طالبانی دہشت گردوں کی کابل انٹری ـ عبداللہ ممتاز

طالبانی دہشت گرد بیس سالوں سے امریکی اور نیٹو افواج سے برسرپیکار تھے، آخر کار انسانیت کے علمبرداروں نے سال گزشتہ دہشت گردوں سے امن معاہدہ کیا اور افغانستان سے امریکی انخلا شروع ہوگیاـ
طالبانی دہشت گردوں نے گزشتہ کل کابل پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا، اقتدار منتقلی کے لیے افغان حکومت سے امن معاہدہ کیاـ کابل پر کنٹرول حاصل کرنے سے پہلے ہی انھوں نے فتح مکہ کی روش پر چلتے ہوے عام معافی کا اعلان کردیا تھا، گزشتہ کل پھر سے اسے دہرایا کہ ہم کسی کی جان ومال کو نقصان پہنچانے نہیں آئے، ہم صرف اسی سے مقابلہ کریں گے جو ہم سے مقابلہ کرنے آئے گا، باقی سب لوگ محفوظ ہیں، چناں چہ ان دہشت گردوں نے کابل پر اس شان سے کنٹرول حاصل کیا کہ کسی ایک بھی شخص کی جان نہیں گئی، کسی ایک بھی دکان یا مکان کو لوٹا نہیں گیا اور نہ کسی ایک فرد کی عزت پر ان دہشت گردوں نے ہاتھ ڈالاـ ان دہشت گردوں نے ایک ٹال فری نمبر بھی جاری کیا کہ پورے ملک میں طالبان کا کوئی فرد کسی پر ظلم کرتا ہے تو وہ ٹال فری پر کال کرکے اس کی شکایت کرےـ
جب یہ ملک پر اپنا کنٹرول حاصل کر رہے تھے تو سامنے بے بس ولاچار افغان فوج کھڑی نظر آئی جن میں اب دفاع کی قوت نہ تھی، وہ سرینڈر کرچکے تھے، یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے ان دہشت گردوں کے پیٹھ چھرا گھونپا تھا، ان کے بھائیوں، دوستوں، ماں باپ اور بیوی بچوں کو شہید کیا تھا، کئیوں نے جب اسلحہ سے لیس ہوکر کابل پہنچے تو ان کی آنکھیں چھلک اٹھیں، ان پر ہوے ظلم کی داستان ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی، وہ نڈھال ہوکر زمین پر بیٹھ گئے، ان کا خون جوش مارتا رہا ہوگا، انتقام کی آگ بھڑک رہی ہوگی؛ لیکن اطاعت امیر میں انھوں نے آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہ کیا اور الٹا سب کے جان ومال اور عزت وآبرو کی ضمانت دی ـ
دنیا نے ایک منظر وہ بھی دیکھا تھا جب انسانیت کے علمبردار، "پیس” کے ٹھیکیدار دہشت گردوں کو مٹانے افغانستان آئے تھے اور قیام امن کے لیے ہزاروں انسانوں کا قتل کیا، لاکھوں انسانوں کو بے گھر کردیا، عورتیں اور بچے بھی اس کی بمباری سے محفوظ نہ تھے، بیس سال تک قیام امن کے لیے خون بہاتے رہے، گولیاں چلاتے رہے، بم برساتے رہے اور ڈرون حملے کرتے رہے. خیر یہ سب تو قیام امن کے لیے ہوا تھا، جو بالکل جائز ہے اور طالبانی دہشت گرد جو خاموشی کے ساتھ نظریں جھکائے کابل میں داخل ہوے اور صدارتی محل پہنچ کر قرآن کریم کی تلاوت سے اپنے کام کا آغاز کیا ہے اور ہرشخص کی جان ومال اور عزت وآبرو کی ضمانت دی ہے اس کا مقصد دہشت گردی ہےـ
ہم نے کتابوں میں مسلمان سالار کی داستان پڑھی تھی، اسلامی فتوحات کی داستان دیکھی تھی، ان دہشت گردوں نے عملی طور پر ہماری نظروں کے سامنے وہ نقشہ پیش کردیا کہ اسلامی فتوحات کیسے ہوتے ہیں. آخر اسلام نے جس ملک کو فتح کیا وہاں بجائے اسلام سے منافرت کے ہزاروں لوگوں نے اسلام کو گلے سے کیوں لگالیاـ
ہماری ہندوستانی میڈیا ذرائع اور تجزیہ نگاروں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ان دہشت گردوں نے کابل فتح کے وقت کوئی مار دھاڑ اور قتل وغارت اس لیے نہیں مچائی کہ انھیں خوف تھا کہ کہیں امریکہ دوبارہ اہنی فوج نہ بھیج دےـ بس انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ تو طالبان کو ختم کرنے آیا تھا، پھر ان دہشت گردوں سے امن معاہدہ کرکے واپس کیوں ہوگیا؟