تمل ناڈو کا موجودہ سیاسی منظر نامہ-اسانغنی مشتاق رفیقی

موبائل: 9894604606

ای میل:asanganimushtaq@gmail.com

آخر کار ایک دہائی کے بعد تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2021میں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کر کے ڈی ایم کے نے جیسا کہ اکثر سیاسی پنڈتوں نے پیشین گوئی کر رکھی تھی اپنی حکومت بنا لی۔ لیکن نتائج میں کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی ا تحاد نے توقع سے ذیادہ ووٹ حاصل کر کے کئی حلقوں کو آئندہ کے لئے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ شاید یہی بات رہی کہ ڈی ایم کے رہنما ایم کے اسٹالین 7 مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیتے ہی عوام سے اپنے رابطے کو مضبوط کرنے میں جٹ گئے۔

ٹمل ناڈو کی سیاست دیس کی سیاست سے اس لئے بھی الگ مانی جاتی ہے کہ یہاں عوام کی اکثریت علاقائی مسائل کو ہی اہمیت دیتی ہے۔ ذات پات کا بول بالا ہونے کے باوجود تمل زبان اور تمل کلچر پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اپنی تمل شناخت پر جنون کی حد تک غرور، اپنی زبان اور علاقائیت سے والہانہ محبت ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے یہ شمالی ہندوستان کی کسی بھی پارٹی اور تنظیم سے  نظریاتی طور پر شاذ ہی متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے دو دہائی کے بعد سے جب سے دراوڑین پارٹیوں نے ٹمل شناخت کو مدعا بنا کر اقتدار پر اپنا قبضہ جمایا، کانگریس جیسی قدیم پارٹی بھی یہاں اپنا کوئی مضبوط حلقہ نہیں بنا سکی۔

گزشتہ سات سالوں میں،جب سے بی جے پی مرکز میں برسر اقدار آئی ہے شمالی ہندوستان میں تیزی سے سیاسی منظر نامے بدل رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اپنی چمک مکمل کھوتی جارہی ہے۔ اُس کی صفوں میں اس قدر انتشار ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کب چولا بدل لے، جو آج اُس کی طرف سے سیکولر ازم کی دہائی دے رہا ہے کل ممکن ہے بی جے پی کے خیمے میں بیٹھا شدت پرستی کا راگ الاپتا دکھائے دے۔ علاقائی پارٹیوں میں بھی اب وہ بات نہیں رہی کہ اپنے بل پر ریاست میں حکومت بنا سکیں،ان کے لیڈران کی اکثریت کرسی اور دولت کی ہوس میں مبتلا، اُن اصولوں پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوجاتی ہے جس کو اساس بنا کر انہوں نے عوامی حمایت حاصل کی تھی۔ عوام کی اکثریت فسطائی طاقتوں کے فریب میں مبتلا ہوکر ایسے مسئلوں پر ووٹ کرنے لگی ہے جس سے نہ ملک کی ترقی ممکن ہے نہ اُس کے حقیقی مسئلے حل ہوسکتے ہیں، اکثریت کو اقلیت کا خوف دکھا کر نفرت کی آگ بھڑکا کر ملک کی سیکولر شناخت کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ ایک طرف ملک بدترین وبا کا شکار ہو کر شدید معاشی بحران سے دوچار ہے تو دوسری طرف ملک کے چند گنے چنے سرمایہ داروں کی دولت میں ہزاروں گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ میڈیا، عدلیہ اور افسر شاہی کی اکثریت حکومت کی زبان بولتی نظر آرہی ہے۔ جمہوریت میں جمہور کے اختیارات پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں اور نیشنلزم کا حوالہ دے کر ایسے ایسے قوانین لائے جارہے ہیں جن سے تانا شاہی کی بو آتی ہے۔ ایسے میں ٹمل ناڈو میں ڈی ایم کے کا اقتدار میں آنا جس کی شناخت اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والی ایک مضبوط علاقائی پارٹی کی ہے سیاسی گلیاروں میں ایک اچھا شگون سمجھا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے سیکولر محاذ میں اعتماد بحال ہوا ہے اور فسطائی خیموں میں بوکھلاہٹ نظرآرہی ہے۔

اقتدار میں آتے ہی جس تیزی سے ڈی ایم کے حکومت نے وبا میں گرفتار ریاست کو اُس کے خونی شکنجے سے نکالا ہے اس سے عوام کا اعتماد اس پر اور بڑھا ہے۔ چار ہزار روپیوں کے علاوہ معمول کے اناج کے ساتھ چودہ عدد ضروری اشیا سے بھری ایک تھیلی ہر خاندان کو مہیا کرانے سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی مشکلات کی شکار عوام کو بڑی راحت ملی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا حفاظتی کٹ پہن کر کووڈ اسپتالوں کا دورہ اور مریضوں سے راست گفتگو، آکسیجن کی کمی کو دور کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات، ضروری دوائیوں کی فراہمی کے لئے بر وقت احکامات، ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے امریکی انتظامیہ سے راست گفتگو، عوام کو ویکسینشن کی طرف موڑنے کی مسلسل اور کامیاب کوشش، یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ریاست اب تیزی سے وبا کی گرفت سے نکل رہی ہے۔ ویکسین کو لے کر مرکزی حکومت کی پالیسی کو بدلنے میں ٹمل ناڈو کی ویکسین پالیسی کا بھی ایک بڑا رول رہا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی محاذ پر اس کے سیاسی قد میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں پہلی مرتبہ بحیثیت وزیر اعلیٰ،دہلی کے سفر اور وزیر اعظم سے ملاقات میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالین کی باڈی لینگویج کو یہاں کے عوام میں بڑی پذیرائی ملی اور اسے ٹمل وقار کی بحالی کے طور پر دیکھا گیا۔ اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ نے کھلے اور صاف لفظوں میں مرکزی حکومت سے تینوں زرعی قوانین اور شہریت ترمیم قوانین کی واپسی، نییٹ امتحانات کا مکمل خاتمہ، سری لنکا کے تامل مہاجرین کی شہریت اور سری لنکن بحریہ کے ہاتھوں ٹمل ماہی گیروں کی تکلیف کا مستقل حل، نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کی واپسی کے ساتھ مدورائی میں AIIMS  کے قیام میں تیزی، جی ایس ٹی میں ریاستی حکومت کا جو بقایا رقم ہے اس کی فوری فراہمی، وبا کے لئے ویکسین اور ضروری ادویات کی مناسب مقدار میں فراہمی، ”سیتو سمندرم شپ کینل پروجکٹ“ کی بحالی(جسے ہندوتوا حامی ہندو آستھا کے خلاف بتا رہے ہیں)،چنگل پیٹ کے ہیچ ایل ایل بائیوٹک یونٹ اور کنوور کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ میں ویکسین کی تیاری شروع کرنے کی مانگ، چنئی میں سپریم کورٹ کی علاقائی شاخ کا قیام، مدراس ہائی کورٹ میں تمل زبان کوسرکاری زبان بنانے کی مانگ اور کئی فلاحی اور عوامی بہبودی اسکیموں کی بحالی اور ان میں مدد کے ساتھ خصوصی ریلیف پیکیج کی بھی مانگ کی ہے۔

ایک دور میں واجپائی کے زیر قیادت این ڈی اے کا حصہ رہ چکی ڈی ایم کے پارٹی کا موجودہ تیور شروعات سے ہی بی جے پی کے ساتھ ٹکراؤ اختیار کرتادکھائی دے رہاہے۔ ایک طرف ریاست کے عوام کو اپنی طرف مکمل مائل رکھنے کے لئے نئی نئی فلاحی اسکیموں کا اعلان تو دوسری طرف مرکزی حکومت(جس کو مرکزی حکومت کہنے سے بھی گریز کرتے ہوئے یونین گورنمنٹ کہہ کر مخاطب کیا جارہا ہے، جسے خود ڈی ایم کے کی ایک نئی سیاسی حکمت عملی سمجھی جارہی ہے،) سے ببانگ دہل اپنا حق طلب کرنا اور سوالات کھڑے کرنا، ان طاقتوں کے لئے جو مرکزی سرکار کی ریڑھ کی ہڈی بنی ہوئی ہیں، ایک بہت بڑا چیلنج بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

ریاست میں عورتوں کے لئے سرکاری بسوں میں مفت بس پاس کا اعلان جہاں عورتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی بڑی پہل ہے وہیں حکومت کے زیر انتظام مندروں میں بحیثیت پجاری خدمات کے لئے ان عورتوں کو جو اُس میں دلچسپی رکھتی ہیں تربیت اور تقرری کے اعلان کو ایک انقلابی سماجی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس بات کی جہاں ترقی پسند وں نے کھل کر تائید کی ہے وہیں قدامت پسند طبقے کی جانب سے اس پر سخت رد عمل سامنے آرہا ہے۔ تمام ہندو توا تنظیمیں اِسے ٹملوں اور ہندوؤں میں د راڑ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ حالانکہ مندروں میں غیر برہمن پچاری کے ذریعے اشلوک پڑھنے اور پجاری کے فرائض انجام دینے کو لے کر ڈی ایم کے، اس سے پہلے بھی جب وہ حکومت میں تھی ایسے اقدامات کر چکی ہے، جس کی عدالت ِ عالیہ کی جانب سے بھی توثیق ہوئی ہے۔ 2015 میں عدالت عالیہ نے ڈی ایم کے حکومت کے ایک قانون کے خلاف جس میں غیر برہمنوں کو پجاری بنانے کی بات کہی گئی تھی، دائر کئے گئے مقدمے کی سنوائی کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ کوئی بھی قابل ہندو جو ہندو شاستروں سے واقف ہو اور روایتوں کا علم رکھتا ہو بحیثیت پجاری خدمات انجام دے سکتا ہے۔

اقلیتوں کے تعلق سے بھی ڈی ایم کے حکومت کا رویہ بہت امید افزا ہے۔ وزیر اعظم شری نریندر مودی کے ساتھ راست گفتگو میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالین نے شہریت ترمیم قانون واپس لینے کی مانگ رکھ کر اقلیتوں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اسمبلی کے فلور پر وزیر اعلیٰ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان کی حکومت سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر عمل کرے گی اور اقلیتوں کے لئے اسکیموں کو زیادہ موثر انداز میں نافذ کرے گی۔ اسی کے ساتھ رواں اسمبلی میں شہریت ترمیم قوانین کے خلاف قرار داد پاس کرانے کی بات اور اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گذشتہ حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے مقدمات کی واپسی کا اعلان بھی اقلیتوں کے تئیں حکومت کی سنجیدگی ظاہر کرتی ہے۔

گزشتہ اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت جو مرکزی حکومت کی ساجھے دار بھی رہی ہے، کے دور میں صحافیوں پر بہت سے بے جا مقدمات قائم کئے گئے اسی طرح مرکزی حکومت کے شہریت ترمیم قوانین، تینوں زرعی قوانین، نیٹ امتحان اور ایسے دوسرے کئی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بھی مقدمات قائم کئے گئے، اسمبلی کے فلور سے وزیر اعلیٰ کایکمشت ان سب کی واپسی کا اعلان بھی حکومت کا ایک نڈر قدم مانا جارہا ہے۔

ان سب سے اوپر ٹمل ناڈو حکومت کی جانب سے ریاست کی معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے ماہرین معاشیات کی پانچ رکنی کونسل کا قیام ہے۔ اس اقدام کو ٹمل ناڈو حکومت کا ایک ایسا انقلابی پہل مانا جارہا ہے جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ اس پانچ رکنی کونسل میں ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن، مشترکہ نوبل معاشیات کے انعام آفتہ ایسٹر ڈوفلو، ماہر ترقیاتی معاشیات ژان ڈریز، نریندر مودی حکومت کے سابق اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم اور سابق وزیر خزانہ ایس نارئن شامل ہیں۔ اس کونسل سے کہا گیا ہے کہ وہ، ریاستی حکومت کی موجودہ مالی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے جو مسلسل خسارے اور قرضوں کی بھر مار سے اپنے بد ترین دور سے گذر رہی ہے، اسی کے ساتھ لوگوں کے توقعات پر بھی نظر رکھتے ہوئے، حکومت کو معاشی اور معاشرتی پالیسی، سماجی انصاف اور انسانی ترقی سے متعلق امور، خواتین کے لئے مساوی مواقع کی فراہمی اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبودی کے لئے عمومی رہنمائی فراہم کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام شعبوں میں روزگار، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور ہم جہتی ترقی کے لئے تجاویز پیش کریں۔ اگر ٹمل ناڈو حکومت کا یہ پہل کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور ریاست کی ترقی میں اضافہ ہوا تو ملک کے تمام ریاستوں کے لئے ایک نمونہ سمجھا جائے گا۔

سیاسی محاذ پر اے آئی اے ڈی ایم کے جو اسمبلی انتخابات میں اپنی ہار کے غم سے ابھی ابھری نہیں ہے ایک الجھی ہوئی حزب مخالف کا کردار ادا کر رہی ہے۔اس کے اندر موجود آپسی اختلافات بھی اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک طرف اُسے اپنی صفوں کو جوڑے رکھنا ہے وہیں پارٹی کے کارکنوں میں پارٹی سے خارج کردہ سابق سربراہ ششیکلا کے لئے بڑھتی ہوئی حمایت بھی اُس کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ اس پس منظر میں ڈی ایم کے کے لئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ عوام میں فلاحی اقدامات کر کے اپنی پکڑ مضبوط کرے۔ فسطائی طاقتوں کے خلاف اپنے تیور میں کوئی تبدیلی لائے بغیر ڈٹ کر میدان میں جمی رہے۔ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل پر خصوصی توجہ دے۔ حزب مخالف کے خلاف انتقامی کاروائیوں سے گریز کرتے ہوئے تعمیری کاموں میں مشغول رہے۔ اگر وہ اس نہج پر اپنی حکومت کو آگے بڑھائے گی توآنے والے دنوں میں اقتدار پر اس کی پکڑ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے گی۔