تعلیم ِ نسواں:کچھ زاویے- مریم جمیلہ خان

"تعلیم ِنسواں” کئی دنوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے ہماری تحریر اور تقریر کا موضوع رہا ہے۔ مشرق ومغرب کے ہزارہا اہل علم افراد اور مفکرین نے اس موضوع پر بے شمار آراء دی ہیں۔ مختلف افکار سے وابستہ افراد نے مختلف زاویوں سے تعلیمنسواں کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ہر دور میں یہ موضوع زیرِ بحث رہا ہے۔ اور جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی ویسے ویسے یہ موضوع اپنے نئے رنگ اور ڈھنگ کے ساتھ پیش کیا گیا۔
دراصل”عورت” خود ایک بھڑکتا ہوا عنوان ہے جسے ہر دور میں اہل علم اور اہلِ ہوس اپنے اپنےانداز سے پیش کرتے ہیں۔ تعلیم نسواں تو بس اسکی ایک کڑی ہے۔
ویسے تو یہ ایک وسیع و عریض گفتگو کی شروعات ہے مگر پھر بھی ہم چند باتیں دیکھتے ہیں تعلیم نسواں کے بارے میں۔ جب بھی یہ عنوان نظروں سے گزرتا ہے مجھے سب سے پہلےعلامہ اقبال کا وہ مصرعہ یاد آجاتا ہے،آپ نے فرمایا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِکائنات میں رنگ
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی رنگینیوں میں عورت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔آج زندگی کے ہر شعبۂ حیات میں مرد ایک اہم رول ادا کرتاہے ، کارخانہ حیات مردوں کے وجود سے ہی رواں دواں ہے۔ اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ مرد کو اللّٰہ تعالیٰ نے طاقتور اور قوام بنایاہے۔ اور عورت کو نازکی اور شوخی عطا کی ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں نکلتا ہے کہ معاشرہ عورت کے بغیر چل سکتا ہے۔ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے دورِ حاضر میں عورت نے تمام شعبہ حیات میں اپنی جگہ بنالی ہے ،اور کامیاب بھی ہو رہی ہے ۔دراصل ہمارے معاشرے میں تعلیم ِ نسواں کو لے کر دو گروہ وجود میں آئے ہیں۔
پہلا گروہ وہ ہے جہاں لوگ عورت کو مکمل آزادی کے ساتھ تعلیم و ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اُنہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ انکی بیٹی یا گھر کی کوئی عورت معاشرے میں کس طرح اپنے آپ کو پیش کرتی ہے۔کیا وہ کتاب و شریعت کے اصولوں کے مطابق ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے؟ یا مغربی آزاد خیال خواتین کی راہ پر چل رہی ہے جسکا اختتام بربادی پر ہوتا ہے؟
دوسرا گروہ وہ جو مندرجہ بالا گروہ کے ردعمل میں وجود میں آتا ہے۔ یہ ان افراد پرمنحصر ہے جو اِن آزاد خیال خاندانوں کی بربادی کو دیکھ کر اپنی بیٹیوں یا گھر کی خواتین کو اس حد تک باندھ کر رکھتے ہیں جس کا حکم نہ خدا اور نہ ہی اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی خلق خدا کو دی۔ اور یہ ایک طرح کا ظلم ہے۔ بے شک اِس میں ان تنگ نظر افراد کی کوئی غلطی نہیں، کیوں کہ یہ افراد جب اپنے آس پاس کے معاشرے میں آزاد خیال خواتین کی دنیا اور آخرت برباد ہوتے دیکھتے ہیں تو اُنہیں فطری طور پر اپنی گھر کی خواتین اور عزت و آبرو کی فکر ستانے لگتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہ خواتین کی تعلیم کو ایک محدود دائرے میں قید کر دیتے ہیں اور عورت سے جائز اور مطلوب ترقی کے مواقع چھین لیتے ہیں۔
اعتدال کا راستہ:
اب معاشرے کی سوچ جان لینےکے بعد ہمیں اپنے فرائض کو جان لینا بہت ضروری ہے۔
سب سے پہلا جو ہمارا کرنے کا کام ہے وہ ہے ہمارے گھروں میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، مرد ہو یا عورت اسلامی تعلیمات کے بغیر دنیاوی علوم کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بے شک دنیاوی تعلیم اس فانی دنیا میں ہماری ترقی کا سبب بن سکتی ہے مگر اخروی زندگی کے لئے ہمیں دنیا میں دینی تعلیم کو بھی اپنے خاندان اور معاشرے میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ اپنی اولاد کو بچپن ہی سے خدا کی رحمت و شفقت کے ساتھ اسکے خوف و غضب سے آگاہ کروائیں۔ تاکہ وہ تنہائی میں بھی گناہوں سے بچ سکیں۔
اپنی بیٹیوں کو روایتوں کی بیڑیوں میں باندھنے سے بہتر ہے کہ انہیں عالم اسلام کی درخشاں خواتین کے واقعات بچپن ہی سے سنائیں تاکہ جب وہ بڑی ہوجائیں اور معاشرے میں ترقی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کریں تو انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات معلوم ہوں اور وہ اپنی عزت و آبرو اور اپنے مذہب کی عظمت اور مثالی نظام تعلیم وتربیت کو معاشرے کے سامنے پیش کرسکیں اور ثابت کریں کہ اسلام کوئی تنگ نظر مذہب نہیں ہے بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے ؛جو افراد کی دنیاوی تعلیم و ترقی کے بیچ نہیں آتا بلکہ اگر اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیاوی ترقی کی جائے تو یہ نہ صرف اخروی بلکہ دنیاوی کامیابی اور مقام و مرتبے کی ضامن بن جاتی ہے۔
ہمیں اسلام کی مشفقانہ رعایات تو ہماری پیدائش کے ساتھ ہی مل گیا تھا مگر افسوس کہ ہم اس سے فیض یاب نہ ہو سکے۔ یا تو ہم نے اپنی خواتین کو پوری طرح معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے یا اسے روایتوں کی بیڑیوں میں جکڑ دیا ہے۔
ہمیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔”(مسلم)
اگر ہماری عورتیں ترقی یافتہ ہوں گی تو ہماری نسلیں صحیح سمت میں پروان چڑھیں گی اور اگر ہماری خواتین کے طریقہ تعلیم وتربیت میں افراط وتفریط ہوئی تو بربادی ہماری نسلوں میں سرایت کر جائے گی۔
بہر حال ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہے اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ نہ صرف اپنی خواتین بلکہ مردوں میں بھی دینی تعلیم کے چلن کو عام کرنا ہے۔
ہمیں ہماری خواتین کی اس قدر ذہن سازی کی ضرورت ہے کہ وہ معاشرے کی برائیوں کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اسکے خلاف کھڑی بھی رہیں اور آئندہ نسلوں کی ایسی پرورش کریں کہ وہ اس باطل دنیا میں حق کا عَلَم لے کر اٹھیں اور اس کے رنگ میں رنگنے کی بجائے اسے بدلنے کا عزم اور حوصلہ رکھیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*