز میں خراجِ عقیدت پیش کی ہے۔ کسی نے محسوسات اور جذبات کا شاعر کہاتو کسی نے مخلص انسان، کسی نے اردو دوست اور اچھا شاعر تو کسی نے زندہ حقیقتوں کا شاعر، کسی نے البیلا شاعر کہا تو کسی نے شاعر مرحوم سے متعلق اپنی پرانی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ تمام تحریریں حنیف ترین کی سیرت اور شخصیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
کتاب کے آخر میں شاعر مرحوم کے اہل خانہ کے تاثرات کے علاوہ اہم شخصیات کے ساتھ لی گئی تصاویر بھی شامل ہیں، جن سے شاعر مرحوم کے وسیع تر تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کتاب کی علمی و ادبی وقعت کا اندازہ کتاب کی فہرست سے لگایا جاسکتا ہے۔ کتاب کی معتبریت میں مزید اضافہ پروفیسر ارتضا کریم کے فلیپ سے بھی ہوتا ہے ۔
کتاب کے بیک کور پر جینت پرمار نے عمدہ لفظوں میں حنیف ترین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ’تحسین بھی تنقید بھی‘جیسی کتاب باذوق قاری کو اپنی طرف متوجہ ومائل کرنے پر ضرور مجبور کرے گی اور مرتب محمد اسلام خان نے اہل علم کی تحریروں کی روشنی میں حنیف ترین کی شعری کائنات کی تفہیم جس انداز سے کی ہے، وہ شاعر مرحوم کو اردو دنیا میں کتابوں کی اہمیت مسلّم اور باقی رہنے تک زندہ و پائندہ رکھے گی۔
کتاب کے مرتب محمد اسلام خان اس ادبی کاوش کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ایسی شخصیت کی قدر شناسی کی جو اردو دنیا میں تقریباً پانچ دہائیوں تک اپنی خدمات انجام دیتی رہی۔مختصر یہ کہ 520 صفحات پر مشتمل کتاب ’تحسین بھی تنقید بھی‘ جو ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی سے دسمبر 2020 میں شائع ہوئی ہے، حنیف شناسی کے باب میںاضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔