تعلیم ضروری کیوں؟ اے آزاد قاسمی

انسانی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ روئے زمین پر انسانی وجود کی بقاء، اس کی نشوونماء، انسانی قدروں اورروایتوں کی حفاظت، کردارسازی اور اس کی ذہنی وفکری جہت کو فروغ دینے کیلئے تعلیم ایک جزء لاینفک ہے، دنیا میں وہی قوم بام عروج تک پہنچ پاتی ہے اور اسی کا اقبال بلند وبرترہوتاہے جو تعلیم سے منسلک ہوتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے تعلیم،تعلم اورتعلیم گاہیں بطوروراثت چھوڑجاتی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ زمین پر انسانی معاشرہ کی بھلائی اور بامقصدسماج کی تعمیر وترقی کے لئے علم حاصل کرناضروری ہے۔علم ہی کے ذریعہ انسان سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی پاسکتاہے۔ اسلامی فلسفہ تعلیم ایک کامل واکمل نصب العین رکھتاہے،جوانسان کوزیورعلم سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح وبہود کومدنظررکھتے ہوئے کامل معرفت الہی کے جستجوکا بھی متمنی بناتاہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے زمین پر جب اپنا خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا اور فرشتوں کو اس سے آگاہ کیا تو فرشتوں نے یک زبان ہوکر کہاکہ ہم آپ کی عبادت اور حکم کی بجاآوری کے لئے کافی ہیں،آپ زمین پر ایک ایسی مخلوق کو پید اکررہے ہیں جو ہمہ وقت فساداور قتل وغارت گری برپاکرے گی۔اس پر اللہ کا جواب تھا کہ میری مشیت جو کچھ جانتی ہے وہ تم نہیں جانتے بعدازاں اس نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ ان چیزوں کے نام بتلاؤ تو انہوں نے فوراًسب کچھ بیان کردیا جو فرشتے نہیں بتاپائے، اس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر آدم علیہ السلام کی تخلیق اور حکمت واضح کردی اور دوسرے منشاء خداوندی کے ساتھ دنیاوی زندگی بسرکرنے اور معاشرتی امور کو بہتر طریقہ سے انجام دینے کے لئے علم کی اہمیت اور فضیلت سے بھی آگاہ کردیا،اس لئے کہا جاسکتاہے کہ دنیامیں حصول علم کا تصورابتداء آفرینش سے ہی ہے، گویا کہا جاسکتاہے کہ انسان کو اس کے وجود کے ساتھ ہی علم سے وابستہ کردیا گیا ہے۔
آقاء ﷺ کے قلب مبارک پر اللہ رب العزت کی جانب سے جو سب سے پہلی وحی نازل کی گئی وہ بھی لفظ اقراء سے شروع ہوتی ہے یعنی کہ آغاز وحی میں ہی یہ بات صاف کردی گئی کہ بغیر علم کے کوئی بھی انسان اپنی مفوضہ ذمہ داری کو کامل طورپر ادانہیں کرسکتا، تاریخ انسانی خاص کر اہل یورپ اس کے معترف ہیں کہ علم کی ترویج واشاعت میں اہل اسلام نے جو نمایاں خدمات انجام دیئے ہیں تاریخ میں اس کی نظیرمشکل سے ہی دیکھنے کو ملے گی۔چاہئے آج کے جدید میڈیکل سائنس کی بنیادہویا ریاضی کی موجودہ شکل کی بناء یا پھر پیمائشی آلات کی تشکیل نو یہ سب کے سب اس قوم مسلم کا مرہون منت ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے اپنے اسلاف کی اس عظیم وراثت کو سنبھال کر نہیں رکھ پائے اور نہ ہی اس سے خاطرخواہ استفادہ ہی کرسکے، اب بھی وقت ہے کہ ہم معدوم ہورہی تواریخ کے صفحات کو پلٹیں۔یہ بات درست ہے کہ فطرت انسانی ایک ملی جلی معاشرہ کا متقاضی ہے، سوشل سائنس اورعلم مدنیت کی تعریف میں اس بات سے بحث کی جاتی ہے کہ معاشرتی زندگی میں انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اورایک نارمل انسان اپنی پیدائش سے لیکر موت تک اس کامتحمل نہیں کہ وہ تن تنہااس دنیا میں اپنی زندگی بسرکرسکے۔ یوں ایک انسان مشترکہ سماج ومعاشرہ میں جینے کیلئے مجبورہوا، جب یہ بات واضح ہوگئی کہ انسانی زندگی کیلئے انسانی معاشرہ ضروری ہے تو بحیثیت خیرامت ہمارے اوپرایک صالح اور باکردارمعاشرہ کی تشکیل کیلئے کچھ فرائض اور حقوق بھی عائد ہوتے ہیں۔اکیسویں صدی کے جس ابتدائی عشرہ میں ہم لوگ جی رہے ہیں یہ نت نئی ٹکنالوجی اور جدید طرززندگی کا زمانہ ہے، اس وقت اگر کوئی سماج یا معاشرہ علم سے دورہے تو یہ اس سماج اور معاشرہ کے لئے بے حد تشویش کی بات ہے، معاشرہ یا سماج پر عائد حقوق کی ادائیگی ہم اس وقت اوراچھے طورپرکرسکتے ہیں جب ہماراسماج تعلیم یافتہ ہو۔ کیونکہ علم ہمیں معاشرتی زندگی میں باہم ایک دوسرے کی رعایت کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتاہے، جس سے ہم ایک مہذہب سماج کی تشکیل کی طرف بڑھتے ہیں۔ کیونکہ علم ہی ایک ایسی شئے ہے جوانسان کوفکروآگہی، سوجھ بوجھ عطاکرکے ایک بامقصدزندگی گزارنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اورآج کی دوڑتی بھاگتی دنیاجو ایک عالمی گاؤں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے اس سے جڑنے کا سلیقہ عطاء کرتی ہے۔
موجودہ سائنسی تناظرمیں کچھ ریڈیکل لیبرل ازم اپنی آراء یوں بیان کرتے ہیں کہ اسلام میں علم کی تفریق اورتحدید پائی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے وہ لوگ یاتو اسلامی تاریخ سے واقف نہیں یا پھر اسلام دشمنی میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اسلام نے علم کے حصول میں کبھی بھی قیدوتحدید کو روانہیں رکھا ہے۔قرآن پاک میں کئی جگہ انسانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے اور اس کامطالبہ بھی کیاگیاہے کہ”تم زمین میں گھومو پھرو اور اللہ کی نشانیوں سے عبرت لواور اس میں غوروفکرکروتاکہ تم اللہ کی قدرت کاملہ کو پہچان سکوں کہ اللہ کی تمام طرح کی نعمتیں انسانوں کیلئے کس طرح مسخر کی گئی ہیں“، یہ اور اس طرح کے تمام احکامات انسانوں کو غورفکراور تدبر کی دعوت دیتے ہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حدود علم کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آج کے دورمیں جہاں دنیا وی تغیرات کا مشاہدہ سائنسی علوم کوحاصل کئے بغیر ممکن نہیں، وہیں حالات کا تقاضہ بھی ہے کہ سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ دیگر علوم کے حصول میں بھی ہم آگے آئیں۔ ہاں دین اسلام میں اس بات کی تحدیدکی گئی ہے کہ وہ علم جس کو انسان حاصل کررہا ہے وہ نفع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کو صحیح خط پر استوارکرنے والی ہوں اورمعرفت خداوندی سے بیزارکرنے والا نہ ہو۔آج کی ایک اہم بیماری جو ہمارے معاشرہ کے لئے ناسوربنتی جارہی ہے وہ ہے تعلیم کی تقسیم یعنی کہ مدرسہ میں علم حاصل کرنے والوں کی ذمہ داری اسلامی علوم کی حفاظت اور دینی کام انجام دینا اور اسکول وکالج میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی ذمہ داری جدیدتعلیم کا حصول اور دنیاکمانہ رہ گیاہے جوحقیت کے برخلاف ہے، اس فکری سوچ سے بہت جلد ہمیں نکلنا ہوگاتاکہ ہم ایک بامقصدمعاشرہ کی تشکیل کی طرف کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں، یہ سوچ ایک دیمک کی طرح ہماری صلاحیتوں کو زق پہنچارہی ہے جس کا ہمیں ادراک تک نہیں ہے۔
آج کے بدلے ہوئے حالات میں جبکہ پوری دنیا ایک ناگہانی آفت کوروناجیسے لاعلاج وائرس سے دوچارہے جس نے پوری دنیاکی جغرافیائی ہیت کوہی بدل کر رکھ دیا ہے، انسانی زندگی کی تمام تر نقل وحرکت مسدود ہوچکی ہے، ایسی نازک گھڑی میں جبکہ ہم میں سے بیشترگارجین اپنے بچوں کے ساتھ ہی ہوں گے اس بات کویقینی بنائیں کہ ان ایام کو جوکہ لاک ڈاؤن کی صورت میں ہمیں ملاہے مکمل فائدہ اٹھائیں اور اپنے نونہالوں کو ان موضوعات کی طرف متوجہ کریں جو عام طورپرہمارے اسکولوں کہ نصاب میں شامل نہیں ہیں،اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے بچوں کوخاص کربنیادی دینی تعلیم کی طرف متوجہ کریں تاکہ جو علم بحیثیت مسلمان ہم پر فرض کیا گیاہے اس کی کماحقہ ادائیگی کی جاسکے، اس مدت لاک ڈاؤن کوغنیمت سمجھتے ہوئے بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ عام دنوں میں دیکھاگیا ہے اور اکثراسکولوں کی طرف سے یہ نوٹس بھی کیا گیا ہے کہ بیشتر والدین بچوں کے اسکول یامدرسہ میں داخلہ کے بعد بے فکر ہوجاتے ہیں کہ چلوخیرسے بچے کا داخلہ ہوگیا، بچوں کی تعلیمی اور اخلاقی پرورش کرنا اب ادارے کی ذمہ داری ہے،حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے، بیشتر تعلیمی نفسیات کے ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اخلاقی اورگھریلوتعلیم کے بغیر اسکولی تعلیم کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ بدلے ہوئے تعلیمی نظام میں یہ چیزیں ہمارے اندراسی وقت پیداہوسکتی ہیں جب ہم اورہمارامعاشرہ تعلیم کی بنیادی اور ضروری چیزوں سے واقف ہوں گے اوراس بات کا ادراک ہوگاکہ اسلام میں جس صالح معاشرے کی تعمیرپر زوردیا ہے اس کی تشکیل بہتر تعلیم سے ہی ممکن ہے اوریہ تعلیم محض دینی تعلیم نہیں بلکہ اس کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے۔ دنیا میں قوموں کی ترقی کاراز تعلیم میں ہی مضمرہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس عالمگیر سچائی کو نہ صرف سمجھیں بلکہ اس پر عمل پیراہوکر اپنے بچوں کے بہترمستقبل اور قوم کی ترقی کیلئے تعلیم کو ایک تحریک کی شکل دیں اور کوشش یہ ہوکہ ہماری قوم کا کوئی ایک بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)