تعلیم سے تصویر بدلے گی۔ لیکن کیسے ؟ ـ مسعود جاوید

بہار پبلک سروس کمیشن BPSC یعنی نوکر شاہی کے لیے منتخب ہونے والے مسلم امیدواروں کی کامیابی میں بہار حج بھون کی کوچنگ کا نمایاں کردار ہے۔
اسی طرح مرکزی نوکرشاہی UPSC کے لیے دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جامعہ ہمدرد اور زکوٰۃ فاؤنڈیشن اقلیتوں کے بچے اور بچیوں کو فری کوچنگ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی نوکر شاہی کے لیے مقابلہ جاتی امتحانات ، اور آئی آئی ٹی ، انجنیئرنگ کے لیے رحمانی 30 اور دیگر ادارے فری کوچنگ فراہم کرتے ہیں۔

تاہم ایک سوال جو پچھلے کئی سالوں سے اٹھا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اس مرحلہ تک پہنچانے کے لیے ہمارے یہاں بالخصوص شمالی ہند میں کیا نظم ہے ؟
دسویں اور بارہویں جماعت میں اچھے نتائج کے لیے بنیاد اچھی ہونی چاہیے۔ rock solid foundation کے بغیر بارہویں میں اچھے نتائج حاصل نہیں ہوتے اور اچھے نتائج کی بنیاد پر ہی مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے ملتے ہیں۔ پسندیدہ سبجیکٹ اور Job Oriented کورس میں داخلہ کے لیے کٹ مارک بہت ہائی ہوتا ہے اور انٹرنس ٹیسٹ بہت سخت ہوتے ہیں۔

اس لیے ہماری اولین ضرورت کالج اور یونیورسٹی کا قیام نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ بارہویں جماعت میں اچھے نمبرات سے پاس ہونے والوں کے لیے بہت سے کالج اور یونیورسٹی میں مواقع میسر ہوتے ہیں۔ کوچنگ کی سہولیات بھی ایسے طلباء و طالبات کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے کتنے ہوتے ہیں ظاہر ہے چند ہزار۔

دسویں جماعت پاس کرنے کے لیے لازمی طور پر نویں جماعت میں داخلہ کسی اسکول میں لینا ہوتا ہے اسی طرح بارہویں جماعت کے لئے گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا ہوتا ہے اس طرح دو سال پابندی کے ساتھ پڑھائی کر کے اسکولنگ مکمل کرنی ہوتی ہے ۔
شمالی ہند میں نویں سے دسویں تک کی تعلیم اور اسی طرح گیارہویں سے بارہویں تک کی تعلیم کے لیے معیاری اسکول نہیں ہیں یا کم ہیں جن میں داخلہ بھی مشکل ہوتا ہے اور فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے میں قوم کے بچے بچیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کاش قومی دانشگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر ہو جائے۔لیکن افسوس ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گیارہویں جماعت میں داخلہ کے لیے  کل تقریباً 1600 سیٹ ہیں اور امیدوار تقریباً 45,000۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیٹ تقریباً 400 اور امیدوار کم و بیش 15,000 ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گیارہویں جماعت میں داخلہ کے انٹرنس امتحان میں 43,400 طلباء کو داخلہ نہیں ملتا اور جامعہ میں 14,600 کو داخلہ نہیں ملتا !
ان میں سے بعض ہمت نہیں ہارتے اور کہیں نہ کہیں داخلہ لے کر آگے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن جو جذبہ لے کر وہ بڑھے تھے وہ مدھم پڑ جاتا ہے۔ بعض بددل ہو کر یا اخراجات؛ معیاری اسکول کی بہت زیادہ فیس ادا کرنے کے لائق نہیں ہوتے اس لیے ان کی آگے کی تعلیم رک جاتی ہے۔

ان بنیادی مسائل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، آئی ایف ایس، آئی آر ایس، انجنئیرنگ وغیرہ کے لئے فری کوچنگ مہیا کرانا بلا شبہ قابل ستائش ہے لیکن ان کی تعداد چند ہزار ہے جبکہ لاکھوں نونہال بنیادی معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ان کے لیے شمالی ہند میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہو رہا ہے۔
جنوبی ہند میں الامین ، میسکو اور شاہین تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے اور دن بدن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)