تمام مذاہب میں طلاق کے لیے ایک ہی قانون بنایا جائے،سپریم کورٹ میں بی جے پی لیڈر کی عرضی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے تمام مذاہب میں طلاق اور خواتین کے تحفظ اورقانون کی مساوات کی درخواست پرسماعت کی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہاہے کہ وہ اس معاملے میں انتہائی احتیاط کے ساتھ نوٹس جاری کررہی ہے۔ سماعت کے دوران ، چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے کہاہے کہ ہم پرسنل لا میں کس طرح تجاوزات کرسکتے ہیں۔ درخواست میں خواتین سے کسی بھی مذہبی وابستگی سے قطع نظر طلاق دینے کے لیے یکساں اصول کامطالبہ کیاگیاتھا۔دراصل اسے یونیفارم سول کوڈکی طرف آہستہ آہستہ بڑھتاقدم سمجھاجارہاہے ۔سینئروکیل پنکی آنند اور میناکشی اروڑا نے اس استدعاکی دلیل دی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ درخواست کی جانچ کرنے پر راضی ہوگیا۔ آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے مطابق سپریم کورٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے کسی مذہب ، طبقے ، ذات پات کی تفریق کے بغیرخواتین کو طلاق کے مساوی اصولوں اور مساوی الاؤنس کی فراہمی کا مطالبہ کیا جائے۔ بی جے پی رہنما اور وکیل اشونی کمار اپادھیائے نے اس سلسلے میں ایک پی آئی ایل دائرکی ہے۔درخواست میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو طلاق سے متعلق قوانین میں موجود تضاد کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کرے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کوچاہیے کہ وہ مذہب ، نسل ، ذات ، جنس یا پیدائش کی جگہ پر طلاق کے معاملے پر تعصب کے بغیر تمام شہریوں کے لیے مساوی قوانین بنانے کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایات جاری کرے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت یہ اعلان کرے کہ طلاق کے متعصبانہ ضابطوں سے آرٹیکل 14 ، 15 ، 21 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں تمام شہریوں کے لیے طلاق کی ایک ہی بنیاد پر رہنما اصول جاری کیے جائیں۔