تعلیم و تعلم میں اساتذہ کا کردار اور ذمے داریاں- زاہد احسن

دہلی یونیورسٹی
7678116863

جیسا کہ یہ بات عیاں ہے کہ معلم کی حیثیت ایک رہنما کی ہے، معمار اور داعی کی ہے۔ اللہ نے ان کے کندھوں پر بہت ساری ذمہ داریاں رکھی ہیں۔تعلیم در اصل باب تفعیل سے ہے، جس کے لغوی معنی کسی کو کچھ بتانا.،ھنا یا سکھانا ہیں۔ کچھ لوگ غلط فہمی میں تدریس کے معنی میں لیتے ہیں، کہ طلبہ کوبعض مضامین کادرس دے دینا یا انھیں لکھنا پڑھنا یا حساب وغیرہ سکھا دیناتعلیم ہے۔ دراصل تعلیم کا لفظ آتے ہی ذہن منظم کوششوں کی طرف مائل ہوتا ہے، جوطلبہ کے تعلیمی ادارے انجام دیتے ہیں، یہی رسمی تعلیم (Formal Education) ہے ،اسکے اثرات دور رس ہیں، مگر یہ تعلیم کا محدود مفہوم ہے، کیونکہ ادارے میں بچے بہت کم وقت گزارتے ہیں۔ اس لیے کم تجربات حاصل کرتے ہیں ،جبکہ سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے کا عمل پیدائش سے موت تک جاری رہتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ جو تعلیم گھر، محلے، پڑوس اور سماجی ماحول سے سیکھتے ہیں یہ بے ضابطہ تعلیم یعنی( Informal Education) ہے اور یہ کسی طرح با ضابطہ تعلیم سے کم نہیں ۔ جہاں تک بات تعلم کی ہے،تو بہتر صورت حال اور سازگار ماحول پیدا کرنا عام طور پر پسند کیا جاتا ہے اور بغیر سازگار ماحول کے مؤثر تعلم ممکن نہیں ۔اسی طرح اسکول کلاس کے اندر سازگار ماحول پیدا کرنے میں یہ خیال رکھنا ضروری ہے کی جماعت کے ہر فرد کوعمل ِتعلم میں مناسب رہنمائی مل سکے، اور جو سکھا نا مقصود ہو طلبہ سیکھ جائیں۔ ( Teaching & Learning) تعلیم و تعلم پڑھنے پڑھانے، سیکھنے سکھانے کی مفصّل کڑی ہے اور ایک دوسرے سے منسلک ہے اور یہ سیکھنے کے عمل کو دلچسپ با معنی اور موثر بنانے کے کام میں کارآمد ثابت ہو تی ہے۔ دراصل تعلیم و تعلم صرف کتاب پڑھا دینے، لکھنا ،گنتی سکھا دینے کا نام نہیں ہی البتہ ان تینوں مہارتوں سے تعلیم حاصل کرنے میں مدد ضرورملتی ہے۔ تعلیم فرد کی مکمّل شخصیت کی نشوونما کے لیے ہوتی ہے، تاکہ وہ سماج کا سچا خادم بن سکے،یہ فرد کی جسمانی ذہنی، جذباتی نشوونما ہے۔ فرد کا گھر وہ نہیں جس میں صرف والدین اور خاندان کے چند افراد ہوں بلکہ گھر جس کی تعریف مادر ہند کے مایہ ناز سپوت ڈاکٹر ذاکر حسین نے یوں کی ہے’’ گھر آدمی کے لیے رنگ کے معنی رکھتا ہے۔ بچے کا گھر اس کی ماں کی گرم گرم پیار سے بھری گود ہوتا ہے، بچہ بڑھتا ہے تو ماں باپ کی جھونپڑی ہو یا محل وہی اس لڑکے کا گھر ہوجاتا ہے، پھر سارا محلہ گاؤں گھر لگنے لگتا ہے اور پھر آس پاس کے آدمی اور جانور، چرند پرندسب گھر کا سامان بن جاتے ہیں‘‘۔ تعلیمی مسائل پر غور کر نے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تعلیم محض اسکول کالج تک محدود نہیں ہے ،بلکہ اسکول کے با ہر رہ کر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ،گرچہ اسکول کا اپنا ایک مقام ہے۔بائی اورمرکزی حکومت کے زیر اہتمام عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اسکول کھولے جاتے ہیں۔ان سے بچوں یا بڑوں کی تعلیم و تربیت بے ضابطہ طور پر ملتی ہے۔ ویسے بہت سے ادارے یا کمیونٹی سینٹر جس سماج کے کھولے جاتے ہیں ،اس سماج یا کمیونٹی کااسکول سے دور تک کا رشتہ نہیں ہوتا ہے مثال کے طور پر جواہر نوودے ودیالیہ میں سارے بچے دور کے ہوتے ہیں۔
تعلیم اخلاقی اور جمالیاتی عمل ہے۔پروفیسر جان ڈیوی نے ہر مضمون کی تدریس میں اخلاقی مقصد پر زور دیا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کہنا بجا ہے کہ جو استاد اخلاقی مقصد سے غافل رہتے ہیں ،وہ تعلیم دینے کے بجائے بے مقصد طریقے سے متعلقہ مضمون کی کتاب پڑھا تے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم صرف آموزگار ہونا چاہیے، در اصل اخلاقی نظریات اور اخلاقیات کے درمیان فرق ہے۔ اخلاقیات کو صرف اصولی طور پر پڑھا دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اخلاقیات کی تعلیم سے اخلاقی نظریات طالب علم کی شخصیت کا ایسا جز بن جانا چاہیے،جس علم کو بغیر عمل کے عذاب الٰہی مانا جاتا ہے۔اسی طرح اخلاقیات کی تعلیم بغیر عمل کے بے سود ہوتی ہے- تعلیمی عمل میں معلم کا کام یہ ہے کہ معلم اخلاقی قدروں کو خود اپنائے پھر شاگردوں کو حاصل کرنے میں مدد دے، قدروں کے حصول کا ذریعہ عمل ہے، یعنی مذہب صرف مذہبی عمل سے، اخلاق صرف اخلاقی عمل سے، علم صرف عملی تجربے سی اور آرٹ صرف مشق کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔
معلم کو چاہیے کہ طلبہ کو کوئی باضابطہ اصول بتائے اور اس پر توقع رکھیں کہ وہ علم پر بھروسہ کرکے تسلیم کر لیں گے اور طلبہ کو تجربات، مشاہدات اور مطالعے کا موقع فراہم کرکے ترغیب دلائیں۔معلم کو خاص طور سے استقرا کا بندوبست اور استخراج کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے۔ طلبہ کے اندر ایسی فکر پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ اچھے برے میں تمیز پیدا کر سکے اور وہ دنیا کے نئے نت چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔یہ بات واضح رہے کہ طالب علم استاد کا لگایا ہوا پودا ہوتا ہے اور اس کی حفاظت اور پرورش کرنا،دنیا کے سرد وگرم سے بچانا اور اس کو بلندیوں تک پہنچانا استاد کی ذمے داریوں میں شامل ہے ۔کیونکہ اس کی شخصیت براہ راست طالب علم کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک اچھا معلم وہ ہے، جو خود شناسی اور خدا شناسی سے ہمکنار ہو ،ورنہ تعلیم بے معنی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*