تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدام کی ضرورت!-ڈاکٹرمشتاق احمد

 

رجسٹرار،ایل این متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ

         موبائل:9431414586

               ای میل:rm.meezan@gmail.com

دنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی ترقی میں وہاں کی تعلیمی پالیسی کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ ا ن ممالک میں بالخصوص بنیادی تعلیم کو مستحکم کرنے کے لئے مسلسل انقلابی اقدامات بھی کئے جاتے رہے ہیں اور تغیرِ زمانہ کے تقاضوں کو کما حقہٗ پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں تعلیمی پالیسیاں اگر بنیں بھی تو ان کے نفاذ کی ایماندارانہ کوشش نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اب تک تجربوں کے دور سے ہی گذر رہے ہیں ۔ حالیہ نئی تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس پالیسی میں بنیادی اور ثانوی تعلیمی ڈھانچوں کو استحکام بخشنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اگر واقعی اس تعلیمی پالیسی کے کاغذی خاکے کو عملی صورت دی جاتی ہے تو ملک میں تعلیمی انقلاب کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ مثلاً اس تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کے ذریعہ پرائمری تعلیم کی وکالت کی گئی ہے ۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں پرائمری تعلیم مادری زبان میں ہی دی جاتی ہے ۔ لیکن ہمارے یہاں اس پر ایماندارانہ عمل نہیں ہوا ۔ورنہ مہاتما گاندھی نے ۱۹۳۷ء کے واردھا اجلاس میں ہی اس کی وکالت کی تھی کہ ملک میں پرائمری تعلیم کا ذریعہ مادری زبان کو بنایا جانا چاہئے ۔ اس وقت ہم غلام تھے اور انگریزی حکومت چاہتی تھی کہ وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دفتری بابو پیدا کریں اور اس کے لئے میکالےؔ کی تعلیمی پالیسی اپنائی گئی ۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ آزادی کے بعد بھی مادری زبان کے ذریعہ پرائمری تعلیم کو استحکام نہیں بخشا گیا۔بلکہ نجی اسکولوں کا جال بچھنے کے بعد انگریزی کا زور بڑھنے لگا ہے۔ انگریزی زبان پڑھنی چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ ہم اپنی تہذیبی وراثت کے امین مادری زبان سے نابلد ہو جائیں۔ کیوں کہ دنیا کے تمام ماہرینِ تعلیم کااس بات پر اتفاق ہے کہ بچوں کا نوخیز ذہن کسی بھی علم کو اپنی مادری زبان میں دوسری زبان کے مقابلے آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید،مولانا ابوالکلام آزاد ، ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے ہمارے اکابرین نے مادری زبان کے ذریعہ تعلیم کو فروغ دینے کی وکالت کی ہے۔لیکن ہم نے ان کے تعلیمی نظریے کوپسِ پشت ڈال دیا۔ نتیجہ ہے کہ آج ملک میں پرائمری تعلیم کا ڈھانچہ متزلزل ہو کر رہ گیا ہے ۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹ سے یہ پتہ چلا ہے کہ پرائمری سطح کے بچے ایک طرف اپنی مادری زبان سے نابلد ہوتے جا رہے ہیںتو دوسری طرف دیگر زبانوں کے معاملے میں بھی ان کی پسماندگی ظاہر ہو رہی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ملک میں پرائمری تعلیم کو مستحکم کرنا ہے تو نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کے ذریعہ تعلیم دینے کی وکالت کی گئی ہے اس کو لازمیت بخشی جائے۔ تاکہ ہمارے بچوں کے اندر فہم وادراک کی قوت پیدا ہوسکے اور وہ کسی بھی موضوع میں اپنی استعداد پیدا کر سکیں۔ کیوں کہ حالیہ دنوں میں جتنی بھی رپورٹیں آئی ہیں اس میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ زبان کے مسئلہ کو لے کر ہی ہمارے بچے موضوعاتی اعتبار سے کمزور ہورہے ہیں۔ اس سال کی ’’پرتھم‘‘ رپورٹ میں بھی یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ثانوی درجے تک کے بچے حساب اور سائنس کے معاملے میں پانچویں درجے کی لیاقت سے بھی کمزور ہیں ۔ ایسی صورت میں ملک کے تعلیمی نظام میں ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے اور اس کے لئے تمام تر ازم اور مفاد سے اوپر اٹھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ اسکولوں میں صرف داخلہ کی شرح بڑھانے سے ہی تعلیمی شعبے میں تبدیلی نہیں آئے گی ۔بلکہ معیاری تعلیم کی بھی ضرورت ہے ۔ ریاست بہارمیں اسکولی طالبہ کے لئے سائیکل اور پوشاک اسکیم کی وجہ سے اسکولوںمیں داخلہ شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن مختلف تنظیموں کی رپورٹ میں یہ حقیقت بھی واضح ہوئی ہے کہ ثانوی درجے کے بچے بھی ٹھیک سے کسی بھی زبان کی کتاب کی قرأت نہیں کر پا رہے ہیں ۔ اسی طرح پرائمری سطح پر میڈ ڈے میل کی وجہ سے شرح اندراج میں اضافہ ہوا لیکن بچوں کی ذہن سازی نہیں ہو پا رہی ہے ۔ بلکہ میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ میڈ ڈے میل کی وجہ سے اسکولوں کے اساتذہ پر دبائو بڑھا ہے کہ ان کامیڈ ڈے میل کے انتظامات میں ہی زیادہ وقت صرف ہوتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں میڈ ڈے میل میں بد عنوانی کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں اور مقامی سطح پر سیاست بھی اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔ اب تک ہزاروں اساتذہ میڈ ڈے میل کے معاملے میں معطل اور جیل بھی جا چکے ہیں۔ غرض کہ درسی کام سے زیادہ فضولیات میں وقت ضائع ہو رہا ہے اور تعلیم کے نام پر خانہ پُری ہو رہی ہے۔ جب کہ ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ عصرِ حاضر میں معیاری تعلیم کی کیا اہمیت ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ روز اول سے ہی معیاری تعلیم کی اہمیت اور افادیت مسلّم رہی ہے لیکن اب گلوبلائزیشن کے بعد مقابلے میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ شرح آبادی میں اضافے کی وجہ سے ملازمت حاصل کرنے کا مقابلہ بھی سخت ہوا ہے کہ اب چوتھے درجے کی ملازمت کے لئے بھی تحریری امتحانات ہونے لگے ہیں اورتیسرے درجے کے عہدے کے لئے تو قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات لازمی قرار پائے ہیں۔ اس لئے اب تعلیمی شعبے میں ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے کہ ہم عالمی پیمانے کو سامنے رکھیں اور پرائمری سطح سے ہی تعلیمی نظام کو درست کریں کہ جب تک ہماری بنیادی تعلیم کا ڈھانچہ مستحکم نہیں ہوگا اس وقت تک ہم اپنی اعلیٰ تعلیم کی عمارت کو بلند نہیں کر سکتے۔ آج اعلیٰ تعلیم کے معیار پر بھی طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں بالخصوص ریسرچ کے معاملے میں ہماری پستی باعثِ شرمندگی بن گئی ہے کہ گذشتہ بیس برسوں میں ہم نے کوئی ایسا سائنس داں پیدا نہیں کیا ہے جو دنیا کے لئے مثال بن سکے۔ کم وبیش دیگر شعبے کا بھی یہی حال ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی پہلے نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے ملک کی پرائمری تعلیم کو نہ صرف استحکام بخشنے کی وکالت کی تھی بلکہ اسے سائنٹفک بنانے پر بھی زور دیا تھا مگر ان کی صدا بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئی اورجس کا نتیجہ سامنے ہے کہ ثانوی درجے کے بچے کسی بھی زبان کی کتاب کی درست قرأت کرنے سے معذور ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور پرائمری سطح کی تعلیم کو مستحکم کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کریں ۔میرے خیال میں مغربی ممالک کی طرح پرائمری اور ثانوی اسکولوں کے اساتذہ کی بحالی میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ تعلیمی پیشہ سے دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں ۔ کیو ںکہ ہمارے ملک میں بے روزگاری دور کرنے کے لئے حکومت کسی بھی شعبے میں صرف ملازمت دینے کی پہل کرتی ہے اسے اس سے غرض نہیں ہوتا ہے کہ بحال ہونے والا شخص اس شعبے کے لائق بھی ہے یا نہیں ۔ شعبۂ تعلیم کے تقاضے دیگر شعبے سے مختلف ہیں۔ یہاں کچے ذہن کو صحیح خطوط بخشنا ہوتا ہے اگر یہاں کوئی چوک ہوگئی تو پھر ثانوی یا اعلیٰ درجے میں اسے ٹھیک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں چھوٹا سا ملک فین لینڈ پرائمری تعلیم کے معاملے میں نمایاں ہے۔ کیوں کہ وہاں کی حکومت پرائمری تعلیم کے لئے اساتذہ کے انتخاب میں کسی بھی ازم اور مفاد سے اوپر اٹھ کر کام کرتی ہے ۔ نتیجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں وہاں کا تعلیمی نظام مثالی بن گیا ہے۔ اپنے پڑوسی ملک بھوٹان میں بھی پرائمری تعلیم کا معیار دنوں دن اس لئے بہتر ہو رہاہے کہ وہاں بھی فین لینڈ کی طرز پر پرائمری اور ثانوی اساتذہ کی بحالی میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہمارے یہاں اب بھی پرائمری اورثانوی درجے کے اساتذہ کی بحالی کو محض بے روزگار ی دور کرنے کا ذریعہ سمجھا جا رہاہے ۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔