تنہا پڑگئیں ممتا بنرجی،بائیں محاذ اور کانگریس کا ٹی ایم سی کی حمایت سے انکار

کولکاتہ:ٹی ایم سی نے بائیں محاذ اور کانگریس سے اپیل کی تھی کہ وہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ اور تفرقہ والی سیاست کے خلاف جنگ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کا ساتھ دیں۔ تاہم دونوں جماعتوں نے اس مشورے کو مسترد کردیا ہے،اور کانگریس نے ٹی ایم سی کے اس مشورے کے بعد پیش کش کی ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف جنگ کے لیے اتحاد بنانے کے بجائے پارٹی کانگریس میں ضم ہوجائے ۔بی جے پی جو ریاست میں مضبوطی سے ابھر رہی ہے اس کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی کی پیش کش سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپریل – مئی میں مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنی بدولت بھگوا پارٹی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ٹی ایم سی کے سینئر ممبر پارلیمنٹ سوگت رائے نے کہا کہ اگر بائیں بازو کا محاذ اور کانگریس واقعی بی جے پی کے خلاف ہیں ، تو انہیں بھگوا پارٹی کی فرقہ وارانہ اور تفرقہ انگیز سیاست کے خلاف جنگ میں ممتا بنرجی کی حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی بی جے پی کے خلاف سیکولر سیاست کا اصل چہرہ ہیں۔ ٹی ایم سی کی تجویز پر ریاستی کانگریس کے سربراہ ادھیر رنجن چودھری نے ریاست میں بی جے پی کی مضبوطی کے لیے حکمران پارٹی کو مورد الزام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ٹی ایم سی گذشتہ 10 سالوں سے ہمارے ایم ایل اے خریدنے کے بعد اتحاد میں کیوں دلچسپی لے رہی ہے۔ اگر ممتا بنرجی بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لیے راضی ہیں تو انہیں کانگریس میں شامل ہونا چاہیے، کیونکہ فرقہ واریت کے خلاف لڑنے والی وہ ملک گیر واحد پلیٹ فارم ہیں۔ بنرجی نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور 1998 میں ٹی ایم سی کی بنیاد رکھی۔ سی پی ایم کے سینئر رہنما سوجان چکرورتی نے حیرت کا اظہار کیا کہ ریاست میں بائیں بازو کے محاذ اور کانگریس کو ایک غیر سیاسی قوت قرار دیے جانے کے بعد ٹی ایم سی ان کے ساتھ اتحاد کے لیے بے چین کیوں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی بھی بائیں بازو کے محاذ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سوجان چکرورتی نے کہاکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیں محاذ اب بھی اہم ہے۔ بائیں محاذاور کانگریس اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی دونوں کو شکست دیں گے۔