تعلیمی نصاب میں اخلاقی درسیات: تاریخ و حقائق-سید تنویر احمد

تعلیم کے شعبہ میں سرگرم افراد اس بات سے واقف ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں نظام تعلیم پر کتنا اثر ڈالتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کس طرح کا معاشرہ اور افراد تیار ہوتے ہیں۔ تعلیم میں اخلاقیات یا اخلاقی تعلیم کے میدان میں کام کر رہے افراد کا پالیسیوں سے صرف نظر کرکے خود کو محض اسکولوں تک محدود کرلینا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ کتابوں اور طرز تعلیم کا پالیسی سے گہرا تعلق ہے۔واضح رہے کہ ملک کی آزادی کے بعد بھی فوری طور پر تعلیمی نظریات اور نظام و انصرام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی تھی بلکہ میکاولے کی رپورٹ، جسے‘میکاولے منٹس’کہا جاتا ہے، کی روشنی میں انگریزوں نے جس برطانوی قانونِ تعلیم (British Education Act 1835) کو منظور کیا تھا اور اس کے تحت جو نظام کام کر رہا تھا وہی نظام آزادی کے بعد بھی جاری رہا۔ البتہ کئی دانش وروں، ماہرین تعلیم اور لیڈروں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار ہوتا رہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں مذہب، روحانیت اور اخلاقیات کی تعلیم کا معقول انتظام ہونا چاہیے۔ اس وقت جاری نظامِ تعلیم کے خالق میکاولے مذہب، روحانیت اور اخلاقیات کی تعلیم اور اس سے متعلق مضامین کی تعلیمی نظام میں شمولیت کیمخالف تھے۔ ان کا موقف بڑا واضح تھا، وہ یہ کہ ہمارا تعلیمی نظام (یعنی اس وقت کی برطانوی سرکار کا تعلیمی نظام) برطانوی حکومت کو استحکام بخشنے اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار کے قابل بنانے کا ہونا چاہیے۔ میکاولے کی رپورٹ نے اخلاق کی تعلیم کے متعلق یہ رائے پیش کی تھی کہ مذہب اور اخلاق کی تعلیم کا ذمہ حکومت پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بقول مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے، چناں چہ اسے گھر اور کمیونٹی سینٹروں کے ذمہ کر دینا چاہیے۔ مذہبی تعلیم پر برطانوی حکومت کے اخراجات پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس نے لکھا تھا کہ ’’ہم کیوں چرچ میں بیٹھ کر وظیفہ پڑھنے والوں پر خرچ کریں‘‘۔ میکاولے مذہب بے زار کے طور پر معروف تھا۔
آزادی کے بعد اس بحث کا آغاز ہوگیا تھا کہ اب ملک کا نظام تعلیم ہماری ملکی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔ چناں چہ آزاد ہندوستان کی وزارتِ تعلیم نے اس سلسلے میں پالیسی وضع کرنے کے لیے بتدریج مختلف کمیٹیاں بنائیں۔ ان میں سے چند قابلِ ذکر کمیٹیوں کا تذکرہ اور ان کمیٹیوں کی سفارشات ہم اس مضمون میں پیش کر رہے ہیں۔دی سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن: آزادی سے پہلے حکومتِ برطانیہ کے دور میں 1920 میں سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن قائم کیا گیا تھا جو آج بھی قائم ہے۔ اس بورڈ کا ایک اہم مقصد ملک اور ریاستوں کو تعلیم کے شعبے میں رہ نمائی کرنا ہے۔ اس بورڈ کے سربراہ اکثر وزرائے تعلیم ہوا کرتے ہیں۔ اس کا اجلاس سال میں ایک بار ہوتا ہے، لیکن کئی سال سے اس کا اجلاس متواتر نہیں بھی ہوا ہے۔ اس بورڈ کا ذکر نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی ملتا ہے۔ پیرا گراف 25 میں بورڈکو استحکام بخشنے اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے منصوبہ سازی کی بات کہی گئی ہے۔آزادی کے چند ماہ بعد جنوری 1948 میں اس بورڈ کا 14 واں اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس نے وزارتِ تعلیم کو یہ مشورہ دیا تھا کہ سیکنڈری ایجوکیشن کے نظام کا جائزہ لینے اور اصلاحات تجویز کرنے کیلیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔ واضح رہے کہ اس وقت بورڈ کی صدارت مولانا ابوالکلام آزاد فرما رہے تھے۔ مولانا اس اہم ترین بورڈ کی صدارت 1948 سے 1958 تک کرتے رہے۔ درمیان میں 1951، 1954 اور 1957کے تین برسوں کے دوران مولانا کے بجائے دیگر افراد اس کے چیئرمین رہے۔ اس بورڈ کی صدارت اور وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد پر جتنا کچھ تحقیقی کام ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوسکا ہے۔ ہمارے ریسرچ اسکالراور پروفیسر صاحبان اس پر توجہ فرمائیں۔
موجودہ قومی تعلیمی پالیسی کو وضع کرنے کے لیے نچلی سطحوں سے مشورے طلب کیے گئے تھے۔ پرنسپل اور اساتذہ سے تجاویز حاصل کی گئی تھیں۔ یہ کام این ڈی اے سرکار کی پہلی میقات میں ہوا تھا۔ اس وقت تعلیم کے میدان میں مصروف کار افراد کی اتنی بڑی تعداد میں شمولیت کو سراہا جارہا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے، لیکن اس کمیشن کے طریقہ کار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ 1952 میں کمیشن (سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن) نے اس دور میں ایسا ہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو مدون کرنے والوں نے، سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن کے طریقہ کار کو اختیار کیا تھا۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی تدوین میں تقریباً پانچ سال صرف کیے گئے، جب کہ مذکورہ کمیشن نے 1953 میں ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں اپنی رپورٹ حکومتِ ہند کو سونپ دی تھی۔ جو افراد موجودہ تعلیمی پالیسی کی تعریف میں پل باندھ رہے ہیں انھیں سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ رپورٹ ملک کی تعمیر کا قابلِ عمل اور ہندوستانی معاشرے کے تناظر میں موجودہ پالیسی کے مقابل بہتر منصوبہ پیش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ مرکزی تعلیمی بورڈ کی ویب سائٹ taleemiboard.org پر دست یاب ہے۔ 321 صفحات پر مشتمل اس مفصل رپورٹ کا آٹھواں باب اس مضمون کے موضوع کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ باب کا عنوان ہے اخلاق کی تعلیم (The Education of Character)۔ صفحات 119 تا 131، یعنی 12 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے اس حصے میں اخلاق کی تعلیم کی اہمیت اور طریقہ کار سے گفتگو کی گئی ہے۔ اخلاقی تعلیم کے حوالے سے اتنی تفصیل نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں نہیں ہے۔ اس باب کے اہم نکات کو ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں:اہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے جس میں کھیل، اسکاوٹ و گائیڈ،این سی سی اور این ایس ایس قابلِ ذکر ہیں۔اسی باب کے ذیل میں ایک شق ’’مذہب کی تعلیم‘‘ کی بھی ہے، جس کے تحت مذہب کی تعلیم اور اس کے اثرات پر گفتگو کی گئی ہے۔ مذہب کی تعلیم کو تسلیم کرتے ہوئے کمیشن نے واضح کیا ہے کہ چوں کہ ہندوستان کی حکومت سیکولر بنیادوں پر کام کرتی ہے، اس لیے حکومت کے وضع کردہ تعلیمی نظام کو کسی مذہب کی نہ تو تائید کرنی چاہیے اور نہ ہی تبلیغ۔ اس وضاحت اور حکومت کے اس موقف کی وضاحت کرنے کے بعد کمیشن کہتا ہے کہ اسکول نصابی تعلیم کے اوقات کے بعد مذہب کی تعلیم کا انتظام کرسکتا ہے، لیکن اسکولی اوقات کے بعد کیے جانے والے اس انتظام میں تمام طلبا کی شرکت کو لازمی نہ ٹھہرایا جائے۔ ایک اور ماڈل کا تذکرہ کرتے ہوئے کمیشن نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ مذہبی تعلیم کی گھنٹی میں، جو اسکولی اوقات کے بعد ہوگی، کسی خاص مذہب کی تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا ہے اور وہ طلبا جو اس گھنٹی میں شریک ہونا نہیں چاہتے، ان کے لیے اخلاقی تعلیم کی کلاس کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ کمیشن کی یہ ایک اہم تجویز تھی لیکن اب بعض ریاستی حکومتیں ایسا کرنے پر روک لگا چکی ہیں۔ جب ہم پالیسی پر اثرانداز ہونے کا منصوبہ بنائیں گے، اس وقت اس نکتے سے ہمیں بڑی مدد ملے گی۔
(مضمون نگار، مرکزی تعلیمی بورڈ ، جماعت اسلامی ہند کے ڈائریکٹر ہیں)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)