طالبان سے جھڑپ، ایک ہزار افغان فوجی جان بچا کر تاجکستان میں داخل

کابل:تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی اہلکاروں نے طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پیر کو تاجکستان کا رخ کیا ہے۔ دوسری جانب افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا ہے کہ سرکاری افواج شمالی صوبوں میں طالبان کے خلاف جوابی کارروائی میں تیزی لا رہی ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے روسی نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حمداللہ محب نے کہا کہ افغانستان کی سرکاری افواج کو طالبان کے حملوں کی توقع نہیں تھی لیکن اب ان کے خلاف جوابی کارروائی ضروری ہے۔اے ایف پی کے مطابق امریکی اور بین الاقوامی فوجی دستوں کا ملک سے انخلا ہو رہا ہے اور ایسے میں طالبان شدت پسندوں نے شمالی افغانستان میں حالیہ ہفتوں میں کئی بڑی جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ پیر کو تاجکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے بتایا کہ1,037 افغان فوجی اہلکار رات کو طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اپنی جانیں بچانے کے لیے ان کے ملک پہنچ گئے ہیں۔تاجکستان کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق کمیٹی نے اپنے بیان میں بتایا کہ اچھے ہمسائے کے اصولوں اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے افغان حکومتی فورسز کے عسکری اہلکاروں کو تاجکستان کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔تاجک خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ طالبان نے بدخشاں صوبے کے چھ اضلاع کا ’مکمل کنٹرول‘ سنبھال لیا ہے۔ سینکڑوں افغان دستے مئی کے اوائل میں طالبان کے حملوں کی وجہ سے تاجکستان کی حدود میں پہلے ہی داخل ہو چکے تھے۔ عسکریت پسندوں نے افغانستان کے درجنوں اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے جس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ستمبر میں امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد افغان فوج کو طالبان کے سامنے جھکنا پڑے گا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں سال گیارہ ستمبر کے حملوں کی بیسویں سالگرہ تک امریکی افواج کو افغانستان سے انخلا کا حکم دیا ہے۔