Home تجزیہ تمل ناڈو میں سماجی انصاف کے لیے کوششیں تیز۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

تمل ناڈو میں سماجی انصاف کے لیے کوششیں تیز۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

by قندیل

 ہندوستانی سیاست آج کل ایک عجیب چوراہے پہ کھڑی ہے۔ بڑے بڑے سیاسی پنڈت بھی تذبذب میں مبتلاہیں اور صاف پیشن گوئی کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ لوگ دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی جو پہچان تھی وہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے اور یہ ملک ایک فسطائی نظام میں ڈھلنے والا ہے جس کی شروعات ہو چکی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ چند سرمایہ داروں کی بڑھتی ہوئی ہوس کی وجہ سے کچھ شر پسند طاقتوں کو سر اٹھانے کا موقع ملا ہے اور جیسے ہی یہ سرمایہ دار اپنی حیثیت مستحکم کر لیں گے انہیں خود بھی ایک پُر امن ماحول کی ضرورت پڑے گی اور یہ سیکولر جمہوریت کی طرف لوٹ آئیں گے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی عوام میں روادری اور بھائی چارگی فطرتاً موجود ہے وقتی طور پرکچھ شدت پسند طاقتوں نے انہیں یر غمال بنا کر ان کے سوچ کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا ہے لیکن جیسے ہی انہیں اس بات کا احساس ہوگا وہ پچھتاوے کے ساتھ اپنی اصل پر لوٹ آئیں گے۔

          بات جو بھی ہو اتنا تو طے ہے کہ ہندوستان کے موجودہ حالا ت کسی بڑی سیاسی اُتھل پتھل کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔ ملک کے چاروں دشاؤں میں ایک عجیب قسم کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ ایک لاوا ہے جو اندر ہی اندر اُبل رہا ہے۔ روز روز کے فسادات، آپسی تکرار، نفرت و بغض کے برہنہ نظارے، قتل و غارت گری، ظلم و جبر، خون خرابے سے جہاں ملک کا ایک طبقہ خوش ہے اور اپنے کو پھلتے پھولتے دیکھ رہا ہے وہیں ملک کا ایک بڑا طبقہ سخت وحشت محسوس کر رہا ہے۔ اُسے لگ رہا ہے یہ جو کچھ ہورہا ہے غلط ہورہا ہے اور اسے رُکنا چاہئے لیکن کیسے؟ اس سوال کا اُس کے پاس ابھی کوئی جواب موجود نہیں ہے۔

          با لخصوص جنوبی ہندوستان جو ہمیشہ امن و امان، رواداری اور بھائی چارگی کے لئے ایک اہم مقام رکھتا ہے، بڑھتی ہوئی فسطائیت اور تشدد سے سخت مضطرب ہے۔ یہاں کے عوام کا ایک بڑا طبقہ، علاقائی حکمران اور سیاسی پارٹیاں بڑھتی ہوئی فسطائیت اور شدت پسندی کے یلغار سے پریشان ہیں اور اُسے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں۔ اس روکنے کے عمل کے پیچھے ان کی جو فکر اور دلائل ہیں انہیں سمجھنے کے لئے یہاں کی تاریخ کامطالعہ ضروری ہے۔ یہاں جو لوگ بستے ہیں انہیں تاریخ میں ڈراوڑین کہا جاتا ہے۔ ان کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے۔ دور جدید کے انگریز مورخوں کے مطابق یہی ہندوستان کے اصلی باشندے تھے اور پورے ہندوستان میں انہیں کی تہذیب چھائی ہوئی تھی۔ انڈس ویلی کی تہذیب بھی انہیں سے وابستہ ہے۔ چند نا گزیر وجوہات کی بنا پر یہ لوگ شمالی ہندوستان سے بڑی تعداد میں ہجرت کر کے جنوبی ہندوستان میں آباد ہوگئے اور اسی کو اپنا مستقر بنا لیا۔یہاں کی بولی سے لے کر طرز معاشرت تک کئی اعتبار سے شمالی ہندوستان کی بولیوں اور طرز معاشرت سے الگ ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہاں کے لوگ آج بھی اپنی قدیم تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ اپنی روایات میں مداخلت با لکل برداشت نہیں کرتے۔

          انگریزوں کے دور سے ہی یہاں یعنی جنوبی ہندوستان میں اپنی پہچان الگ رکھنے کی ضد میں اضافہ دیکھا گیا۔ جنوبی ہندوستان کا یہ علاقہ جو آج ٹمل ناڈو، کیرلا، کرناٹکا، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بٹا ہوا ہے اس وقت مدراس پرسیڈنسی کہلاتا تھا۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروعات میں مقامی ڈراوڑ ذاتوں اور برہمنوں میں ذات پات کے تعصبات اور سرکاری ملازمتوں میں برہمنوں کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری کو لے کر سخت ناراضگی پیدا ہوئی، اور اس کی بنیاد پر غیر برہمن کانفرنسیں اور میٹنگیں منعقد ہونی لگیں اور نتیجے کے طور پر،20 نومبر1916کے دن وکٹوریہ پبلک ہال (چنئی سنٹرل اور رپن بلڈنگ کے درمیان موجود لال رنگ کی قدیم عمارت)میں ڈاکٹر سی نٹیسا مدلیار، ٹی ایم نائر، پی تھیاگریا چٹّی اور المیلو منگائی تھایارامّال،نے مشترکہ طور پر جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھی۔ جسٹس پارٹی کے قیام سے غیر برہمنوں کو ایک پلیٹ فارم میں آنے کا موقع ملا، اس کو ڈراوڑی تحریک کے آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شروعاتی دور میں جسٹس پارٹی برٹش راج سے حکومت کے شعبوں میں غیر برہمنوں کی زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کرنے پر اکتفا کرتی رہی لیکن جب انگریز ی حکومت نے 1919 میں مونٹ فورڈ ریفارمز کے تحت محدود خود مختاری کے ساتھ انتخابات کے ذریعے مقامی لوگوں کی حکومت بنانے کا نظم کیا تو جسٹس پارٹی نے 1920میں مدراس پرسیڈنسی کے انتخابات میں راست حصہ لیا اور جیت کر حکومت بنائی۔ اس کے بعد کے سترہ سالوں میں تیرہ سال یہ اقتدار میں رہی اور 1937کے الیکشن میں کانگریس سے ہار کر سیاسی منظر نامے سے غائب ہونے تک یہ مدراس پرسیڈنسی میں قومی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس کے متبادل کے طور پرمضبوط کردار ادا کر تی رہی۔1931میں جسٹس پارٹی مشہور سماجی مصلح ای وہ راما سوامی پریار کی زیر قیادت آئی  جو1925 میں انڈین نیشنل کانگریس سے علیحدہ ہونے کے بعد سے سماج میں چھوت چھات اور ذات پات کے نظام کے خلاف”تحریک عزت نفس“ چلا رہے تھے۔کچھ عرسے بعد 1944 میں پریار نے عزتِ نفس تحریک اور جسٹس پارٹی کو ایک دوسرے میں ضم کرا کے”ڈراوڑا کژگم“ کی بنیاد ڈالی اور انتخابی سیاست سے اس پارٹی کوعلیحدہ کرتے ہوئے اسے ایک سماجی اصلاحی تحریک میں تبدیل کر دیا۔

          برہمن بالا دستی اور ہندی کے سخت ترین مخالف ای وی رام سوامی پریار جنہیں تندئی پریار بھی کہا جاتا ہے جدید ڈراوڑین تحریک کے باوا آدم سمجھے جاتے ہیں۔ سیاہ پس منظر میں ایک سرخ دائرہ لئے ہوئے ڈراورا کژگم کا پرچم ان کی تحریک کا علامتی ترجمان سمجھا جاتا ہے جو آج تھوڑی تبدیلیوں کے ساتھ ٹمل ناڈو کے موجودہ حکومت اور حزب اختلاف کا بھی پرچم ہے۔1937میں جنوبی ہندوستان میں ہندی کو لازمی قرار دئے جانے کے خلاف پریار نے سیاہ پرچم لہر اکر سخت احتجاج کیا، اسی سیاہ پرچم کو ان محرومیوں اور بے عزتیوں کا جن کا سامنا ڈراوڑیوں کو سخت مذہبی طبقے کے ہاتھوں صدیوں سے جھیلنا پڑ رہا ہے، علامت کے طور پر اور اس میں موجود سرخ دائرہ ڈراوڑسماج میں موجود ضعیف الا عتقادی، جہالت اور اندھی عقیدت کو ختم کرنے کی جدوجہد اور انہیں ذہنی اور مادی استحصال سے نجات دلانے کی کوششوں کی طرف اشارہ ہے۔ تندھئی پریار کی اس تحریک سے ٹمل ناڈو کے عوام میں اپنے حقوق کے لئے لڑنے اور استحصال کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہونے کا جذبہ بیدار ہوا اور سماجی مساوات کے حوالے سے رواداری اور بھائی چارگی عام ہوئی۔ معاشرے میں ضعیف الا عتقادی، جہالت اور اندھی عقیدت کے ساتھ مذہبی شدت پرستی میں بھی کمی آئی۔

                   تندھئی پریار سے ذاتی اختلافات کے باعث 1949 میں، سی این انا دورائی اور ان کے کچھ ساتھیوں نے ڈراوڑا کژگم سے علیحدگی اختیار کی اور ڈراوڑا منیٹرا کژگم،کی بنیاد ڈالی اور انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ٹمل سیاست میں ایک نیا موڑ آیا، ہندی تھوپے جانے کے خلاف مسلسل احتجاج کے ساتھ1953میں یونین گورنمنٹ کی جانب سے کلا کڈی کا نام بدل کر ڈالمیا پورم (مشہور صنعت کاررام کرشن ڈالمیا کے نام پر) رکھنے کی تجویز کو شمال کی طرف سے جنوب کا استحصال کہہ کر اس کی سخت مخالفت کی گئی۔ 15 جولائی کے دن ایم کروناندھی (سابق وزیر اعلیٰ ٹمل ناڈو اور موجودہ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالین کے والد)نے ڈالمیا پورم ریلوے اسٹیشن پر موجودنام کی تختی پر ہندی میں لکھے گئے نام کو مٹا کر وہیں ریلوے ٹریک پر بیٹھ کر شدید احتجاج شروع کیا۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ ہوگئی جس کے نتیجے میں دو ڈی ایم کے کارکن مارے گئے اور کروناندھی اور ان کے ساتھی گرفتار کر لئے گئے۔ اس واقعے کے بعد عوام میں ڈی ایم کے کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا۔ ہندی کے تھوپے جانے کو شمال والوں کی جانب سے تمل عوام کا استحصال قرار دے کر مسلسل احتجاجات کیا گیا، با لآخر 1967 میں ڈی ایم کے نے ضلع مدراس میں شاندار انتخابی جیت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔آزادی کے بعد پورے ہندوستان میں غیر کانگریسی پارٹی کی یہ پہلی اکثریتی جیت تھی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن سوائے ڈراوڑین پارٹیوں کے تمل ناڈو میں کوئی بھی قومی پارٹی خود سے انتخابات جیتنے میں مسلسل ناکام رہی۔

                   سی این انا دورائی کے1969 میں انتقال کے بعد، ڈی ایم کے پارٹی کی قیادت اور وزیر اعلیٰ کی کرسی ایم کروناندھی کے حصے میں آئی اور2018 میں ان کے انتقال تک پارٹی کی صدارت پر وہی فائز رہے۔ اس بیچ پانچ مرتبہ وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے باقی ادوار میں ایم کرونا ندھی سے ذاتی اختلافات کی بنیاد پر الگ ہوکر ایک الگ پارٹی بنانے والے اپنے وقت کے تمل سوپر اسٹار یم جی رامچندرن وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ ان تمام عرصے میں کوئی بھی قومی پارٹی اپنے بل پر یہاں انتخابات جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ سماجی انصاف کے اپنے اصول کو آگے بڑھاتے ہوئے وی پی سنگھ کے دور حکومت میں ایم کرونا ندھی نے منڈل کمیشن سفارشات کے تحت پسماندہ اور پچھڑی ذاتوں کو رزیرویشن دینے میں ایک کامیاب کردار ادا کیا۔

          ایم کروناندھی کے 2018 میں موت کے بعد ڈی ایم کے پارٹی کی قیادت کی ذمہ داری ایم کے اسٹالن کے حصے میں آئی۔ ایم کے اسٹالن نے اپنے نوجوانی کے دور سے ہی پارٹی سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا تھا اور 1967کے انتخابات میں، جس میں جیت کر ڈی ایم کے نے پہلی بار حکومت بنائی تھی، پارٹی کے لئے انتخابی مہم چلائی تھی،1972 میں جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، ایمرجنسی کی مخالفت کرنے کے جرم میں میسا کے تحت گرفتار ہوکر پولس تشدد کا سامنا کیا، 1989میں پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات جیت کر اسمبلی میں قدم رکھا، 1992میں چنئی کارپوریشن کے مئیر منتخب ہوئے اور2009 میں نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔

درج بالا تاریخی پس منظر موجودہ ڈی ایم کے حکومت کی فکری اساس کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ موجودہ حکومت، یم کے اسٹالن کی ڈی ایم کے کے زیر قیادت سیکولر پروگرسیو الائنس نے 2021 اسمبلی انتخابات جیت کر بنائی ہے۔234ممبروں والی اس اسمبلی میں خود ڈی ایم کے، کے پاس132سیٹس اور الائنس پارٹنرس کے پاس 27 سیٹیں ہیں۔ ایم کے اسٹا لن نے جب وزیر اعلیٰ کا حلف لیا اس وقت کووڈ کی دوسری لہر ریاست میں پوری شدت سے جاری تھی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے فورا ًایک’وار روم‘ شروع کیا، تا کہ متاثرین کو ہسپتال میں بستر، بر وقت ایمبولنس اور آکسیجن سلینڈر کی فوری فراہمی کا انتظام ہو سکے۔ مشوروں کے خلاف عمل کرتے ہوئے،پی پی ای سوٹ پہن کر بذات خود ہسپتال پہنچ کر مریضوں کی عیادت کی اور انہیں تسلی دی، ویکسین خود لگوا کر ویکسینائزیشن کے لئے کامیاب مہم شروع کی۔وزیر اعلیٰ کے اس پہل سے عوام میں ان کے تئیں ایک بھروسہ قائم ہوا اور، عالمی اور ملکی سطح پر بھی اُن کی کوششوں کو سراہا گیا۔

          شروعات سے ہی ایم کے اسٹالن نے مرکزی حکومت جسے وہ یونین گورنمنٹ کہہ کر پکارتے ہیں، سے ایک دوری بنائی رکھی، کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے سیاسی حریف انا ڈی ایم کے، کی ہار کی اصلی وجہ بی جے پی کے تئیں اُس کی خود سپردگی، اور اس کے ساتھ انتخابی گٹھ جوڑ ہی تھی۔ریاست کے معاشی حالات میں بہتری لانے کے لئے جانے مانے ماہرین اقتصادیات ایستھر ڈوفلو، رگھو رام راجن(سابق آر بی آئی گورنر)، جین ڈریز، اروند سبرامنیم،ایس نارائن (سابق فنانس سکریٹری) کے ساتھ ایک اقتصادی مشاورتی کونسل قائم کی جس کی مثال بھارت کے دوسرے ریاستوں میں ملنی مشکل ہے۔

          وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کے چند ہی گھنٹوں بعد، پانچ اہم فائل پر دستخط کر کے حکم نامہ جاری کیاکہ ٹمل ناڈو میں موجود 2.09 کروڑ راشن کارڈ رکھنے والوں کو  لاک ڈاؤن میں جن معاشی مشکلات کا سامنا ہوا اس کے ازالے کیلئے انہیں چار ہزار روپے کی فوری ادائیگی، ریاستی حکومت کی آوِن دودھ کے داموں میں ایک لیٹر پر تین روپیہ کی کمی، ریاست کے تمام سٹی اور ٹاؤن بسوں میں عورتوں کو بلا ٹکٹ مفت سفر اور ہر اسمبلی حلقہ میں ایک نئے ڈپارٹمنٹ،”وزیر اعلیٰ آپ کے حلقے میں“ کا قیام، جس کے تحت عوام کی شکایت پر فوری کاروائی ہوگی۔

          وزیر اعلیٰ نے اپنے حکومت کے لئے وزراء کی جو ٹیم منتخب کی اس سے بھی ان کی فکری نہج نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ با لخصوص پی ٹی تیاگراجن کو معاشیات کا اہم قلمدان سونپ کر سماجی انصاف کے تئیں اپنی سنجیدگی کا اظہار کیا ہے، پی ٹی تیاگراجن، بی جے پی کے کٹر مخالفین میں سے ہیں، ان کے دادا پی ٹی راجن آزادی سے پہلے جسٹس پارٹی کے صدر اور وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ حالیہ دنوں میں مذہبی شدت پسندی اور بی جے پی کے خلاف اُن کے ٹویٹس اور تبصرے عوام میں بہت مقبول ہیں۔ مضبوط تعلیمی لیاقت اور اقتصادیات میں مہارت سے ریاست کی معاشی صورتحال کو سنبھالنے میں پی ٹی تیاگراجن ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

          اقتدار سنبھالنے کے دوسرے ہی مہینے یعنی جون2021 کو وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایک اعلان جاری کر کے کہا کہ ریاستی وزارت قانون، پچھلی ریاستی حکومت کی طرف سے دائر کئے گئے تمام مقدمات پر نظر ثانی کرنے گی۔ ستمبر2021 کو گزشتہ دس سالوں میں سابقہ ریاستی انا ڈی ایم کے حکومت جو بی جے پی کی حلیف پارٹی ہے، کے ذریعے دائر کردہ صحافیوں اور مظاہرین کے خلاف 5570 مقدمات جو مرکزی حکومت کے تین ذراعتی قانون، شہریت ترمیمی قانون،کڈانکولم نیو کلیئر پاور پلانٹ،چنئی سیلم ایکسپرس ہائی وے کے خلاف مظاہرہ کرنے کی بنیاد پر دائر کئے گئے تھے،واپس لینے کا حکم نامہ جاری کیا۔

          ستمبر2021میں بحیثیت وزیر اعلیٰ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سے ہمیشہ 17 ستمبرجو تندئی پریار کا یوم پیدائش ہے،سماجی انصاف کے دن کے طور پر منایا جائے گا اور اس دن تمام سرکاری دفاتر بشمول ریاستی سکریٹریٹ کے ملازمین،بھائی چارہ، رواداری، مساوات، عزت نفس اور عقلیت پسندی جیسے اعلیٰ نظریات کو اپنانے کا عہد لیں گے۔ کیونکہ تمل سماج کی موجودہ ترقی کے لئے تندئی پریار کا نظریہء ِسماجی انصاف، عزت نفس، عقلیت پسندی اور مساوات ہی بنیاد ہے اور مستقبل میں بھی انہیں کی وجہ سے ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔

          مرکزی حکومت کے نئے ذرعی قوانین اور سی اے اے کے خلاف اور نیٹ سے استثنی کے لئے اسمبلی میں رزولیشن پاس کئے گئے۔ حکومت سنبھالنے کے اول روز سے ہی تمل ناڈو کی ڈی ایم کے حکومت مرکزی حکومت کی ریاستی حکومتوں میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتدار کی توسیع کے خلاف سخت تیور اپناتی نظر آرہی ہے۔ سماجی انصاف قائم کرنے کو اپنی اولین ترجیح بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء نہ صرف حکومت کے ذرائع سے بلکہ سوشل میڈیا میں بھی ایسے پیغامات شیئر کرتے نظر آرہے ہیں جو موجودہ مرکزی حکومت کے سوچ کی نفی کرتی ہے۔ مرکزی حکومت کو مرکز ی حکومت کہنے پر ہی سوال کھڑا کرتے ہوئے اسے سنٹرل گورنمنٹ نہیں یونین گورنمنٹ کہنے کوریاستی حکومت کے تمام وزراء بشمول وزیر اعلیٰ نے اپنا شعار بنا لیا ہے۔

          یوم جمہوریہ پریڈ کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیبلو کو مرکزی حکومت نے یہ کہہ کر کہ اس میں موجود شخصیتوں کی شناخت نہیں ہوسکی،رد کردی۔ ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر سخت رخ اپناتے ہوئے اس ٹبیلو کی جس میں تمل ناڈو کے کئی چوٹی کے مجاہدین آزادی اور سماجی انصاف کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے مجسمے لگے تھے چنئی میں یوم جمہوریہ کے دن نمائش کرائی اور پورے ریاست میں اس کو گھمایا۔

          نیٹ امتحانات کو لے کر بھی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت میں ٹھنی ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت کا موقف ہے کہ نیٹ امتحانات دراصل دیہی، غریب اور متوسط طبقے کے طلباء کو میڈیکل کے میدان سے دور رکھنے کی ایک چال ہے جسے کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ سے ریاست کے کئی غریب طلبا ء اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ریاستی اسمبلی میں ریاست کو نیٹ امتحانات سے استثنی کی مانگ پر ایک بل پاس کر کے گورنر کو روانہ کیا گیا لیکن گورنر نے اِسے اسمبلی کو واپس بھیج دیا، پہلی مرتبہ گورنر کے واپس بھیجے گئے بل کو پھر سے 8 فروری 2021 کے دن اسمبلی میں پیش کر کے پاس کیا گیا، اس بل کی اسمبلی میں موجود تمام ارکان نے حمایت کی سوائے بی جے پی کے چار ارکان کے جنہوں نے اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا۔

          سماجی انصاف کے لئے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے 26 جنوری 2021کے دن کیا گیا وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کا یہ ٹوئٹ قابل غور ہے۔۔

          ” سماجی انصاف کی طرف جانے والا راستہ ایک دن میں نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی محنت سے اینٹ پر اینٹ رکھ کر، مختلف رہنماؤں جیسے تمل ناڈو سے ڈاکٹر نٹیسنار، ڈاکٹر ٹی ایم نائر، پی تھیگریار، اے ٹی پنیرسیلوم، پنگل ارسر، تندھئی پریار، پیر ارینجر انّا، کلینجر کروناندھی اور ہندوستان سے جیوتی راؤپھولے، بی آر امبیڈ کر،وی پی سنگھ نے اپنی خون اور پسینہ سے سینچ کر بنایا ہے۔”

          "پچھڑے اور مظلوموں کی فلاح کے لئے سماجی انصاف کے اس سفر کو پورے ہندوستان میں پھیلانے اورمزید جاری رکھنے ضرورت ہے۔”

          "اس سلسلے میں ہم نے سماج کے تمام مظلوم طبقات کے رہنماؤں اور نمائندوں کو جوڑ کرایک آل انڈیا سوشل جسٹس فیڈریشن شروع کرنے کامنصوبہ بنایا ہے۔”

          فروری2021 میں ملک کے 37سیاسی لیڈروں کے نام خط جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے انہیں اپنے اس مجوزہ فیڈریشن میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔ اس خط میں تندئی پریار کے سماجی انصاف کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے اسے پھر سے شروع کرنے کی بات رکھی ہے اور موجودہ حالات میں ملک کے لئے اس کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے پر زور درخواست کی ہے کہ "آئیے ہم سب مل جل کر ریاستوں کے ایک حقیقی یونین کے طور پر اکٹھے ہوں اور ’سب کچھ ، سب کے لئے‘ کو یقینی بنائیں۔” اس اپیل سے وزیر اعلیٰ کی سوچ اور ملک کے موجودہ صورتحال میں ان کی فکر ی نہج کا پتہ چلتا ہے۔

          مرکزی اور ریاستی حکومت کے بیچ اہم مسئلوں میں یہ بڑھتی خلیج ملک کی ترقی کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ دو متضاد سوچ اور فکر کے حامل طاقت کے ان مراکز کے درمیان تناؤ کی فضا کب اور کیسے ختم ہوگی اس کی پیشن گوئی مشکل ہے۔ کیا وزیر اعلیٰ یم کے اسٹالین اپنے باپ ایم کروناندھی کی طرح حزب اختلاف کاایک محاذ تشکیل دینے میں اہم رول اد اکر یں گے اور سماجی انصاف کے نام پر ملک کے تمام سیکولیر ذہنیت کے حامل پارٹیوں کو جوڑ کر ملک کی سیاست میں ایک اہم کردار کریں گے اس پر ابھی کچھ کہنا مشکل ہے لیکن اتنا تو طے ہے بحیثیت  وزیر اعلیٰ ا ن کی اُٹھان اور بحیثیت سیاست دان ان کی کاروائیاں اس بات کا پتہ دے رہی ہیں کہ وہ مستقبل میں ہندوستانی سیاست کا اہم کردار ضرور بن کر رہیں گے۔

You may also like

Leave a Comment