طلبۂ مدارس سے…- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج شام اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) ، کاروانِ امن و انصاف اور اقرأ دیوبند کے اشتراک سے منعقد ہونے والے ایک پروگرام میں شرکت کرنے کا موقع ملا ، جس میں خاص طور پر طلبۂ مدارس کو مخاطب بنایا گیا تھا _ اس میں اسپیکر کی حیثیت سے بہ طور خاص ان فارغینِ مدارس کو مدعو کیا گیا تھا جنھوں نے جدید علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور ملک کی مختلف اہم عصری جامعات میں تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں ، یا ملک کے انتظامی اداروں میں اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں _ اس پروگرام کا مقصد طلبۂ مدارس کے سامنے ان حضرات کے تجربات کو شیئر کرنا تھا ، تاکہ طلبہ ان سے سبق حاصل کریں اور تعلیم سے فراغت کے بعد جب عملی میدان میں داخل ہوں تو ان کے تجربات سے رہ نمائی حاصل کرسکیں۔

پروگرام کے ذمے داروں نے مجھے اس پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک کیا _ اس میں میری گفتگو کا خلاصہ درج ذیل ہے :

‘استعداد’ کے نام سے منعقدہ طلبۂ مدارس کے لیے دو روزہ آن لائن کیریر گائڈینس کے اس پروگرام پر میں اس کے ذمے داروں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں _ اس سے پہلے بھی SIO نے طلبۂ مدارس کے لیے مختلف اچھے پروگرام منعقد کیے ہیں _ اس دو روزہ پروگرام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس سے ان شاء اللہ طلبۂ مدارس کو inspiration حاصل ہوگا _ اس میں جن چند فارغینِ مدارس کو اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا گیا ہے وہ اپنے اپنے میدانوں میں اہم مقام رکھتے ہیں _ مختلف علوم و فنون میں ان کی پہچان ہے _ اسلامیات ، سماجیات ، نفسیات ، سیاسیات ، فن ترجمہ ، میڈیا و صحافت ، معاشیات ، مالیات ، طب و صحت ، قانون اور تجارت کے شعبوں میں وہ اہم خدمات انجام دے رہے ہیں _ یہ حضرات اپنے جو تجربات بیان کریں گے ان سے طلبۂ مدراس کو فائدہ ہوگا ، ان کا ذہنی افق وسیع ہوگا اور ان کے لیے راہیں کھلیں گی۔

ایک زمانہ تھا جب طلبۂ مدارس کے لیے راہیں بہت مسدود تھیں _ وہ صرف مکاتب و مدارس کے معلّم اور مساجد کے ائمہ اور مؤذنین بن سکتے تھے ، لیکن کچھ عرصہ پہلے انہیں عصری جامعات میں تعلیم کے مواقع حاصل ہونے شروع ہوئے ہیں تو ان کے لیے آفاق بہت وسیع ہوگئے ہیں _

طلبۂ مدارس آئندہ اپنی زندگی کے لیے جو راہ بھی منتخب کریں اگر وہ تین باتیں اپنے سامنے رکھیں تو وہ کام یابی کی راہ پر گام زن ہوں گے اور منزل ان کے قدم چومے گی :

(1) اخلاص :
وہ ہمیشہ اخلاص کو اپنے پیش نظر رکھیں _ جو کام بھی کریں اللہ کی خوش نودی کے لیے کریں اور خلقِ خدا کو نفع پہنچانے کے ارادے سے کریں _ وہ خالص دینی علوم حاصل کریں گے ، لیکن محض پیسہ کمانا اور آسائش فراہم کرنا ان کے پیش نظر ہوگا تو بارگاہ الٰہی میں وہ اجر سے محروم ہوں گے ، لیکن اگر دنیاوی علوم میں سے کوئی علم وہ رضائے الٰہی اور نافعیت کے جذبے سے حاصل کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی خوش نودی سے ضرور بہرہ ور ہوں گے۔

(2) اتقان یعنی اپنے فن میں مہارت :
وہ جو علم بھی حاصل کریں ، جو میدان بھی اپنے لیے منتخب کریں ، جو کام بھی کریں اسے اعلیٰ معیار کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں _ آج کے دور میں کم معیاری کام یا اوسط معیار کے کام کے ذریعے منزل مقصود حاصل نہیں کی جاسکتی _ اپنا لوہا منوانے اور اپنی قدر پہچنوانے کے لیے فنّی مہارت اور اعلیٰ صلاحیت ناگزیر ہے۔

(3) اختصاص :
آج کا دور اختصاص (Specialization) کا ہے _ ہر فن مولا بننے کا زمانہ گزر گیا _ پہلے علوم و فنون کا دائرہ محدود تھا تو ایک شخص کئی علوم کا ماہر سمجھا جاتا تھا ، لیکن آج کے دور میں ایک ایک علم کی بیسیوں شاخیں ہو گئی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے لیے جو میدان منتخب کریں اس کی کسی ایک فرع میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی طلبۂ ندوہ کو خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ ان باتوں کی تلقین کرتے تھے _ ان کے یہ مؤثر خطابات ‘پاجا سراغِ زندگی’ نامی کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں _ مدرسہ کے ہر طالب علم کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

افتتاحی پروگرام سے ڈاکٹر محمد طارق ایوبی صدر کاروانِ امن و انصاف و مہتمم مدرسۃ العلوم الاسلامیۃ علی گڑھ اور مولانا مہدی حسن عینی ڈائریکٹر اقرأ دیوبند نے بھی خطاب کیا _ پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی صدر شعبۂ اسلامیات مولانا آزاد یونی ورسٹی حیدر آباد نے شعبۂ علوم اسلامیہ میں داخلہ کے امکانات پر روشنی ڈالی۔

افتتاحی پروگرام میں ڈھائی سو سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ اس کے بعد دو سیشن منعقد ہوئے _ یہ کل بھی جاری رہے گا اور مختلف علوم کے ماہرین اپنے تجربات شیئر کریں گے _ اسے ریکارڈ کیا جارہا ہے _ اگر اس کے ویڈیو عام کردیے جائیں تو بڑے پیمانے پر ان سے استفادہ کیا جاسکے گا۔