طالبان چند شرائط پرکابل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار

کابل:افغان طالبان نے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح االلہ مجاہد نے بتایا کہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی غرض سے طالبان استنبول کانفرنس میں شرکت کریں گے، تاہم مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں مداخلت کی راہ نہیں ہموار ہونی چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ طالبان کے خیال میں استبول کانفرنس بلا شعبہ افغان عوام کی خواہشات کے مطابق منعقد ہونی چاہیے تاہم مذاکرات کو کسی قسم کے تسلط کا بہانہ نہ بنایا جائے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی دور قطر میں ہی ہونا چاہیے جہاں چند دن پہلے دونوں قریقین کے درمیان بات چیت کا عمل تعطل کے بعد ایک مرتبہ پھر بحال ہوا تھا۔تاہم طالبان ترجمان نے شرائط کے حوالے سے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رہنما شرائط پر غور کر رہے ہیں۔انہوں نے طالبان کی دو شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مذاکرات میں شرکت کے لیے سات ہزار طالبان قیدیوں اور طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ان شرائط سے متعلق طالبان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کی ترجمان فاطمہ مورچل نے استنبول کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا ایجنڈا اور تاریخ طے ہونا ابھی باقی ہے۔استنبول کانفرنس 24 اپریل کو منعقد ہونا تھی، تاہم طالبان نے شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ طالبان کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا تک امن مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ اقوام متحدہ کے تحت منعقد ہونے والی استنبول کانفرنس میں افغانستان سے افواج کے انخلا سے قبل تنازعے کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ کابل میں سیاسی تجزیہ نگار واحداللہ غازی خیل کے مطابق امریکہ نے اپنی افواج جون یا جولائی تک نکالنے پر خفیہ رضامندی کا اظہار کیا ہے، جس کے بدلے میں طالبان استنبول کانفرنس میں شرکت کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔